خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ، جولائی سے اکتوبر کے دوران 129 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ذرائع کے مطابق جولائی تا اکتوبر ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 4 ہزار 88 ارب 20 کروڑ روپے رہیں، جبکہ اس عرصے کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4 ہزار 217 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود ٹیکس وصولیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
حکام کے مطابق جون 2027 تک 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس جمع کرنے کا ہدف مقرر ہے، جس کے حصول کے لیے ایف بی آر کو 17 فیصد شرح نمو درکار ہوگی۔
ذرائع کے مطابق اکتوبر میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں ایک ہزار 2 ارب روپے رہیں، جبکہ 31 اکتوبر کے آخری روز ٹیکس وصولیوں میں 27 ارب روپے کا اضافہ ہو سکا۔ ایف بی آر نے 31 اکتوبر تک 76 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے وصول کیے۔
دوسری جانب ریٹیلرز فکسڈ ٹیکس اسکیم بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکی۔ حکام کے مطابق 36 لاکھ ممکنہ نان فائلر خوردہ فروشوں میں سے صرف 1750 نے اسکیم کے تحت رجسٹریشن کرائی، جبکہ صرف 220 نئے ٹیکس دہندگان نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ریٹیلرز سکیم کے تحت 50 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا تھا۔
حکام کے مطابق ایف بی آر نے نان فائلرز کے خلاف جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ بھی کر رکھا ہے۔ نان فائلرز کو پہلے ماہ 10 ہزار روپے، دوسرے ماہ 25 ہزار روپے اور تیسرے ماہ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والے خوردہ فروشوں کے کاروباری مراکز سیل کرنے کا اختیار بھی ایف بی آر کو حاصل ہے۔