وزیراعظم کی تشکیل کردہ اقتصادی مشاورتی کونسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار

وزیراعظم کی تشکیل کردہ اقتصادی مشاورتی کونسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار

ملکی معیشت کو ڈگر پر لانے سے پہلے ہی وزیراعظم عمران خان کی 18 رکنی اقتصادی مشاورتی کونسل ڈگمگانے لگی۔ مذہبی اور دیگر حلقوں کی تنقید پر عاطف میاں کو کونسل سے نکال دیا گیا، جس کے بعد ماہر معاشیات عاصم اعجاز خواجہ اور عمران رسول نے بھی کونسل کی رکنیت سے احتجاجا استعفی دے دیا ہے۔

معاہر معاشیات عاصم خواجہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ "اقتصادی مشاورتی کونسل سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ بہت تکلیف دہ اور افسردہ کن تھا۔ ذاتی طور پر بحیثیت مسلمان عاطف میاں کو ہٹائے جانے کے اقدام کا جواز تلاش نہیں کرسکتا۔ اللہ ہم سب کو معاف کرے اور ہدایت دے۔

عمران رسول نے بھی ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ بوجھل دل کے ساتھ اقتصادی مشاورتی کونسل سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ عاطف میاں کو جن حالات میں عہدے سے مستعفی ہونے کو کہا گیا، ان سے قطعاً اتفاق نہیں کرتا، مذہب کی بنیاد پر فیصلے ان کے اصولوں اور اقدار کے خلاف ہیں۔