خلاصہ
- اسلام آباد:(دنیا نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرول کی قیمت میں 80 روپے فی لٹر کمی کا اعلان کردیا۔
وفاقی دارالحکومت میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ پھرمشکل حالات میں مخاطب ہوں، پورے خطے میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں بےپناہ اضافے نے بھی پاکستان کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، پوری کوشش کی قومی وسائل کو عوام کیلئے استعمال کیا جائے، پاکستان کوبھی تیل کی بڑھتی قیمتوں نے لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، مہنگائی نےدنیا کی طاقتور معیشتوں کی کمر توڑ دی ہے، پاکستان بھی اِس سے بُری طرح متاثر ہو رہا ہے، اچھی طرح جانتا ہوں عام آدمی کس طرح زندگی گزارتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ تین ہفتوں میں قومی وسائل سے 129 ارب کی سبسڈی دی گئی، قیامت خیز طوفان کو سبسڈی کے ذریعےعوام تک پہنچنے نہیں دیا، دُعا ہے جلد سے جلد جنگ ختم اور امن قائم ہو جائے، فیلڈ مارشل، اسحاق ڈارجنگ بندی کے حوالے سے کوششیں کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ قومی وسائل محدود ہیں، صدرمملکت کا مشکور ہوں انہوں نے قومی قیادت کو اکٹھا کیا، چاروں صوبوں کے وزرائےاعلیٰ کو اجلاس میں بلایا گیا، ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس میں بھرپور مشاورت کی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی مد میں عوامی ریلیف کے لیے اقدامات کیے، عوام کو درپیش مسائل کا ادراک رکھتے ہیں، گزشتہ روز کے اعلانات کے مطابق موٹرسایئکل سوار کو سبسڈی دی جائے گی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ٹرینوں میں اکانومی کلاس کے کرائے نہیں بڑھائے جائیں گے، حکومت نے حتی المقدور کوشش کی ہے کہ عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے قومی وسائل کو استعمال کیا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ موٹرسایئکل سواروں کو100روپے فی لٹرسبسڈی دی جائے گی، مال بردار اور ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو بھی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کو ماہانہ ایک لاکھ روپے سبسڈی دیں گے۔
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پٹرول پر لیوی میں 80 روپے کی کمی کا فیصلہ کر لیا، نئی قیمت378 روپے ہو گی، لیوی میں کمی کم سے کم ایک ماہ تک ہو گی جب کہ وفاقی کابینہ کے ارکان کی 6 ماہ کی تنخواہ سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔