خلاصہ
- نیویارک: (ویب ڈیسک) جی میل بنانے والے ڈویلپر پاؤل بوشیٹ (Paul Buchheit) نے کہا ہے کہ گوگل کے سرچ انجن کی جگہ لینے کیلئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرنے والے چیٹ بوٹ (Chatbot) آنے کے بعد گوگل کے پاس مکمل خاتمے (Total Disruption) سے قبل شاید باقی دو، تین سال رہ گئے ہیں۔
گوگل کی جی میل کے تخلیق کار ڈویلپر پاؤل بوہائیٹ کے مطابق گوگل سرچ انجنز کی اجارہ داری جلد ختم ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے، انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سرچ انجن کے نتائج والے صفحات کو ہی ختم کر دے گی جہاں سے سرچ انجنز پیسے بناتے ہیں۔
اپنے ایک ٹوئٹ میں پاؤل بوہائیٹ نے لکھا کہ اگرچہ یہ لوگ بھی آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر کام کر رہے ہیں لیکن یہ اپنے کاروبار کے اہم ترین جزو کو پوری طرح تباہ کر کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو لاگو نہیں کرسکیں گے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ شاید گوگل سرچ انجن اپنے خاتمے سے دو، تین سال دور ہے۔
Google may be only a year or two away from total disruption. AI will eliminate the Search Engine Result Page, which is where they make most of their money.
— Paul Buchheit (@paultoo) December 1, 2022
Even if they catch up on AI, they can t fully deploy it without destroying the most valuable part of their business! https://t.co/jtq25LXdkj
پاؤل بوہائیٹ نے کہا کہ گوگل کی کمائی کا اہم ذریعہ اس کی ایڈورٹائزمنٹ ہیں جہاں ایڈورٹائزر سرچ انجن رزلٹ کے صفحات پر اپنی ایڈورٹائزمنٹ چھاپنے کیلئے اس امید پر ادائیگی کرتے ہیں کہ صارفین ان کے لنک پر کلک کریں گے، آرٹیفیشل انٹیلیجنس پرانے سرچ انجنز اور لنکس کو استعمال کرکے صارفین کے سامنے نتائج ظاہر کرے گی، یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی تحقیق دان انسان سے کام لیا جائے، تاہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس وہ کام کسی انسان کے مقابلے میں بہت تیزی سے کر لے گی۔
جی میل بنانے والے ڈویلپر نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو یاد ہوگا کہ انٹرنیٹ سے قبل ییلو پیجز ہوا کرتے تھے جسے گوگل نے قتل کر دیا تھا، ایک زمانے میں ییلو پیجز ایک بہت بڑا کاروبار ہوا کرتے تھے لیکن بعد میں گوگل سب کیلئے ایک بہترین ذریعہ بن گیا جس کے بعد لوگوں نے ییلو پیجز کا استعمال ترک کردیا تھا، آرٹیفیشل انٹیلیجنس بالکل یہی کام گوگل سرچ انجن کے ساتھ کرنے جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گوگل خود بھی اپنے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر کام کر رہا ہے اور کمپنی کی جانب سے ایک آرٹیفیشل انٹیلیجنس کمپنی سے کنورزیشنل اور وائیس سرچ کیلئے ڈیپ مائینڈ ٹیکنالاجی کی خریداری عمل میں لائی گئی ہے۔
جی میل کے خالق ڈیولپر پاؤل بوہائیٹ نے کہا کہ میں تو مسلسل اسی بارے میں سوچ رہا ہوں اور سب سے دلچسپ بات یہ دیکھنا ہوگی کہ یہ سب کچھ کس طرح ہوگا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کس طرح سرچ انجنز کا باب بند کرتی ہے اور سوچ رہا ہوں کہ سرچ انجنز کی جگہ سرچنگ کیلئے کیا کوئی بالکل ہی نیا انٹرفیس آتا ہے یا کچھ اور چیز سامنے آنے والی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتےایلون مسک کی کمپنی اوپن اے آی (OpenAI) کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کا اجراء کیا گیا جو کہ صارفین کی جانب سے دی گئی تحریری ہدایات پر عمل کرتا ہے، اس سے مضمون لکھوایا جا سکتا ہے، گانوں کے بول، کہانیاں، مارکیٹنگ پچز، سکرپٹ خطوط یہاں تک کہ شاعری بھی لکھوائی جا سکتی ہے۔
چیٹ جی پی ٹی کی پیچیدہ سوالات حل کرنے کی صلاحیت اسے دیگر سرچ انجنز سے منفرد بنا دیتی ہے اور وہ گوگل کی سرچ انجن کی اجارہ داری کو چیلینج کر سکتی ہے۔