خلاصہ
- میاں بیوی ڈیفنس رہائشگاہ میں مردہ حالت میں پائے گئے، میر ہزار خان بجارانی صوبائی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ تھے۔
کراچی: (دنیا نیوز) کراچی کے علاقے ڈیفنس میں فلیٹ سے پیپلزپارٹی کے سینئر وزیر میر ہزار خان اور انکی اہلیہ کی لاش برآمد، میاں بیوی ڈیفنس رہائشگاہ میں مردہ حالت میں پائے گئے۔ ذرائع کے مطابق، امکان ہے کہ میر ہزار خان بجارانی نے اہلیہ کو قتل کر کے خود کشی کی تاہم صوبائی وزیر منظور وسان نے ان کی رہائشگاہ کے باہر میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے ایسے کسی امکان کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میر ہزار خان ایسے آدمی نہیں تھے کہ خودکشی کر لیں، وہ نہایت خوش مزاج، زندہ دل اور متحمل مزاج شخص تھے۔
میر ہزار خان اور ان کی اہلیہ روزانہ صبح اٹھ کر چائے پیا کرتے تھے لیکن آج ان کے کمرے کا دروازہ نہ کھلا تو ملازمین کو تشویش ہوئی اور انہوں نے ان کے دروازے پر دستک دی لیکن جب دیر تک دروازہ بجانے کے باوجود اندر سے کوئی ردعمل نہ آیا تو اہلخانہ نے تالا توڑ دیا اور اندر انہیں مردہ پایا۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق، میر ہزار خان کے سر میں ایک جبکہ ان کی اہلیہ کے سر میں تین گولیاں لگی ہیں اور ان کمرے سے گولیوں کے چار خول بھی ملے ہیں۔
تفتیشی ذرائع کا دعویٰ
میر ہزار خان بجارانی اور اہلیہ کی پراسرار موت کے معاملے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ تفتیشی ٹیم نے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ تحویل میں لے لیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق، گھر کے 5 ملازمین کے بیانات بھی قلمبند کر لئے گئے ہیں۔ لاش کے قریب سے ملنے والا پستول میر ہزار خان بجارانی کا تھا۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ میر ہزار خان بجارانی نے اہلیہ کو گولی مار کر خود کشی کر لی۔
.jpg)
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے پیپلزپارٹی کے وزیر اور ان کی اہلیہ کے قتل پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا اللہ دونوں کی مغفرت فرمائے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ گزشتہ پیر میرے گھر پر کھانے میں میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ سے ملاقات ہوئی تھی۔
Very sad to hear about my friends Mir Hazar Khan Bijarani and Fariha Razzaq Haroon shot dead. May their souls rest in peace. Met him on Monday last & Fariha came over for lunch to my house on Saturday
— Dr. Arif Alvi (@ArifAlvi) February 1, 2018
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی پیپلزپارٹی کے سینئر وزیر کے قتل پر اظہار تعزیت کیا اور کہا اللہ دونوں کو جنت میں جگہ عطا فرمائے۔
Shocked to hear news of Mir Hazaar Khan Bijarani and his wife. May Allah Bless their souls Ameen!
— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) February 1, 2018
خیال رہے میر ہزار خان بجارانی پی ایس 16 جیکب آباد سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے، ان کا تعلق ضلع کشمور کے علاقے کرم پور سے تھا۔ میر ہزار خان بجارانی وزیر پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ سندھ کے عہدے پر تھے۔ 4 مرتبہ ایم این اے، 3 بار رکن سندھ اسمبلی اور 1988 میں سینیٹر رہے۔ میر ہزار وفاقی وزیر دفاع، تعلیم اور ریلوے کے منصب پر بھی فائز رہے۔ اہلیہ فریحہ رزاق بھی رکن سندھ اسمبلی رہ چکی ہیں۔

وزیر اطلاعات سندھ
سندھ کے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ میر ہزار خان بجارانی سے خود کشی کی توقع نہیں کی جا سکتی، کوئی دشمنی والی بات بھی نظر نہیں آ رہی، وہ ایسے انسان نہیں تھے کہ خود کشی کرتے، تحقیقات کے بعد حقائق سامنے آئیں گے، جو بھی ملوث ہوں گے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اگر میر ہزار خان بجارانی پریشان ہوتے تق کل کیبنٹ میٹنگ میں شرکت نہ کرتے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا دورہ
وزیر اعلیٰ سندھ اور وزراء مقتول رہنماء کے گھر پہنچے اور جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔ تاہم انہوں نے میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا۔ میر ہزار خان اور ان کی اہلیہ کی لاشیں بھی تاحال ان کی رہائشگاہ پر ہی موجود ہیں۔ سندھ حکومت اور پولیس نے لاشوں کو جناح ہسپتال منتقل کرکے پوسٹمارٹم کرانے کی کوشش کی تاہم، مرحومین کے اہلخانہ پوسٹمارٹم نہیں کرانا چاہتے اور ان کی خواہش ہے کہ لاشوں کو آبائی علاقے میں منتقل کر دیا جائے جہاں ان کی آخری رسومات ادا کرکے انہیں سپرد خاک کر دیا جائے گا۔


آصف زرداری اور بلاول بھٹو کا اظہار افسوس
پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو نے آج تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔ آصف زرداری اور بلاول نے سینئر پی پی رہنماء اور ان کی اہلیہ کی وفات پر اظہار افسوس کیا اور سندھ حکومت کو تحقیقات کا حکم دیا۔
مرحومین کے آبائی علاقے میں صورتحال
واقعے کے بعد کندھ کوٹ کے علاقے میں جلاؤ گھیراؤ کیا گیا اور کاروبار بند کر دیا گیا۔ اہل علاقہ اس اچانک پیش آنے والے حادثے پر نہایت پریشان اور دل گرفتہ ہیں اور میر ہزار خان کو جاننے والوں میں سے کوئی بھی اس بات کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں کہ انہوں نے خودکشی کر لی ہے۔
پوسٹمارٹم رپورٹ
پولیس نے میر ہزار خان اور ان کی اہلیہ کی لاشیں پوسٹمارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کیں جہاں ان کا پوسٹمارٹم کیا گیا تاکہ ان کی موت کے سبب کا تعین کیا جا سکے۔ لاشوں کی ہسپتال منتقلی کے وقت ان کے گھر پر نہایت جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے جہاں مرحومین کے عزیز و اقارب، اہلخانہ اور پارٹی کارکنان روتے ہوئے نظر آئے۔ پولیس ابھی تک مرحوم وزیر کے گھر پر موجود ہے۔ جناح ہسپتال میں میر ہزار خان کا پوسٹمارٹم مکمل ہونے کے بعد ان کی میت ڈیفنس میں امام بارگاہ یثرب منتقل کر دی گئی۔
میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ مرتب کر لی گئی ہے۔ میر ہزار خان بجارانی کی کنپٹی پر قریب سے گولی لگی۔ میر ہزار خان بجارانی کو لگنے والی گولی دوسری طرف سے نکل گئی۔
میر ہزار خان کی اہلیہ فریحہ کو 3 گولیاں لگیں۔ ایک گولی سر پر لگی جو دوسری جانب سے نکل گئی۔ 2 گولیاں فریحہ کے پیٹ اور نچلے حصے پر لگیں۔ فریحہ کو انتہائی قریب سے گولیاں لگیں۔ میر ہزار خان کی اہلیہ فریحہ بی بی کی میت پی این شفا ہسپتال منتقل کر دی گئی ہے۔ ان کے خاندانی ذرائع کے مطابق، فریحہ بی بی کی تدفین کراچی میں ہو گی۔
آئی جی سندھ
آئی جی سندھ بھی جائے حادثہ کا معائنہ کرنے کیلئے میر ہزار خان بجارانی کے گھر پہنچے جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میر ہزار خان بجارانی کیس سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، سب سے پہلے واقعے کا فریحہ بی بی کے بچوں کو علم ہوا، داخلی دروازہ بند تھا، بچے عقبی دروازے سے گھر میں داخل ہوئے، پولیس نے جائے وقوعہ سے ملنے والا پستول تحویل میں لے لیا ہے۔ آئی جی سندھ نے بتایا کہ دونوں میاں بیوی کو ایک ایک گولی لگی، گھر کے سی سی ٹی وی کیمرے اور ڈی وی آر تحویل میں لے لئے ہیں، 5 ملازمین کو پوچھ گچھ کے لئے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے، بیان قلمبند کرنے کے بعد انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔
میت آبائی علاقے کی جانب روانہ
میر ہزار خان بجارانی کی میت سکھر منتقل کی جا رہی ہے جہاں سے اسے ان کے آبائی لاقے کرم پور منتقل کیا جائے گا جہاں ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور انہیں سپرد خاک کر دیا جائے گا۔