وزیر داخلہ کی زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس بلانتیجہ ختم

وزیر داخلہ کی زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس بلانتیجہ ختم

لاہور/راولپنڈی: (دنیا نیوز) فیض آباد آپریشن کے بعد ملک بھر میں مظاہروں اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

دنیا نیوز براہ راست دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں: 

 

11:00 PM

ذرائع کا کہنا ہے کہ فیض آباد دھرنے کیخلاف آپریشن کے بعد وفاقی وزیر داخلہ کی زیرصدارت اعلیٰ سطع کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی جبکہ راولپنڈی کی انتظامیہ، پولیس اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے کانفرنس میں شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں دو گھنٹے تک حالات کا جائزہ لینے کے بعد بھی کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ اجلاس میں اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس نے دوبارہ آپریشن کی مخالفت کر دی۔ اجلاس کے بعد وزیر داخلہ احسن اقبال وزیر اعظم کو صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ اجلاس سے قبل چیف کمشنر، آئی جی اور دیگر حکام نے رینجرز کے حکام سے بھی اسلام آباد میں ملاقات کی تھی۔

10:20 PM

فیصل آباد میں جامعہ چشتیہ چوک پر جمع مظاہرین نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ صبح 8 بجے دوبارہ ضلع کونسل چوک میں دھرنا دیا جائے گا۔

9:40 PM

کراچی سے اندرون ملک ٹرین سروس 9 گھنٹے بعد بھی بحال نہیں ہو سکی۔ کراچی سے راولپنڈی کیلئے 1 بجے روانہ ہونے والی پاکستان ایکسپریس اب تک ڈرگ روڈ پر کھڑی ہے۔ سٹی اور کینٹ سٹیشن سے بھی اندرون ملک کے لئے 9 ٹرینیں روانہ نہیں ہو سکیں۔ ریلوے سٹیشنوں پر بھی سینکڑوں مسافروں نے ٹکٹ واپس کر دیئے ہیں۔ ریلوے حکام کے مطابق، کسی ٹریک پر دھرنا نہیں لیکن سکیورٹی کلیئرنس ملنے تک ٹرینیں نہیں چلا سکتے۔

9:20 PM

لاہور کے علاقے شاہدرہ موڑ، امامیہ کالونی، پھاٹک، بابو صابو، گلشن راوی روڈ، پکا میل سٹاپ، موہلن وال، ٹھوکر نیاز بیگ، بند میاں چوک، گرین ٹاؤن، شاہکام چوک، شادی وال، کھاڑک نالہ، اچھرہ، فیصل چوک، مال روڈ، کاہنہ چوک، چونگی امر سدھو، بھٹہ چوک، داروغہ والا، مانگا منڈی، لوہاراں والا کھوہ اور شامکے بھٹیاں بھی ٹریفک کیلئے بند ہیں۔ اہل لاہور اور ملک کے دیگر علاقوں سے لاہور آنے والوں کو جگہ جگہ سڑکوں کی بندش کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

9:00 PM

فیصل آباد میں اسلام آباد آپریشن کے خلاف سراپا احتجاج مظاہرین نے دھرنے کا مقام تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مظاہرین ضلع کونسل چوک سے جامعہ چشتیہ چوک کی طرف روانہ ہو گئے۔ مظاہرین جامعہ چشتیہ چوک میں دھرنا دیں گے۔

8:45 PM

حکومت نے اسلام آباد میں قیام امن کیلئے فوج طلب کر لی ہے۔ وزارت داخلہ نے فوج کی طلبی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں قیام امن کو یقینی بنانے کیلئے فوجی جوان تعینات کئے جائیں گے۔ فوج انتظامیہ کی درخواست پر آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت طلب کی گئی ہے۔

 8:35: PM

ترجمان پی ٹی اے کے مطابق، ملک میں اس وقت سوشل میڈیا سائٹس بند ہیں، بند ہونیوالی سائٹس میں فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب اور ڈیلی موشن شامل ہیں، سکیورٹی صورتحال بہتر ہونے تک یہ سائٹس بند رہیں گی۔ ترجمان پی ٹی اے نے مزید کہا کہ ملک میں موبائل سروس کی بندش کا فیصلہ تاحال نہیں ہوا، موبائل سروس کی بندش کے حوالے سے کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی۔

8:25 PM

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے فیض آباد آپریشن کیخلاف 27 نومبر کو مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا۔

8:15 PM

پمز حکام کے مطابق، ہسپتال میں 186 زخمی لائے گئے۔ زخمیوں میں پولیس کے 73 اہلکار اور 53 عام شہری شامل ہیں۔ حکام کے مطابق، ایمرجنسی میں 100 سے زائد بیڈز ہیں اور دوائیں وافر مقدار میں سٹاک کی گئی ہیں۔ ابھی تک پمز میں ہلاکت کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

8:00 PM

اسلام آباد دھرنا ختم کرانے کیلئے ساڑھے بارہ گھنٹے سے جاری آپریشن ابتک بے نتیجہ ہے۔ انتظامیہ بے بس نظر آ رہی ہے۔ مظاہرین کا فیض آباد پر مکمل کنٹرول ہے۔ وقفے وقفے سے جھڑپیں بھی جاری ہیں۔ سکیورٹی فورسز 300 سے زائد افراد کو گرفتار کر چکی ہیں۔

7:50 PM

محکمہ داخلہ پنجاب کی اپیل پر رینجرز اہلکار لاہور پہنچ گئے۔ اہلکاروں نے مال روڈ پر گشت کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد مذہبی رہنماؤں کی نظر بندی کا بھی امکان ہے۔

7:40 PM

 بے نظیر ہسپتال میں زیرعلاج مزید 3 زخمی دم توڑ گئے ہیں۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق، مرنے والوں کی تعداد 5 ہو گئی ہے۔

   پی بی اے کی صحافیوں پر حملوں کی مذمت

 فیض آباد آپریشن کے دوران پی بی اے نے صحافیوں پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ آپریشن کے دوران دنیا نیوز کے رپورٹر قمر المنور بھی زخمی ہوئے۔ مظاہرین کی جانب سے ڈی ایس این جیز پر حملے کئے گئے۔ پی بی اے نے رپورٹرز اور کیمرہ مین پر تشدد کی مذمت کی ہے۔ پی بی اے نے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں اور املاک کو نشانہ بنانے والوں کیخلاف ایکشن لیا جائے۔

مشتعل مظاہرین نے 2 ڈی ایس این جیز پر حملہ کیا۔ مظاہرین نے ایک نجی ٹی وی کی ڈی ایس این جی جلائی۔ پی بی اے نے نے کہا ہے کہ صحافیوں پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پی بی اے تشدد کے ایسے تمام واقعات کی مذمت کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں احتجاج، ہوائی فائرنگ، شیلنگ اور پتھراؤ، اہلکاروں سمیت 28 افراد زخمی

پی بی اے کا کہنا ہے کہ ہم نے ہمیشہ سپریم کورٹ کے منظورکردہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کی، آئین کے تحت معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، پی بی اے ممبرز نے دھرنے کی کوریج کا کام ذمہ داری سے انجام دیا، دھرنے کے اثرات اور عدالتوں کے فیصلوں کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی اور حساس سکیورٹی آپریشنز پر کوریج کے ضابطہ اخلاق کی پابندی کی۔

پی بی اے نے کہا ہے کہ سکیورٹی آپریشنز میں خلل نہیں ڈالنا چاہتے، لائیو کوریج نہیں کریں گے مگر پیمرا کو تمام چینلز کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکنا چاہئے، نیوز چینلز کی بندش ہرگز قبول نہیں۔
 

وزیر داخلہ احسن اقبال کی دنیا نیوز سے گفتگو

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کو احتیاطاً بند کیا، جلد کھول دیا جائے گا، سکیورٹی آپریشن کی براہ راست کمنٹری نہیں ہو سکتی، چند چینلز بہت محتاط رہے چند نے دھرنا مظاہرین کی نمائندگی کی، یہ نہیں کہا کہ مظاہرین کے انڈیا سے رابطے ہیں، یہ کہا کہ دشمن اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیض آباد میں گھمسان کا رن: فورسز کی شیلنگ، مظاہرین کا پتھراؤ، 220 اہلکار زخمی

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے عناصر دشمن کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں، انتظامیہ نے پُرامن حل کیلئے ہر ممکن کوشش کی، دھرنے والوں کے خلاف صبر کا مظاہرہ کیا۔ میڈیا سکیورٹی آپریشن کی کوریج نہ کرے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سکیورٹی آپریشن کی کوریج نہ کرنا میڈیا کی ذمہ داری ہے، میڈیا کو ایڈوائزی جاری کی تھی، پیمرا نے میڈیا کو سکیورٹی آپریشن کی کوریج سے روکا تھا۔

7:21 PM

اسلام آباد میں مظاہرین نے فیض آباد میٹرو سٹیشن پر توڑ پھوڑ کی۔ مظاہرین نے فیض آباد میٹرو سٹیشن کے شیشے توڑ دیئے اور جنگلے بھی اکھاڑ دیئے۔ مظاہرین مری روڈ اور اطراف کے علاقوں میں موجود ہیں۔

7:18 PM

لاہور میں مظاہرین نے شاہدرہ کو چاروں اطراف سے ٹرک لگا کر بند کرنا شروع کر دیا ہے۔ ادھر، رینجرز اہلکار مال روڈ پر پہنچ گئے ہیں اور پنجاب اسمبلی کے اردگرد پوزیشنیں سنبھال چکے ہیں۔

7:15 PM

اوکاڑہ میں مذہبی جماعتوں کے کارکنان کی جانب سے جی ٹی روڑ پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ شادی کے لئے جانیوالا دولہا بھی احتجاج میں شامل ہو گیا۔

6:27 PM

وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے چودھری نثار کو ٹیلی فون کیا۔ شہباز شریف نے چودھری نثار کی خیریت دریافت کی۔ چودھری نثار نے شہباز شریف کو حملے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

6:25 PM

کھاریاں میں مذہبی جماعتوں کے کارکنان نے تھانہ کھاریاں صدر پر حملہ کر دیا۔ مشتعل مظاہرین نے تھانے میں موجود موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ مشتعل مظاہرین نے ڈی ایس پی آفس پر حملہ کیا اور پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کی۔ پولیس نے مظاہرین پر شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کیا اور 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

6:21 PM

ذرائع کے مطابق، آپریشن کی ناکامی کے بعد شہر اقتدار میں پولیس، رینجرز اور انتظامیہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ڈی جی رینجرز پنجاب، چیف کمشنر، آئی جی اسلام آباد اور رینجرز کے سیکٹر کمانڈر بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے نئی حکمت عملی پر بھی غور ہو رہا ہے۔

6:17 PM 

اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں 220 زخمی لائے گئے ہیں۔ پمز میں لائے گئے زخمیوں کی تعداد 150 ہو گئی ہے۔ زخمیوں میں 57 پولیس اور 44 ایف سی کے اہلکار شامل ہیں۔ پمز میں لائے گئے زخمیوں میں 50 مظاہرین اور شہری بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔ 

6:01 PM

لاہور میں شاہدرہ چوک میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ مظاہرین کے ساتھ جھڑپ کے دوران ڈی ایس پی اعجاز، کانسٹیبل امتیاز اور سلیم زخمی ہو گئے۔

5:50 PM

پولیس کا ایک بھی اہلکار مری روڈ پر موجود نہ ہونے کے باعث مظاہرین مری روڈ اور میٹرو ٹریک پر آزاد نقل و حمل کرتے رہے۔ چاندنی چوک سے فیض آباد سٹیشن تک میٹرو ٹریک پر مظاہرین نے قبضہ جما لیا۔ تھوڑ پھوڑ کرنے والے مظاہرین کو روکنے کیلئے کوئی بھی نہ آیا۔

   سیالکوٹ میں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کی حویلی پر مشتعل مظاہرین نے دھاوا بول دیا۔ مشتعل مظاہرین نے حویلی پر پتھراؤ کیا جس سے حویلی کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو منتشر کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف کا وزیر اعظم کو فون، دھرنے کا پُرامن حل نکالنے کا مشورہ

 امدادی ذرائع کے مطابق، سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کے گھر کے باہر دوران آپریشن فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ تاحال جاں بحق شخص کا نام معلوم نہیں ہو سکا۔ ریسکیو اہلکاروں نے جاں بحق شخص کی لاش کو ہسپتال منتقل کر دیا۔ ذرائع کے مطابق، حملے کے وقت چودھری نثار اپنے گھر پر ہی موجود تھے۔

چودھری نثار کے گھر کے قریب فرنیچر گودام کو آگ لگا دی گئی۔ مظاہرین نے امدادی ٹیموں کو آگ بجھانے سے روک دیا۔ چودھری نثار کی حویلی پر شدید جھڑپ ہوئی اور مظاہرین گھر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔ مظاہرین کی جانب سے گودام  میں لگی آگ کو.بھجانے سے روک دیا گیا۔ شدید بحرانی کیفیت کے باعث عمارت کی تیسری منزل پر لگنے والی آگ پھیلنے لگی جسے بعد ازاؓ بمشکل کنٹرول کیا گیا۔

ادھر، شیخوپورہ کے علاقے بتی چوک پر لیگی رہنماء میاں جاوید لطیف مظاہرین سے مذاکرات کیلئے پہنچے تو مظاہرین نے ان پر حملہ کر دیا اور وہ شدید زخمی ہو گئے۔ سکیورٹی انچارج منظور احمد بھی مظاہرین کے تشدد سے زخمی ہو گئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ مشتعل مظاہرین نے پورے شہر میں جگہ جگہ احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ بچے سکولوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ لوگوں کیلئے گھروں اور دفاتر سے نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔

 

اسلام آباد میں دھرنا ختم کرانے کیلئے آپریشن کے خلاف پنجاب کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ لاہور میں بھی فیروزوالہ کے علاقے امامیہ کالونی میں مظاہرین جی ٹی روڈ پر آ گئے جہاں ٹائر جلا کر لاہور سے گوجرانوالہ جانے والا راستہ بلاک کر دیا گیا۔ احتجاج کرنے والوں نے فیروزوالہ میں ریلوے ٹریک بند کر دیا۔ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ اور لاٹھی چارج پر مطاہرین کی جنب سے جوابی پتھراؤ کیا گیا۔

فیصل آباد کے مختلف علاقوں میں بھی مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ رجانہ چوک میں ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کر دی گئی ہے۔ سمندری کے علاقے میں احتجاج سے سرگودھا روڈ پر ٹریفک معطل ہو گئی ہے۔ مظاہرین کی جانب سے ضلع کونسل چوک میں دھرنا دے کر شہر کا مرکزی چوک بھی بند کر دیا گیا ہے۔

گوجرانوالہ میں چن دا قلعہ بائی پاس پر ڈنڈا بردار کارکن جمع ہو گئے ہیں اور شدید نعرے بازی کر رہے ہیں۔ احتجاج کے باعث ٹریفک روانی معطل ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔

نارووال میں وزیر داخلہ کے گھر کے باہر پولیس ہائی الرٹ ہے۔ خاردار تاریں لگا کر پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ شیخوپورہ کے بتی چوک میں مظاہرین نے سڑک بلاک کر کے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ احتجاج کے باعث لاہور، سرگودھا اور فیصل آباد جانے والی سڑک بند ہو گئی ہے۔ قصور میں مظاہرین نے لاہور قصور روڈ کو بند کر دیا ہے۔

اوکاڑہ اور رینالہ خورد میں بھی مظاہرین نے جی ٹی روڈ ٹریفک کیلئے بند کر دی ہے۔

سیالکوٹ میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اگوکی روڈ اور ڈسکہ میں کالج روڈ پر احتجاج کیا گیا۔

قصور میں مظاہرین نے ریلوے روڈ اور لاہور قصور روڈ کو بند کر دیا۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ریلی نکالی گئی۔

میرپور آزاد کشمیر میں بھی چوک شہیداں پر احتجاج کیا گیا۔

بہاولپور میں بھی مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

اچ شریف میں مظاہرین نے الشمس چوک پر احتجاج کیا اور سڑک بلاک کر دی۔ خانیوال میں مظاہرین نے نیازی چوک پر دھرنا دیا اور جی ٹی روڈ بلاک کر دی۔