ضمنی انتخاب: پی ٹی آئی نے میدان مار لیا، 15 نشستوں پر کامیاب، ن لیگ 4 تک محدود

Published On 17 July,2022 05:09 pm

لاہور: (دنیا نیوز، ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم عمران خان کا بیانیہ جیت گیا، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 20 میں سے 15سیٹوں پر پی ٹی آئی، 4 پر مسلم لیگ ن جبکہ ایک پر آزاد امیدوار کامیاب ہوا۔

ان 20 نشستوں میں لاہور کی 4، راولپنڈی کی ایک، خوشاب کی ایک، بھکر کی ایک، فیصل آباد کی ایک، جھنگ کی 2، شیخوپورہ کی ایک، ساہیوال میں ایک، ملتان میں ایک، لودھراں میں 2، بہاولنگر میں ایک، مظفر گڑھ میں 2، لیہ میں ایک اور ڈیرہ غازی خان کی ایک نشست شامل ہے۔

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج

پی پی 7 راولپنڈی:

 

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی 7 راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ صغیر احمد 68906 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کرنل (ر) شبیر اعوان 68857 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

2018ء کے عام انتخابات میں آزاد امیدوار ملک غلام رسول سنگھا کامیاب ہوئے تھے اور پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے، انہوں نے مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد آصف ملک، آزاد امیدوار ملک ظفر اللہ خان بگٹی اور تحریک انصاف کے گل اصغر خان کو زیر کیا تھا۔

پی پی 83 خوشاب:

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی 83 خوشاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار حسن اسلم نے کامیابی حاصل کی، انہوں نے 50 ہزار 749 ووٹ حاصل کیے۔ آزاد امیدوار اسلم بھاء نے 43 ہزار 587 ووٹ حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی۔

2018ء کے عام انتخابات میں آزاد امیدوار ملک غلام رسول سنگھا کامیاب ہوئے تھے اور پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے، انہوں نے مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد آصف ملک، آزاد امیدوار ملک ظفر اللہ خان بگٹی اور تحریک انصاف کے گل اصغر خان کو زیر کیا تھا۔

پی پی 90 بھکر:

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے عرفان اللہ نیازی 77865 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار سعید اکبر نوانی 66513 لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

2018ء کے جنرل الیکشن میں آزاد امیدوار سعید اکبر خان نوانی نے فتح حاصل کی اور پی ٹی آئی میں شامل ہوئے، انہوں نے ن لیگ کے عرفان اللہ خان نیازی اور پی ٹی آئی کے احسان اللہ کو شکست دی تھی۔

پی پی 97 فیصل آباد:

غیر حتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار علی افضل ساہی 67022 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ ن کے محمد اجمل چیمہ 54266 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

2018ء کے جنرل انتخابات میں انہی امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا تھا، اجمل چیمہ نے بطورِ آزاد امیدوار فتح حاصل کر کے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

پی پی 125 ، 127جھنگ:

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اعظم چیلہ نے 82297 ووٹ حاصل کیے اور فتح حاصل کی جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار فیصل حیات جبوانہ نے 52277 ووٹ لیکر دوسری پوزیشن حاصل کی۔

پی پی 127 میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار مہر نواز بھروانہ نے 71648 ووٹ حاصل کر کے فتح کو گلے لگایا جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار مہر اسلم بھروانہ نے 47413 ووٹ حاصل کیے۔

2018ء کے جنرل انتخابات میں پی پی 125 سے آزاد امیدوار فیصل حیات جبوانہ نے فتح سمیٹی تھی اور میاں اعظم چیلہ کو شکست دی تھی جبکہ پی پی 127 سے بھی آزاد امیدوار مہر محمد اسلم بھروانہ نے مہر محمد نواز بھروانہ کو پچھاڑا تھا۔

پی پی 140 شیخوپورہ:

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار خرم شہزاد ورک نے 50 ہزار 166 ووٹ حاصل کیے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار میاں خالد محمود نے 32 ہزار 105 ووٹ حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی۔

2018ء کے جنرل الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار میاں خالد محمود نے مسلم لیگ ن کے امیدوار یاسر اقبال کو شکست دی تھی۔

پی پی 158لاہور

پی پی 158 سے پاکستان تحریک انصاف کے اکرم عثمان نے 37463 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی، ن لیگ کے امیدوار رانا احسن شرافت 13906 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 167لاہور

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے پی پی 167 سے امیدوار چودھری شبیر گجر نے فتح حاصل کی، انہوں نے 40511 ووٹ حاصل کیے، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار نذیر چوہان 26473 ووٹ حاصل کر سکے۔

پی پی 168لاہور

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی 168 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ملک اسد کھوکھر 26169 ووٹ لیکر پہلے نمبر پر رہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار 15 ہزار 767 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 170 لاہور

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار ظہیر عباس کھوکھر نے 24688 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ٹھہرے، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد امین ذوالقرنین نے 17519 ووٹ حاصل کیے۔

2018ء میں صوبائی دارالحکومت لاہور کے چار حلقوں میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کا جوڑ پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں سے پڑے گا۔ چاروں حلقوں میں پی ٹی آئی نے فتح حاصل کی تھی، تاہم حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کی پاداش میں تمام امیدوار ڈی سیٹ ہو گئے ہیں۔

پی پی 202 چیچہ وطنی

پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار میجر (ر) غلام سرور نے 62 ہزار 298 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ٹھہرے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار نعمان لنگڑیال نے 59151  ووٹ حاصل کیے۔

2018ء کے جنرل الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ملک نعمان لنگڑیال نے ن لیگ کے شاہد منیر کو 13 ہزار کی ووٹوں سے شکست دی تھی۔

پی پی 217 ملتان

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 122 پولنگ سٹیشنوں میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے امیدوار مخدوم زین قریشی نے 47349  ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد سلمان نعیم 40425 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

واضح رہے کہ فاتح امیدوار زین قریشی سابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے ہیں۔

محمد سلمان نعیم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف رکن تھے اور جہانگیر ترین گروپ کے حصے ہونے کے باعث وزارتِ اعلیٰ کے الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کے باعث ڈی سیٹ ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ 2018ء کے جنرل الیکشن میں بطورِ آزاد امیدوار محمد سلمان نعیم نے تحریک انصاف کے وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی کو شکست دی تھی اور جہانگیر ترین کے توسط سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکن تھے تاہم ان کو ٹکٹ نہیں دیا گیا جس کے باعث یہ آزاد امیدوار میدان میں اُترے تھے۔

پی پی 224، 228 لودھراں:

پی پی 228 لودھراں میں آزاد امیدوار رفیع الدین بخاری نے کامیابی حاصل کی، انہوں نے 45020 ووٹ حاصل کیے۔ پی ٹی آئی کے کیپٹن (ر) عزت جاوید 34 ہزار 635 ووٹ لے کر دوسرے جبکہ مسلم لیگ ن کے نذٰیر احمد بلوچ 38 ہزار 338 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 224 لودھراں سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عامر اقبال شاہ 69881 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار زوار حسین وڑائچ 56214 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

2018ء کے جنرل الیکشن میں دونوں حلقوں زوار حسین وڑائچ نے ن لیگ کے رہنما محمد عامر اقبال شاہ اور نذیر احمد خان نے مسلم لیگ ن کے سیّد محمد رفیع الدین بخاری کو پچھاڑا تھا، پی ٹی آئی کے دونوں فاتح امیدوار اب ضمنی الیکشن میں ن لیگ کے پلیٹ فارم سے حصہ لے رہے ہیں۔

پی پی 237 بہاولنگر:

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار فدا حسین وٹو نے 61248 ووٹ حاصل کیے اور کامیابی کو گلے لگایا، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سیّد آفتاب رضا نے 25227 ووٹ حاصل کیے۔۔

2018ء کے جنرل الیکشن میں آزاد امیدوار فدا حسین نے پاکستان تحریک انصاف کے محمد طارق عثمان کو شکست دی تھی، اور بعد میں جہانگیر ترین خان کے توسط سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے۔

پی پی 272، 273 مظفر گڑھ:

پی پی 272 میں پاکستان تحریک انصاف کے معظم جتوئی 46096 ووٹ لیکر فاتح ٹھہرے جبکہ زہرہ باسط بخاری 36401  ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہیں۔

پی پی273 میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد سبطین رضا نے فتح حاصل کی انہوں نے 59679  ووٹ حاصل کیے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے یاسر عرفات جتوئی 51232 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

2018ء کے بائی الیکشن کے دوران زہرہ بتول نے کامیابی حاصل کی تھی، انہوں نے آزاد امیدوار سیّد ہارون احمد بخاری کو ہرایا تھا جبکہ پی پی 273 میں پاکستان تحریک انصاف کے سبطین رضا بخاری نے آزاد امیدوار رسول بخش کو پچھاڑا تھا۔

پی پی 282 لیہ:

پاکستان تحریک انصاف کے قیصر عباس مگسی 43922 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ٹھہرے جبکہ لالہ طاہر رندھاوا 29715 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

2018ء کے الیکشن میں آزاد امیدوار لالہ طاہر رندھاوا نے پی ٹی آئی کے قیصر عباس خان کو شکست دیکر فتح حاصل کی تھی۔

پی پی 288 ڈی جی خان :

پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سیف الدین کھوسہ نے 58 ہزار 166 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار عبد القادر کھوسہ نے 32 ہزار 212 ووٹ حاصل کیے۔

2018ء کے جنرل الیکشن کے دوران اس حلقے میں محسن عطاء خان کھوسہ نے بطورِ آزاد امیدوار کامیابی حاصل کی تھی اور پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

 لڑائی جھگڑے

پنجاب میں ضمنی الیکشن کے دوران لڑائی جھگڑے کے واقعات پیش آئے، مخالفین نے ایک دوسرے پر ڈنڈے سوٹوں سے حملے کئے، پولیس کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ کرنا پڑی۔

 پنجاب میں ضمنی انتخابات کے دوران کہیں لڑائی جھگڑا تو کہیں تصادم، کسی کا سر پھٹا تو کوئی شکایت کرتا دکھائی دیا۔ لاہور کے حلقہ پی پی 168 اعوان مارکیٹ پولنگ سٹیشن 50 اور 51 میں بدنظمی دیکھی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے ووٹرز آمنے سامنے آئے۔ نعرے بازی ہوئی ،ایک دوسرے پر الزامات بھی لگائے۔

پی پی 158 میں یوسی دھرم پورہ پولنگ اسٹیشن میں اندر جانے پر پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکن آمنے سامنے آئے۔ پی پی 158 میں ہی جھگڑے کے دوران ن لیگ کے کارکن کا سر پھٹ گیا ، زخمی کارکن نے الزام عائد کیا کہ جمشید اقبال چیمہ کے کہنے پر اُسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

واقعہ رپورٹ ہوا تو عطا تارڑ نے نوٹس لیا ، کہا کسی کو پرامن ماحول خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پی پی 97 فیصل آباد کے پولنگ اسٹیشن 80 کے باہر سے ایک شخص کو خوف و ہراس پھیلانے پر حراست میں لے لیا گیا۔

ڈیرہ غازی خان کے حلقہ پی پی 288 میں ووٹرز گتھم گتھا ہو گئے، ڈنڈوں کے ساتھ ایک دوسرے پر حملے کئے۔ جھنگ میں اٹھارہ ہزار ی میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکن آمنے سامنے آئے ،کچھ وقت کیلئے الیکشن کا عمل بند بھی ہوا تاہم پولیس کی ہوائی فائرنگ کے بعد کارکن منتشر ہو گئے۔