تازہ ترین
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید567 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 67 ہزار 393 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 16 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 344 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 39 ہزار 200 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر1704 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 1.44 فیصدرہی،این سی اوسی

طالبان کا مخلوط طریقہ تعلیم کو ترک کرنے کا فیصلہ

Published On 12 September,2021 08:19 pm

کابل: (دنیا نیوز) افغانستان کے ہائر ایجوکیشن منسٹر مولوی عبدالباقی حقانی نے یونیورسٹیز میں خواتین کی تعلیم کا طریقہ کار وضع کرتے ہوئے کوایجوکیشن کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

مولوی عبدالباقی حقانی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خواتین اور مرد علیحدہ علیحدہ تعلیم حاصل کریں گے۔ تاہم خواتین پروفیسرز کی عدم موجودگی میں مرد پروفیسرز طالبات کو تعلیم دے سکیں گے۔

کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خواتین اور مرد علیحدہ علیحدہ تعلیم حاصل کریں گے۔ طالبات کی تعلیم کیلئے خواتین ٹیچر کی تلاش میں ہیں، کمی کی صورت میں مرد اساتذہ ہی طالبات کو پڑھائیں گے، تاہم طالبات کو نقاب پہننا ہوگا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی نے افغانستان کی بد ترین معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہا کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک سال بعد 97 فیصد افغان غربت کی لکیر سے نیچے پہنچ جائیں گے۔ افغان سینٹرل بینک نے صورتحال کے پیش نظر بینکوں کو ترسیلات زر کو مقامی کرنسی میں ادا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

ادھر یورپی ممالک میں نئی طالبان حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ ہیمبرگ، پیرس، ویانا اور کینیڈا میں احمد مسعود کے حق میں سینکڑوں افغان سڑکوں پر نکل آئے۔