پاکستان
خلاصہ
- حلقہ این اے 128 کی ووٹوں کی دوبارہ گنتی مکمل ،30 ہزار 472 ووٹ جعلی نکلے۔ 21 ہزار 493 بیلٹ پیپرز ہی موجود نہیں بعض ریکارڈ کھاد کے تھیلوں میں ڈالا گیا تھا۔
لاہور: (دنیا نیوز) لاہور میں الیکشن ٹربیونل کے جج کاظم ملک کے روبرو حلقہ این اے 128 میں دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف کے کرامت کھوکھر نے درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا کہ مسلم لیگ ن کے ملک افضل کھوکھر دھاندلی سے کامیاب ہوئے۔ فاضل جج کے حکم پر انکوائری نے کمیشن حلقہ کی انسپکشن کر کے اپنی رپورٹ جمع کروا دی جس میں کہا گیا کہ این اے 128 میں 30 ہزار 472 ووٹ جعلی ثابت ہوئے اور سرکاری بیگز میں 21 ہزار 493 بیلٹ پیپرز ہی موجود نہیں اور نہ ان کا ریکارڈ موجود ہے لیکن فائلوں میں ان ووٹوں کا اندراج کیا گیا ہے جبکہ درجنوں پولنگ اسٹینشوں پر بیلٹ پیپرز سرکاری تھیلوں کے بجائے کھاد کے تھیلوں میں ڈال کر ریٹرننگ آفیسر کو جمع کروائے گے۔ رییٹرننگ آفیسر کے مطابق اس حلقہ میں 2 لاکھ 23 ہزار 132 کل ووٹ کاسٹ ہوئے لیکن ریکارڈ کے مطابق 1 لاکھ 92 ہزار 660 ووٹ کاسٹ ہوئے۔ ریٹرننگ آفیسر نے 30472 ووٹوں کا زائد اندراج کیا اس کے علاوہ پٹواری راحیل اصغر نے بطور اسٹنٹ پرزئیڈانگ آفیسر پولنگ اسٹیشن نمبر 11 میں فرائض سرانجام دئیے جس پولنگ اسٹیشن پر پٹواری نے ڈیوٹی دی وہاں بیلٹ پیپرز کا کوئی ریکارڈ نہیں سب ووٹ غائب ہو گئے جبکہ 175 پولنگ اسٹیشنز کے پرزائیڈنگ افسران نے بیلٹ پیپرز کا ریکارڈ ہی جمع نہیں کروایا کہ کتنے بیلٹ پیپرز استعمال ہوئے اور کتنے ضائع کیے گئے اس کا کوئی بھی ریکارڈ موجود نہیں۔ عدالت کی جانب سے فیصلہ سنانے سے قبل ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی نے جج پر عدم اعتماد کر کے الیکشن کمیشن کو کیس ٹرانسفر کرنے کے لیے درخواست بھجوا دی ہے جس کے باعث فیصلہ التواء کا شکار ہے۔