ایران اس وقت امریکا سے رابطے میں ہے، معاہدہ کرنا چاہتا ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اس وقت امریکا سے رابطے میں ہے اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے، میں ایران کی بات سننے کے لیے تیار ہوں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کوریسپونڈینٹس ڈنر کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال معاہدے کے لیے مناسب وقت نہیں آیا لیکن مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے، امریکی کارروائیوں سے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا، ایران کی بحری اور فضائی طاقت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے سیکڑوں طیارے، کشتیاں، ریڈار اور ڈرون تباہ ہو چکے، ایران کے پاس اب محدود فوجی صلاحیت باقی رہ گئی ہے، اگر ایران کو جوہری ہتھیار ملا تو وہ اسے استعمال کرے گا، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے ہر قیمت پر روکا جائے گا۔
حوثیوں نے ٹیلی کمیونیکیشن پر سعودی حملوں کو سنگین غلطی قرار دیدیا
یمن کے حوثیوں کی وزارتِ خارجہ نے الحدیدہ میں ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنصیبات پر حملے کو سعودی عرب کی سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کا جواب جیسے کو تیسا دیا جائے گا۔
حوثی وزارتِ خارجہ کے مطابق یمن کا محاصرہ ختم کرنے کے جائز مطالبے کو تسلیم کرنے کے بجائے سعودی حکومت نے ایک بڑی غلطی کی ہے، جس کی اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ سعودی حملے میں کمران جزیرے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون زخمی ہوئی، یمنی فضائی دفاع نے کئی سعودی جنگی طیاروں کو یمنی فضائی حدود چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔
سعودی اتحادی افواج کا یمن کے شہر الحدیدہ میں حوثیوں کے عسکری ٹھکانوں پر حملہ
سعودی اتحادی افوا ج کا کہنا ہے کہ یمن کے الحدیدہ گورنریٹ میں حوثی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،حوثیوں سے منسلک فوجی اہداف پر کارروائی کی، حدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا، تمام بندرگاہیں جہاز رانی کے لیے کھلی ہیں۔
سعودی اتحادی افوا ج کا کہنا ہے کہ یمن میں تباہ کیے گئے اہداف کا تعلق بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف خطرات سے نمٹنا تھا۔ حوثیوں کی جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں تو جواب دیا جائےگا۔
اس سے پہلے حوثی میڈیا نے حدیدہ اور یمن کے جزیرے کمران پر سعودی عرب کے حملوں کا دعویٰ کیا تھا ۔
یمن کے حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے مغربی یمن کے ساحلی شہر حدیدہ پر فضائی حملے کیے اور یمن کے کمران جزیرے کو بھی نشانہ بنایا۔
اس کے علاوہ یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی فضائی حملوں میں حدیدہ شہر میں واقع ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل یمن کی حوثی اکثریتی جماعت انصاراللہ نے سعودی عرب کے 2 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا تھا ۔
انصاراللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ نشانہ بنائے جانے والے سعودی آئل ٹینکرز نے گروپ کی جانب سے عائد کردہ بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔
امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری، ثالثی کا کوئی مسئلہ نہیں: عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، ثالثی کا کوئی مسئلہ نہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کا دھمکی آمیز اور دباؤ پر مبنی رویہ قبول نہیں، ایران طاقت، دباؤ اور دھمکی کی زبان قبول نہیں کرے گا، ایران دھمکیوں اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی ایران اپنے موقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا، آبنائے ہرمز میں ایران کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔
ایران مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہے لیکن ڈیل کرنے کیلئے تیار نہیں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہے لیکن ڈیل کرنے کیلئے تیار نہیں۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ابھی تک ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، ایرانی حکام مذاکرات میں اب زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں، شاید اس کی وجہ بھی سب پر واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے ہمارے پاس 2 آپشنز ہیں، ایران پر حملے جاری رکھیں یا پھر کسی معاہدے پر پہنچ جائیں، مشرق وسطیٰ میں صورتحال بدل چکی ہے، ایران کا اثر و رسوخ اب کم ہو گیا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ سعودی عرب کو ابراہم اکارڈ کا حصہ ہونا چاہیے، سعودی عرب ابراہمی معاہدے میں شامل نہ ہوا تو جوہری معاہدہ نہیں کریں گے۔
اس سے پہلے ایک بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ چین اور روس ایران سے متعلق تنازع میں کسی بھی طرح شریک نہیں ہیں، تاہم اگر دونوں ممالک ایران کو ہتھیار فراہم کر رہے ہیں تو یہ ان کے اپنے مفاد میں نہیں ہوگا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے ایران کو ہتھیار نہ دینے کی یقین دہانی کروائی ہے اور چینی کمپنیاں بھی ایران کو اسلحہ فروخت نہیں کریں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی ایران کو ہتھیار نہ بیچنے کا وعدہ کیا ہے، روس اور چین اس وقت ایران کو اسلحہ فراہم نہیں کر رہے۔