تازہ ترین
  • بریکنگ :- جب سےعدالت نےثبوت مانگےنیب بہانےکررہی ہے،مریم نواز
  • بریکنگ :- حیران ہوں یہ وہی نیب ہےجس نےروزانہ سماعت کی درخواست دی تھی،مریم نواز
  • بریکنگ :- اسلام آباد:حکومت کی کارکردگی نہ ہونےکےبرابرہے،مریم نواز
  • بریکنگ :- ان کےکابینہ ارکان ان کی کارکردگی کیخلاف بات کررہےہیں،مریم نواز
  • بریکنگ :- اسلام آباد:مسلم لیگ ن آزمائشوں کےباوجودنہیں ٹوٹی،مریم نواز
  • بریکنگ :- کہاجارہاہےمسلم لیگ ن کے 4 افرادان سےملےہیں،مریم نواز
  • بریکنگ :- اسلام آباد:حکومت کاانجام بہت قریب ہے،مریم نواز
  • بریکنگ :- مری میں حکومتی نااہلی کی وجہ سےلوگ جان سےہاتھ دھوبیٹھے،مریم نواز
  • بریکنگ :- عوام اب یہ حکومت ایک دن کیلئےبھی برداشت نہیں کرسکتی،مریم نواز
  • بریکنگ :- شہبازشریف سیلاب کےپانی میں اترتےتھےتوانہیں شوبازکہاجاتاتھا،مریم نواز
  • بریکنگ :- لگتاتھاعمران خان شہبازشریف سےبوٹ مانگ کرلوگوں کی مددکوجائیں گے،مریم نواز

ڈالر مزید سستا، 155 روپے کی نفسیاتی حد گر گئی

Published On 26 March,2021 04:03 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں مسلسل تنزلی کا سفر جاری ہے، 155 روپے کی نفسیاتی حد بھی گر گئی ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں 42 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد قیمت 155.01 روپے سے گر کر 154 روپے 59 پیسے ہو گئی ہے۔

چیئر مین فارن ایکسچینج کرنسی ڈیلرز ملک بوستان نےکہا ہے کہ روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر کی 155 روپے کی نفسیاتی حد گرنا بہت اہم ہے، قوی امکان ہے کہ آئندہ ماہ کے آخر تک روپے کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی قیمت 150 روپے کی سطح پر پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی کی تین بڑی وجوہات ہیں، وزیراعظم عمران کی طرف سے جاری کردہ پروگرام ڈیجیٹل روشن پروگرام، ریکارڈ ترسیلات زر کا موصول ہونا اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی طرف سے پاکستان کو قرض پروگرام کی دوسری قسط کا موصول ہونا ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ماہ تک پاکستان کو بین الاقوامی ادائیگیوں کے لیے بھی وقت مل گیا ہے، اس ادائیگیوں کے مؤخر ہونے سے روپیہ مضبوط ہو گا، متحدہ عرب امارات سمیت دوست ممالک کی طرف سے قرض کی واپسی میں نرمی بھی مثبت اثرات مرتب کر رہی ہے۔