’جنرل سلیمانی کا قتل، امریکی حملے سے افغان امن عمل پر منفی اثرات مرتب ہونگے‘

Last Updated On 06 January,2020 07:02 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایرانی جنرل قام سلیمانی کے قتل پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملے سے افغان امن عمل اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا یہ خطہ عرصہ دراز سے کشیدگی اور عدم استحکام کا شکار رہا، موجودہ حالات نے نئے تناؤ اور کشیدگی کو جنم دیا، بغداد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کیا گیا، امریکا نے ایران اور جنرل قاسم سلیمانی کو احتجاج کا ذمہ دار ٹھہرایا، 3 جنوری کو ڈرون حملے میں ایرانی جنرل سلیمانی کو نشانہ بنایا گیا، ڈرون حملے میں ایرانی جنرل سلیمانی، ابو مہدی المہندس سمیت 9 افراد مارے گئے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا خطے پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں نے اس حملے کو تشویشناک قرار دیا، حملے کے بعد ایران میں احتجاج کی کیفیت بن گئی، ایرانی عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، ایرانی حکومت نے قومی سلامتی کا اجلاس بلایا، عراق میں بھی ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی، عراق میں اس واقعہ کے خلاف عوامی ردعمل سامنے آیا، موجودہ حالات نے نئے تناؤ اور کشیدگی کو جنم دیا، مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

 

وزیر خارجہ نے کہا ایران سمیت دوست ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات چیت ہوئی، دیگر ممالک سے بھی رابطوں کی کوشش کر رہے ہیں، یورپی یونین کے سامنے بھی اپنا موقف پیش کریں گے، مشرق وسطیٰ کی صورتحال کوئی بھی کروٹ لے سکتی ہے، ایرانی صدر حسن روحانی اس واقعہ کو عالمی دہشتگردی قرار دے چکے، جواد ظریف نے کہا یہ قدم احمقانہ تھا اور اس سے کشیدگی بڑھے گی۔