ایران امریکا جنگ

ایران امریکا جنگ

حوثی باغیوں کا سعودی عرب پر حملہ، ایک پاکستانی سمیت 11 شہری زخمی

سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر میں رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کا ٹیلی فونک رابطہ، دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا

سعودی عرب کےولی عہد محمد بن سلمان اور فرانس کےصدر ایمانویل میکرون نے خطےکی تازہ ترین صورتحال اور امن و استحکام کے فروغ کے لیےجاری کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر بحری جہاز رانی کی سلامتی اورسمندری راستوں پر آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی گفتگو کی گئی۔

اس ٹیلیفونک رابطے کےدوران سعودی عرب اورفرانس کےدرمیان دوطرفہ تعلقات،مختلف شعبوں میں مشترکہ تعاون اورانہیں مزیدوسعت دینے کےطریقوں پر بھی غورکیا گیا۔

ٹرمپ کا پینٹاگون کی خفیہ معلومات لیک ہونے پر تحقیقات کا حکم

 امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسلحہ ذخائر سے متعلق خفیہ معلومات لیک ہونے پر تحقیقات کا حکم دے دیا۔

اخبار کے مطابق فیصلہ ایران جنگ کے تناظر میں امریکی اسلحہ ذخائر سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد کیا گیا۔

امریکی صدر نے میڈیا رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ امریکا کے پاس بڑی مقدار میں گولہ بارود موجود ہے، معلومات لیک کرنے والے غدار ہیں۔

حوثی باغیوں کا سعودی عرب پر حملہ، ایک پاکستانی سمیت 11 شہری زخمی

یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے جنوبی صوبہ نجران پر حملہ کیا جس میں 11 شہری زخمی ہو گئے۔

سعودی عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثی باغیوں کے حملہ کے زخمیوں میں 7 سعودی شہری، ایک یمنی، 2 مصری اور ایک پاکستانی شہری شامل ہیں، جبکہ متاثرین میں چار سالہ بچہ بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حوثی باغیوں نے شہری آبادی کو اندھا دھند نشانہ بنایا، یہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

سعودیہ میں عراقی ملیشیا اور حوثیوں کے حملوں کا خدشہ، سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ

سعودی عرب نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی نگرانی میں عراقی ملیشیا اور یمن کے حوثی باغی شمال اور جنوب سے جلد مشترکہ حملے کر سکتے ہیں۔

سینئر سعودی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا سعودی عرب، امریکا اور دیگر علاقائی ممالک کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ممکنہ حملوں میں توانائی تنصیبات، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور دیگر شہری و معاشی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

سعودی حکام نے ڈرونز اور میزائلوں کی نقل و حرکت بھی دیکھی ہے جس سے بیک وقت مختلف سمتوں سے حملوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں، یہ کارروائیاں ایران سمیت مختلف فریقوں کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے بھی کی جا سکتی ہیں۔

امریکا کے ساتھ دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون انتہائی مضبوط ہے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ ایران کیخلاف جنگ میں شدید مشکلات سے دوچار: میڈیا رپورٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کے چھٹے ماہ میں مشکل صورتحال سے دوچار ہیں، انہیں یا تو ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مجوزہ عبوری معاہدہ قبول کرنا ہوگا یا پھر فوجی کارروائی میں مزید شدت لانا ہوگی۔

رائٹرز کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر محدود نگرانی یا کردار مل سکتا ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا مؤقف ہے کہ یہ اہم عالمی آبی گزرگاہ مکمل طور پر آزاد اور کسی بھی ملک کے کنٹرول سے باہر رہنی چاہئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ طول پکڑنے پر امریکا میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، عوامی مخالفت اور ٹرمپ کی کم ہوتی مقبولیت نے ان کے لئے فیصلے مزید مشکل بنا دیئے ہیں۔

فضائی حملوں میں اضافے سے سیاسی خطرات بڑھ سکتے ہیں جبکہ موجودہ صورتحال برقرار رکھنے سے بھی تنازع ختم ہونے کا امکان کم ہے۔

ماہرین کے مطابق اب تک جنگ اپنے بنیادی اہداف حاصل نہیں کر سکی، چین، روس اور شمالی کوریا بھی اس تنازع سے امریکا کی صلاحیتوں اور حکمت عملی کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔

ایران اور عمان میں آبنائے ہرمز معاہدے پر عملدرآمد انتہائی مشکل ہے: عالمی شپنگ انڈسٹریز

عالمی شپنگ انڈسٹریز کے ذرائع نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان زیر غور آبنائے ہرمز معاہدے پر عملدرآمد امریکی پابندیوں اور انشورنس سے متعلق سخت شرائط کے باعث انتہائی مشکل ہوگا۔

عالمی شپنگ تنظیموں نے اس تجویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے پر لازمی فیس یا ٹول عائد کرنا بین الاقوامی بحری قوانین کے خلاف ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا۔

ذرائع کے مطابق ایران آبنائے استعمال کرنے والے جہازوں کے کارگو مالیت کا 5 سے 7 فیصد فیس وصول کرنا چاہتا ہے، عمان 3 فیصد فیس کی تجویز دے رہا ہے، جبکہ امریکا کسی بھی قسم کی فیس کے سخت خلاف ہے۔

شپنگ کمپنیوں اور تیل کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ایران کو کسی بھی قسم کی ادائیگی امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی تصور ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اثاثے منجمد ہونے سمیت قانونی اور مالی مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

صنعت کے ماہرین کے مطابق موجودہ شرائط کے تحت اس معاہدے پر عملدرآمد آسان دکھائی نہیں دیتا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے جلد خاتمے کیلئے پر امید

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی کیونکہ ایران زیادہ دیر تک یہ جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مجھے نہیں لگتا کہ ایران زیادہ دیر تک اس جنگ کا بوجھ اٹھا سکے گا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکی فوج کو بعض اقسام کے ہتھیاروں کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا ہے تاہم جدید اسلحہ کے ذخائر لامحدود ہیں، کچھ ہتھیاروں کی مقدار محدود ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اپنی دفاعی پیداوار میں اضافہ کر رہا ہے اور پیٹریاٹ اور ٹوماہاک میزائلوں سمیت مختلف ہتھیاروں کی تیاری کے لیے نئے پیداواری پلانٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔

ایرانی دفاعی ٹیکنالوجی سب سے بہترین، خطے کے ممالک کو جلد اندازہ ہوجائیگا: مجید ابن الرضا

قائم مقام ایرانی وزیر دفاع مجید ابن الرضا نے کہا کہ ایران کی مقامی دفاعی ٹیکنالوجی علاقائی ممالک میں سب سے بہترین، خطے کے ممالک کو جلد اندازہ ہو جائے گا۔

قائم مقام ایرانی وزیر دفاع مجید ابن الرضا کا کہنا ہے دشمن کی طاقت زوال پذیر ہے، کچھ ممالک درآمد شدہ ہتھیاروں اور بیرونی سکیورٹی پر انحصار کر رہے ہیں۔

ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل امیر اکرمینیا کا کہنا ہے ایرانی فوج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے، حملے سے متاثرہ نظام کو جدید بنایا جا رہا ہے۔

محمد باقر قالیباف نے دھونس اور جھوٹی خبروں کی حکمت عملی ناکام قرار دیدی

ایرانی کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے دھونس اور جھوٹی خبروں کی حکمت عملی ناکام قرار دے دی۔

ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر بیان میں کہا کہ حقائق تسلیم کریں، وعدے پورے کریں، مزید ڈرامائی سفارت کاری قبول نہیں، انہوں نے حملے کی دھمکیوں کو ڈرامائی سفارت کاری قرار دے دیا۔

محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ دنیا کو ڈرامے نہیں، ذمہ دار سفارت کاری کی ضرورت ہے۔

ایرانی فوج ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہے: بریگیڈیئر جنرل اکرمینیا

ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور اپنی جنگی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔

ایک بیان میں بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ ایرانی فوج میدانِ جنگ کی عملی استعداد کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مستقل اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے فوج میں جدید سازوسامان شامل کیا جا رہا ہے، جبکہ ہتھیاروں اور جنگی وسائل کو آپریشنل ضروریات کے مطابق منظم اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔

ترجمان ایرانی فوج کے مطابق دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فوجی صلاحیتوں میں مسلسل بہتری لائی جا رہی ہے تاکہ ہر ممکن خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ 

ایران کی امریکی حملے پر خلیجی ممالک کو اندھیرے میں ڈبونے کی دھمکی

ایران نے مبینہ طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے اس کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو جواب میں خلیجی ممالک کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنایا جائے گا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دو خلیجی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران نے مختلف خلیجی دارالحکومتوں کو پیغام دیا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں خطے کے بجلی کے نظام اور اہم انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم ایران نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق ایک علاقائی عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ ایسے انتباہی پیغامات مختلف خلیجی ممالک تک پہنچائے گئے تھے، ایران نے مبینہ طور پر ان اہم تنصیبات اور اہداف کی فہرست بھی پیش کی جنہیں جوابی کارروائی میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم ان اہداف کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

اے ایف پی کے مطابق ان مبینہ انتباہی پیغامات کے بعد خلیجی ممالک میں تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ ان کی معیشت، تیل کی برآمدات، پانی صاف کرنے کے پلانٹس، مواصلاتی نظام اور دیگر اہم خدمات جدید بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر انحصار کرتی ہیں۔

اب تک نہ امریکا نے اس رپورٹ پر باضابطہ ردعمل دیا ہے اور نہ ہی ایران نے ان مبینہ دھمکیوں کی سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید کی ہے۔ 

سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کیلئے مشترکہ تعاون ناگزیر ہے: سعودی وزارت دفاع

 سعودی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ خطے اور دنیا کو نئے سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے، جن سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مشترکہ تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔

اپنے بیان میں میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ ہر ملک کو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے، جبکہ بحیرۂ احمر سے متصل ممالک باہمی رابطے اور تعاون کو مسلسل فروغ دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کا بنیادی مقصد بحری سلامتی کو یقینی بنانا اور اہم سمندری راستوں کو محفوظ رکھنا ہے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہے۔

دشمن کی طاقت کمزور پڑ رہی ہے: ایرانی وزارت دفاع

سربراہ ایرانی وزارت دفاع مجید ابن الرضا نے ایکس پر کہا کہ ہر خطرے کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، ہر گزرتے دن کے ساتھ دشمن کی طاقت کے زوال کے آثار مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

مجید ابن الرضا نے مزید کہا کہ ملکی دفاعی صنعت بہترین انداز میں کام کر رہی ہے، ایران کا دفاعی نظام مکمل طور پر تیار اور مستحکم ہے، کچھ ممالک درآمد شدہ ہتھیاروں اور بیرونی سکیورٹی پر انحصار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی مقامی دفاعی ٹیکنالوجی خطے کے کسی بھی نظام سے زیادہ مؤثر اور برتر ہے، خطے کے ممالک کو ممالک کو جلد اندازہ ہو جائے گا۔

اسرائیل کی جنوبی لبنان میں فضائی حملے اور توپ خانے سے گولہ باری

لبنان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل نے رات بھر سے صبح تک جنوبی لبنان میں فضائی حملے اور توپ خانے سے گولہ باری جاری رکھی، یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب اسرائیل نے ایک ماہ سے زائد عرصے کے بعد اپنی فوج کے پہلے جانی نقصانات کی تصدیق کی، جس کے ساتھ ہی دوبارہ کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔

ان حملوں کے ساتھ کئی ہفتوں بعد پہلی بار انخلا کی وارننگ بھی جاری کی گئی، اسی دوران امریکہ کی ثالثی میں اٹلی کے شہر روم میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات ہوئے، جن میں لبنان نے جنوبی علاقوں سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کا مطالبہ کیا۔

لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے بتایا کہ اسرائیلی دشمن نے ضلع صور میں اپنے حملوں میں شدت پیدا کر دی اور رات سے صبح تک فضائی حملوں اور توپ خانے کی گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا۔

آبنائے ہرمز معاہدہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا باعث بنے گا: پاکستان

دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ آبنائے ہرمز معاہدہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا باعث بنے گا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق یہ معاہدہ مذاکرات کے تسلسل کی راہ ہموار کرے گا، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کی دوبارہ بحالی کے لیے پرامید ہیں۔

مذاکرات میں پیش رفت کی قیاس آرائیوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی

ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت اور ایران و امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ممکنہ معاہدے کی خبروں کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 37 سینٹ کم ہو کر 79.08 ڈالر فی بیرل ہو گئی، اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 53 سینٹ کم ہو کر 69.74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرِ معاشیات یوکی تاکاشیما نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت سے متعلق رپورٹس سامنے آنے کے بعد بعض تاجروں نے فروخت شروع کر دی، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ قیمتیں صرف اسی سطح پر واپس آئی ہیں جو 17 جون کو امریکا اور ایران کے عبوری معاہدے کے بعد دیکھی گئی تھیں، اب مارکیٹیں مذاکرات کے عمل کو بہت قریب سے دیکھ رہی ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا دونوں فریق کسی حتمی معاہدے تک پہنچتے ہیں یا نہیں۔

پاکستان مشرق وسطی کے معاملات بحال کرنے میں سفارتی کردار ادا کررہا ہے: دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ وزیراعظم 6 سے 8 اگست کے دوران سعودی عرب کا دورہ کریں گے، وزیراعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات ، باہمی دلچسپی کے امور اور تعاون کے شعبوں پر بات چیت ہوگی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطی کے معاملات بحال کرنے میں سفارتی کردار ادا کررہا ہے، عمان اس تمام تر صورتحال میں اپنا بہتر کردار ادا کررہا ہے، پاکستان عمان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر انتخابات پر بھارتی بیانات بے بنیاد ہیں، آزاد کشمیر انتخابات شفاف انداز میں جاری ہیں، بھارت کے پاس ایسے بیانات کا کوئی اخلاقی جواز نہیں، بھارت آزاد کشمیر میں اموات کی غلط معلومات پھیلا کر مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے توجہ نہیں ہٹا سکتا۔

ایران کیخلاف جنگ کیلئے اسلحہ کمی پر ٹرمپ اپنے وزیر دفاع پر پھٹ پڑے: امریکی اخبار

امریکی اخبار کے مطابق گزشتہ ہفتے کیمپ ڈیوڈ میں ٹرمپ نے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے جواب طلب کیا کہ انہیں گولہ بارود کی شدید کمی کے بارے میں کیوں گمراہ کیا گیا جس کے باعث اب ایران کے خلاف فوجی آپشنز محدود ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس گفتگو سے باخبر 2 افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ واقعہ کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے اجلاس کے موقع پر پیش آیا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے وزیرِ جنگ ہیگسیتھ پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ گولہ بارود کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق خاص طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور ائیر ڈیفنس انٹرسیپٹرز کی کمی ان وجوہات میں شامل ہے جن کے باعث صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مزید بڑے حملے کرنے سے گریز کیا ہے۔

اخبار کے مطابق جب صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع کو اسلحے کے خالی ذخائر پر تنقید کا نشانہ بنایا، تو پیٹ ہیگسیتھ نے اپنا دفاع کرتے ہوئے اس کمی اور صدر کو مکمل طور پر آگاہ نہ رکھنے کا ذمہ دار اپنے نائب اسٹیفن فینبرگ کو قرار دیا۔

اس واقعہ نے وزیر دفاع کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی مایوسی کو نمایاں کر دیا ہے اور متعدد حکام کے مطابق ہیگسیتھ ان ابتدائی لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی بھرپور حمایت کی تھی اور ٹرمپ کو یقین دلایا تھا کہ یہ ایک فوری اور نسبتاً آسان کامیابی ہوگی۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ’یہ 100 فیصد جعلی خبر ہے، ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا، صدر ٹرمپ کو سیکرٹری ہیگسیتھ پر مکمل اعتماد ہے‘۔

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وزیر جنگ ہیگسیتھ نے گولہ بارود کی صورتحال کے حوالے سے کسی کو گمراہ نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے اپنے نائب وزیر اسٹیفن فینبرگ کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے، ذخائر میں کمی، اندرونی اختلافات اور ایران کے حوالے سے پیٹ ہیگسیتھ کے مؤقف سے متعلق یہ دعوے مکمل طور پر من گھڑت ہیں۔

ٹرمپ نے امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی کی خبروں کو مسترد کر دیا

امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ امریکا کے پاس بڑی مقدار میں جدید اسلحہ موجود ہے، ملکی سطح پر اسلحے کی پیداوار بھی تیزی سے بڑھائی جا رہی ہے، ہتھیاروں کی متعدد اقسام کے وافر ذخائر دستیاب ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ دفاعی کمپنیاں امریکی تاریخ میں سب سے بڑی تعداد میں اسلحہ فیکٹریاں قائم کر رہی ہیں، اسلحہ ذخائر میں کمی کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کو لیک کرنے والے غدار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معلومات کو افشا کرنے والے افراد کی تلاش جاری ہے، معلومات لیک کرنے والوں کے خلاف طویل مدت کی قید کی سزاؤں کا مطالبہ کیا جائے گا۔

ایران نے بڑے امریکی حملے کے ڈر سے مذاکرات کے لیے مجھ سے التجا کی: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس وقت مذاکرات کی درخواست کی جب امریکا ایک بڑے فوجی حملے کی تیاری مکمل کر چکا تھا، مسلسل عسکری دباؤ کے باعث تہران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ ہوا۔

ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے حملےکی تیاری کر رہا تھا کہ اسی دوران ایرانی حکام نے رابطہ کیا، انہوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ براہ کرم ایسا نہ کریں، آئیے! بات کرتے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ مزید فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم امریکا کے بنیادی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، میں معاہدہ کرنا پسند کروں گا کیونکہ میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا، لیکن ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔‘

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔

آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کے قریب دو دھماکوں کی اطلاع

یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز میں عمانی ساحل سے 9 ناٹیکل میل جنوب مشرق میں ایک سمندری واقعہ کی تاخیر سے اطلاع موصول ہوئی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق آئل ٹینکر کے کپتان نے اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے بحری جہاز کے قریب پانی میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں، جہاز اور عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور ابھی تک کسی ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

تنظیم نے یہ بھی اعلان کیا کہ اسے یمن کی بندرگاہ مکاح سے 9 ناٹیکل میل (تقریباً 16 کلومیٹر) دور ایک جہاز کی ایک اور رپورٹ موصول ہوئی ہے، بحیرہ احمر میں ایک الکا جہاز سے ٹکرا گیا جس سے آگ لگ گئی تاہم عملہ اور عملہ سب محفوظ ہیں اور انہیں بچا لیا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق جہاز اب ڈوب چکا ہے۔اس واقعے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یمن کے ایران سے منسلک حوثی باغیوں نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا، حوثیوں کے مطابق سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے یہ آٹھویں بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران میں ایک حلقہ مذاکرات، دوسرا جنگ جاری رکھنے کا حامی ہے: جے ڈی وینس

امریکا کے نائب صدر جی ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جنگ کے بارے میں اپنے ملک کے عوام کی ناراضی سے متعلق تنقیدوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ ایرانی حکومت کے اندر ایک حلقہ مذاکرات کا خواہش مند ہے، جبکہ ایک سخت گیر حلقہ جنگ جاری رکھنے کا حامی ہے۔

اسلام آباد مذاکرات کے دوران امریکی مذاکراتی وفد کی قیادت کرنے والے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ کشیدگی اور محاذ آرائی کے عمل میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، تاہم وہ یقین رکھتے ہیں کہ آخرکار سب کچھ امریکی عوام کے حق میں ہوگا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ محمد باقر قالیباف آئندہ چند روز میں پاکستان کا ممکنہ دورہ کر سکتے ہیں، ایران نے سرکاری طور پر ان رپورٹس پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

باقر قالیباف تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایران کے چیف مذاکرات کار تھے، جن کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے۔

اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ کشیدگی اور تصادم شروع ہونے کے بعد یہ مفاہمتی یادداشت عملاً بے اثر ہو گئی۔

آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے متعلق کوئی معلومات موصول نہیں ہوئیں: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے حوالے سے کوئی معلومات موصول نہیں ہوئیں، اقوام متحدہ اس معاملے پر ہونے والی پیش رفت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتی۔

فرحان حق کے مطابق اقوام متحدہ تمام فریقوں کی مذاکرات کا راستہ اپنانے پر حوصلہ افزائی کرے گی، کسی بھی تنازع کا پائیدار حل بات چیت اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

امریکا دوبارہ اپنے وعدوں پر عملدرآمد کیلئے تیار ہو گیا: ایرانی وزارت خارجہ

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران، عمان کے درمیان نئے بحری راستے پر اصولی اتفاق رائے ہو گیا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں نیا عارضی بحری راستہ قائم کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی، نیا راستہ زیادہ تر ایرانی سمندری حدود سے گزرے گا۔

کاظم غریب آبادی نے کہا کہ منصوبے پر عمل درآمد کے بعد موجودہ عارضی راستے بند ہوں گے، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کو امریکی وعدوں سے مشروط کر دیا، عمان کے ساتھ تین ہفتے مذاکرات جاری رہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا سے اشارے ملے ہیں کہ وہ وعدوں پر پھر سےعمل کیلئے تیار ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران عمان ڈیل کے بعد امریکا ایران ڈیل آئندہ چند روز میں طے پاسکتی ہے۔

امریکا کا ایران کے متعلق 3 کمپنیوں، 2 طیاروں پر پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق تین کمپنیوں اور دو طیاروں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ بعض عراقی فضائی کمپنیوں کو بھی پابندیوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق فلائی بغداد، عراق ایکسپریس اور ان سے وابستہ دیگر کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں پر ماضی میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

محکمہ خزانہ نے ان کمپنیوں سے منسلک دو طیاروں پر عائد پابندیاں بھی ختم کرنے کی تصدیق کی ہے۔

ایران کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کیلیے یورپی ممالک کو اجازت دینے پر غور

آبنائے ہرمز میں پانچ ماہ سے جاری کشیدگی اور عالمی جہاز رانی کے بحران کے خاتمے کی کوششوں کے دوران ایران اپنے مؤقف میں اہم نرمی پر غور کر رہا ہے۔

متعدد سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایران پہلی بار اس امکان کا جائزہ لے رہا ہے کہ یورپی ممالک کو آبنائے ہرمز سے بحری بارودی سرنگیں صاف کرنے کی اجازت دی جائے۔

ایرانی ذرائع نے بتایا کہ پالیسی میں اس نرمی کا مقصد دنیا کی اہم ترین عالمی بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی بحالی کو یقینی بنانا ہے تاکہ آئل ٹینکرز کی آمدورفت ممکن ہوسکے۔ ایرانکی معیشت

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یورپی ممالک کو بارودی سرنگیں صاف کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو اس کے لیے کئی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

ان شرائط میں ایران کی جانب سے یورپی بحری جہازوں کی سلامتی کی ضمانت، جنگ بندی یا کشیدگی میں خاطر خواہ کمی، ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کی منظوری اور آپریشن کا صرف انسانی اور تجارتی جہاز رانی کی بحالی تک محدود رہنا شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان شرائط پر ابھی حتمی اتفاق نہیں ہوا لیکن مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

امریکا، ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر عبوری معاہدے کا اعلان متوقع

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا، ایران اور عمان آج آبنائے ہرمز سے متعلق عبوری معاہدے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق معاہدے تک پہنچنے کیلئے عمان، قطر، پاکستان اور سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا، مجوزہ معاہدہ 60 روز کیلئے ہوگا، آبنائے ہرمز میں داخلے کیلئے تجارتی جہاز ایران کے سمندری راستے کا استعمال کریں گے۔

آبنائے ہرمز سے نکلنے والے جہاز عمان کے سمندری راستے سے گزریں گے، عبوری معاہدے کی مدت کے دوران تجارتی جہازوں سے کسی قسم کا ٹول ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں اس فریم ورک سے اصولی اتفاق کیا تھا، ایران کی اعلیٰ قیادت نے منگل کے روز اس کی منظوری کا عمل مکمل کر لیا۔