خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس: 32نکاتی ایجنڈا پیش، متعدد کی منظوری

خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس: 32نکاتی ایجنڈا پیش، متعدد کی منظوری

پشاور میں سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 50 واں اجلاس ہوا، صوبائی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت کابینہ اجلاس مکمل طور پر بذریعہ ویڈیو لنک منعقد کیا گیا۔

اجلاس میں صوبائی کابینہ اراکین کے علاوہ چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز اور متعلقہ انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی،اجلاس میں 28 نکاتی ایجنڈے اور چار رکنی اضافی ایجنڈے پر تفصیلی غوروخوص کے بعد متعدد اہم ایجنڈا نکات کی منظوری دیدی گئی۔

اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کا کہنا تھا کہ کابینہ نے ضم شدہ اضلاع کے لئے یونیورسٹی آف ایپلائیڈ اینڈ ماڈرن سائنسز کے قیام کی منظوری دے دی، سٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی کے قیام کے لئے جزئیات کو حتمی شکل دینے کے لئے صوبائی وزیر بلدیات کی سربراہی میں کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔

اُنہوں نے کہا کہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت کابینہ نے زرعی یونیورسٹی میں معاون عملے کی  55 خالی اسامیوں کو ختم کرنے کی منظوری دیدی، اِس فیصلے سے صوبائی حکومت کو ماہانہ 90 لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔

شفیع جان کا کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک اہم اقدام کے طور پر پوسٹنگ ٹرانسفرز گائیڈ لائنز کی اصولی منظوری دیدی، اِن گائیڈ لائنز پر عملدرآمد سے دور افتادہ علاقوں کے کالجوں میں تدریسی اور انتظامی عملے کی کمی کو پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

معاون خصوصی نے کہا کہ کابینہ نے بعض ضروری اخراجات کی مد میں محکمہ اوقاف کے لئے 229 ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کی مشروط منظوری دیدی، کابینہ نے موجودہ بحرانی صورتحال کے پیش نظر گریڈ 20 اور اسے اوپر کے سرکاری افسران کی دو دن کی بنیادی تنخواہوں میں رضاکارانہ کٹوتی کی تجویز سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے محکمہ خزانہ کو ان افسران کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔

اِسی طرح اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا کی گزشتہ اور موجودہ حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت اب تک سرکاری گاڑیوں کے پی او ایل پر مجموعی طور پر 60 فیصد کٹوتی کی ہے، صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز ایپلیٹ ٹربیونل رولز 2020 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی۔

شفیع جان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کو ایم ٹی آئی کا درجہ دینے، تھیلیسمیا کے مرض میں مبتلا نادار بچوں کے علاج کے سلسلے میں فاطمید فاونڈیشن کے لئے ایک کروڑ روپے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دیدی۔

اُنہوں نے کہا کہ کابینہ نے صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں 598 پیڈ انٹرنی نرسوں کے اسامیوں کی تخلیق، تیمرگرہ میڈیکل کالج کو فعال بنانے کے لئے اور وہاں پر جلد کلاسوں کے اجراء کو یقینی بنانے کے لئے 993 ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دی۔

دوسری جانب کابینہ نے خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کے سات نئے نان آفیشل ممبرز کی تعیناتی اور پاروا ڈی آئی خان میں تحصیل سپورٹس کمپلیکس کے قیام کے سلسلے میں زمین کی خریداری کے لئے نان اے ڈی پی سکیم کی منظوری دی۔

کابینہ نے پاک افعان سیریز 2025 اور ایشیا کپ 24-2023 میں شرکت کرنے والے خیبر پختونخوا کے ویل چئیر کرکٹ کھلاڑیوں کے لئے مالی معاونت ، پشاور میں منعقدہ ہونے والے نیشنل باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ کی سپانسرشپ کے لئے خصوصی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دی۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ پشاور کے دو نئے ممبران کی تعیناتی، مالی سال کے دوراں مفتی محمود کالج ڈی آئی خان کے لئے 80 ملین روپے گرانٹ ان ایڈ اور بطور پائلٹ پراجیکٹ کے تحت بعض سرکاری سکولوں میں میٹرک ٹیک اور انٹر ٹیک پروگرامز متعارف کرانے کی منظوری دی گئی۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا اس دو سالہ منصوبے پر 450 ملین روپے لاگت آئے گی، منصوبے کے تحت صوبے 70 سرکاری سکولوں کو سینٹر آف ایکسی لینس کا درجہ دیا جائے گا، مجوزہ منصوبے کے تحت جدید عصری تقاضوں سے ہم تکنیکی مہارت حاصل کرنے کے لئے 1650 طلباء کو سکالر شپس فراہم کئے جائیں گے۔

شفیع جان نے کہا کہ کابینہ نے صوبائی چیف سیکرٹری آفس کے سروس ڈیلیوری یونٹس میں مارکیٹ بیسڈ سیلری پالیسی کے تحت سات عملے کی تعیناتی، الیکٹریسٹی رولز 1937 کے تحت مختلف فیسوں کی ادائیگیوں کے لئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کرنے کی منظوری دی۔

اُن کا کہنا تھا کہ کابینہ نے مدائن ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے منصوبے کو ورلڈ بینک کے پروگرام سے نکالنے اور اس منصوبے پر عملدرآمد کے لئے دیگر قابل عمل آپشنز کی طرف جانے کی منظوری دیدی، اجلاس میں خیبر پختونخوا ایکسائز ڈیوٹی آن منرلز لیبر ویلفیئر ایکٹ 2021 میں بعض ضروری ترامیم کی منظوری دی گئی۔

علاوہ ازیں کابینہ نے معربی سرحدوں پر جاری تناؤ کے نتیجے میں ضلع لوئر چترال کے سرحدی علاقہ ارندو کے اندرونی طور پر نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لئے قائم کیمپ میں سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کو مزید 20 ملین روپے کی فراہمی اور دیگر ریلیف اقدامات کی منظوری دی۔

اجلاس میں رواں مون سون سیزن میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لئے پیشگی اقدامات کے طور پر کشتیوں اور دیگر ضروری سامان اور آلات کی خریداری کے لئے محکمہ ریلیف کو 785 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔

مزید برآں معاون خصوصی کا مزید کہنا  تھا کہ اجلاس میں آنے والے مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے لئے بجٹ سٹریٹجی پیپر 27-2026 اورپیچیدہ بیماریوں میں مبتلا 27 مستحق مریضوں کے علاج معالجے کے لئے مالی معاونت کی منظوری دی گئی۔