واشنگٹن مایوسی کا شکار، نئی پابندیاں بھی تہران کو شکست دینے میں ناکام رہیں گی: عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ نے نئی امریکی پابندیوں کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن مایوسی کا شکار ہے، متوقع نئی پابندیاں تہران کو شکست دینے میں ناکام رہیں گی۔
ٹیلی گرام پر جاری ویڈیو پیغام میں ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی اقدامات کو بار بار دہرائے جانے والے منصوبے قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت کہ امریکی رہنما فوجی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر ایک بار پھر انہی پرانے منصوبوں کی بات کر رہے ہیں، ظاہر کرتی ہے کہ وہ مایوس ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو ایران کے ساتھ احترام کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے تاکہ انصاف اور عزت پر مبنی حل تلاش کیا جاسکے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کبھی خوفزدہ نہیں ہوا، ان کی تمام کارروائیاں چاہے وہ ناکہ بندیاں ہوں یا دیگر فوجی اقدامات، ناکام ہوچکی ہیں اور ان کا یہ نیا اقدام بھی ناکام ہوگا۔
''منجمد خارجہ پالیسی، منجمد معیشت کو جنم دیتی ہے''، ایرانی سپیکر کا امریکی پالیسی پر طنزیہ وار
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی پالیسیوں پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ منجمد خارجہ پالیسی، منجمد معیشت کو جنم دیتی ہے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا گوشت کی قیمتیں کم کرنے کیلئے منجمد گوشت درآمد کررہا ہے، کیا بانڈز کے لیے منجمد شرح منافع بھی درآمد کی جائے گی؟
ایرانی سپیکر نے مزید کہا کہ گھروں کی قیمتوں کے لیے منجمد خریدار لائے جائیں گے، اجرتوں کیلئے منجمد تنخواہیں رکھی جائیں گی؟
باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ واحد چیز جو حرکت میں ہے وہ ایران کا پلٹ کر آنے والا وار ہے۔
ٹرمپ کی دھمکی پرانی فلم، ہم کئی بار دیکھ چکے ہیں: عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی معاشی جنگ وہی پرانی امریکی غنڈہ گردی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ٹرمپ کی دھمکی پرانی فلم ہے، ہم کئی بار دیکھ چکے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی دھمکیوں کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں، ہم دھمکیوں، پابندیوں سے خوفزدہ نہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ امریکا کی تمام چالیں ناکام ہو چکی ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ نے ایک نئی جغرافیائی سیاسی بیداری کو جنم دیا: فوجی ترجمان
ایران کی فوج کے ترجمان کے مطابق ایران کے خلاف جنگ نے ایک نئی جغرافیائی سیاسی بیداری کو جنم دیا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت اور اس کے ممکنہ اثر و رسوخ کے بارے میں عوام میں شعور بڑھا ہے، یہ صورتحال ایران کی خارجہ پالیسی اور خطے میں اس کی پوزیشن پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ حالیہ دو جنگوں کے دوران ایران کے فوجی نظریے میں بتدریج تبدیلی آئی ہے اور یہ محض دفاعی پوزیشن سے زیادہ فعال اور پیش قدمی پر مبنی حکمتِ عملی کی طرف بڑھا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ ایران خود تنازعات کا آغاز کرے گا، بلکہ اس کا مقصد جارحیت کی صورت میں فوری اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ جنگ بندی کے دوران فوج اپنے نقصان زدہ نظام کی بحالی، نئی صلاحیتوں کو متعارف کرانے اور فوجی اہلکاروں کی تربیت پر توجہ دے رہی ہے۔
امریکی بحریہ نے طویل فاصلے کے نئے ایئر ٹو ایئر میزائل کی رونمائی کر دی
امریکی بحریہ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ نے طویل فاصلے کے نئے ایئر ٹو ایئر میزائل کی رونمائی کر دی، ایئرٹوایئرمیلس میزائل انتہائی طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، میزائل 463 کلومیٹر سے زائد فاصلے پر ہدف کو نشانہ بناسکتا ہے۔
نئے میزائل کی تصاویر پینٹاگون کے سرکار میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کی گئیں، پینٹاگون نے آفیشل پلیٹ فارم کے ذریعے نئے میلس میزائل کی تصدیق کر دی، امریکی بحریہ نے اسٹیلتھ فائٹر جیٹس کو نئے میزائل سے لیس کردیا۔
نیا امریکی ایئر ٹو ایئر میزائل 4.11 میٹر لمبا اور 0.34 میٹر چوڑا ہے، جدید امریکی میزائل کے پروں کا پھیلاؤ 0.67 میٹر رکھا گیا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کل تہران کا دورہ کریں گے: ایرانی وزارت خارجہ
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کو تہران کا دورہ کریں گے، دورے کے دوران اہم ملاقاتیں ہوں گی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ فیلڈمارشل عاصم منیر کے دورے کا مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششوں کا تسلسل ہے، دورے کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ایران مزاحمت اور استقامت سے دنیا کو حیران کرنے والی طاقت بن کر ابھرا: پزشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم اس وقت مکمل پیمانے کی معاشی، عسکری اور سکیورٹی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔
ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو ایک اور وینزویلا بنانے کوشش کی گئی، تاہم ایران نے اپنی مزاحمت، یکجہتی اور اتحاد کے باعث خود کو ایک ایسی ’’طاقت کے طور پر منوایا جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔
ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے دُشمنوں کو اُمید ہے کہ وہ مسائل کے ذریعے معاشرے میں تقسیم اور پھوٹ ڈال سکیں گے، ہم تقسیم، پھوٹ، تنازعات اور انا پرستی سے بچنے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہماری قوم نے ایک غیر معمولی کارنامہ انجام دیا ہے، ایران مکمل جنگ میں ہے، ہم ایک مکمل پیمانے کی معاشی، فوجی اور سکیورٹی جنگ لڑ رہے ہیں۔
مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ حکومت اس بات پر شرمندہ ہے کہ ملک کی معیشت کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ آسانی سے کہتے ہیں کہ وہ ایران پر سب سے زیادہ تباہ کن یا انتہائی سخت پابندیاں عائد کریں گے۔ ہم کھڑے ہیں اور اس غیر مساوی جنگ کے سامنے عوام کی خدمت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چین کے بغیر امریکا کیلئے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنا ممکن نہیں: نیویارک ٹائمز
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی کوششیں چین کے تعاون کے بغیر کامیاب ہونا مشکل ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم ترین خریدار ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن کے لیے بیجنگ کو نظر انداز کرنا آسان نہیں۔
رپورٹ کے مطابق چین نے 2025 میں ایران کے ساتھ تقریباً 41.2 ارب ڈالر کی تجارت کی، جبکہ اسی سال چین نے ایران سے تقریباً 31.2 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل درآمد کیا، چینی خریدار ایران کی مجموعی تیل برآمدات کا بعض اوقات تقریباً 90 فیصد تک حصہ لیتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کے تیل کے بڑے خریدار چین کی چھوٹی نجی ریفائنریاں ہیں، جنہیں عام طور پر ٹی پاٹس کہا جاتا ہے، یہ کمپنیاں عالمی مالیاتی نظام سے نسبتاً کم منسلک ہونے کی وجہ سے روایتی امریکی پابندیوں سے زیادہ محفوظ رہ سکتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایران کے بینکوں، کمپنیوں، تیل کے تاجروں اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کرسکتا ہے، لیکن اگر چین ایرانی تیل خریدتا اور تہران کے ساتھ تجارتی روابط برقرار رکھتا ہے تو ایران کے پاس آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ موجود رہے گا۔
دوسری جانب چین کے پاس بھی امریکا پر معاشی دباؤ ڈالنے کے ذرائع موجود ہیں، بیجنگ امریکا کو درکار اہم معدنیات کی برآمد محدود کرکے امریکی ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کو متاثر کرسکتا ہے، چین نے گزشتہ سال امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے دوران اہم معدنیات کی برآمد محدود کرکے اپنے معاشی اثر و رسوخ کا مظاہرہ بھی کیا تھا۔
تجزیے کے مطابق یہی صورتحال واشنگٹن کے لیے ایک مشکل پیدا کرتی ہے، امریکا ایران پر مزید پابندیاں عائد تو کرسکتا ہے، لیکن چین کے تعاون کے بغیر ایران کو مکمل طور پر معاشی طور پر تنہا کرنا مشکل ہوگا۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے باعث امریکا نے بحرالکاہل سے بعض فوجی اثاثے منتقل کیے ہیں، چینی مبصرین ان اقدامات کو ایشیا میں امریکی فوجی پوزیشن کے لیے ممکنہ کمزوری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے تجزیے کا کہنا ہے کہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی امریکی حکمت عملی کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ چین واشنگٹن کے ساتھ تعاون کرتا ہے یا تہران کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات برقرار رکھتا ہے۔
صدر پزشکیان کے 'نہ جنگ نہ امن' کے بیان کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ کے علاقائی ممالک سے رابطے
ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی کے ساتھ ’مذاکرات کی بحالی کے لیے موزوں حالات‘ اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
عمان حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے مصری ہم منصب بدر عبد العاطی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں خلیجِ فارس اور بحیرہ احمر کی صورتِ حال نیز خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری تازہ ترین سفارتی کوششوں پر بھی بات چیت کی۔
یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر ’نہ جنگ، نہ امن‘ کی کیفیت کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے طاقت کے ساتھ، مگر منطق کے ساتھ مذاکرات کرنا ممکن ہے۔
چلی کا تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان
چلی کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 31 اگست سے ایران میں اپنا سفارت خانہ بند کر دے گی، تاہم اس بات پر زور دیا ہے کہ اس فیصلے کا مطلب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کا خاتمہ نہیں ہے۔
چلی کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران میں سفارت خانہ بند ہونے کے بعد، ملک کے قونصلر امور ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں موجود چلی کے قونصل خانے کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔
وزارت نے اس فیصلے کی وجوہات میں حکومتی خارجہ پالیسی کے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے آپریشنل تنظیمِ نو اور وسائل کی ترجیحات کا تعین، نیز مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتِ حال سے متعلق احتیاطی پہلوؤں کا حوالہ دیا ہے۔
چلی کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر ہوزے انتونیو کاسٹ، جو مارچ سے اقتدار میں ہیں، ٹرمپ انتظامیہ سے ہم آہنگ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ تاہم، ان کی انتظامیہ کے کچھ ارکان نے حالیہ ہفتوں میں لاطینی امریکہ کے حوالے سے امریکی طرزِ عمل پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
امریکا کے رویے میں تبدیلی تک آبنائے ہرمز بند رہے گی: ایران
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکا کی قیادت میں جاری اقتصادی ناکہ بندی میں شامل ہونے والے کسی بھی ملک کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ ناکہ بندی جاری رہی تو خلیج فارس سے تیل کا ایک قطرہ بھی کسی بھی راستے سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ایران نے ابھی تک امریکی اقتصادی مفادات کو نشانہ نہیں بنایا، تاہم اگر ایسی دشمنانہ کارروائیاں جاری رہیں تو یہ آپشن بدستور موجود ہے، آبنائے ہرمز بند ہے اور اس وقت تک دوبارہ نہیں کھلے گی جب تک امریکا اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا اور اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا۔ سب سے پہلے انہیں عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
ایرانی ہیکرز کے برطانیہ پر پہلے سائبر حملے کا انکشاف، پاور پلانٹ 4 روز تک بند رہا
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی ہیکرز نے گزشتہ ماہ اپنی نوعیت کے پہلے سائبر حملے کے ذریعے ایک برطانوی پاور پلانٹ کو 4 دن کے لیے بند کر دیا تھا۔
برطانوی اخبار کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب ایرانی حکومت سے وابستہ ہیکرز برطانیہ میں کسی ایسی تنصیب کو بند کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ٹیلی گراف کے مطابق یہ واقعہ عین اسی وقت پیش آیا جب گزشتہ ماہ امریکا میں پانی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا تھا جس نے 12 امریکی ریاستوں کو متاثر کیا اور وائٹ ہاؤس میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔
برطانوی حکام نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کرنے سے گریز کیا ہے کہ اس حملے میں کون سا پاور پلانٹ متاثر ہوا ہے، تاہم متاثرہ پاور پلانٹ 4 دن تک مکمل طور پر غیر فعال رہا اور اس دوران عملہ اسے دوبارہ فعال کرنے کے لیے مسلسل تگ و دو کرتا رہا۔
اخبار کے مطابق امکان ہے کہ متاثرہ پلانٹ نسبتاً چھوٹا تھا اور اس کی بندش سے برطانیہ کے بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے وسیع تر نظام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ اگرچہ بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے عام ہونے کے حوالے سے انتباہات جاری کیے جاتے رہے ہیں لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے قبل کوئی بھی ہیکر کسی برطانوی پاور پلانٹ کو مکمل طور پر بند کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ اس واقعے کا مقصد غالباً یہ ثابت کرنا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک ہیکرز برطانیہ کے حساس سسٹمز تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں اور اہم تنصیبات کو بند کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
دشمن کے سامنے ذلت آمیز طور پر نہیں جھکیں گے: ایرانی صدر پزشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر نہ جنگ، نہ امن کی صورتحال کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای نے بھی اپنے قتل سے قبل اسی مؤقف کا اظہار کیا تھا۔
صدر پزشکیان نے ڈاکٹروں کے دن کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای نے اپنی ملاقاتوں اور تقاریر میں ’عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ ہمیں نہ جنگ، نہ امن کی اس صورتحال سے باہر نکلنا چاہئے۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ’حکمت، تدبر، دانشمندی اور وقار‘ کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہوں گے، ہم دشمن کے سامنے ذلت آمیز طور پر نہیں جھکیں گے۔ ہم طاقت کے ساتھ، لیکن منطق کی بنیاد پر بیٹھ کر اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں۔
صدر پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں متعدد بار اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کے بارے میں مذاکرات اور فیصلہ سازی میں شامل افراد کے نزدیک یہ بہترین مفاہمت کی یادداشت تھی۔
ان کے یہ تازہ بیانات گزشتہ چند دنوں کے دوران جنگ کے خاتمے اور سیاسی حل کی جانب پیش رفت کی ضرورت سے متعلق ان کے مؤقف کا تسلسلسمجھے جا رہے ہیں۔
ایران کیخلاف معاشی جنگ سے امریکا کو کوئی کامیابی نہیں ملے گی: سابق امریکی وزیر دفاع
سابق امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف چھیڑی گئی معاشی جنگ سے امریکا کو کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملے گی۔
ایک بیان میں لیون پینیٹا نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز بند کر کے امریکا پر اقتصادی دباؤ بڑھا رہا ہے، ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ اقدامات تہران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکیں گے۔
انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو زیادہ دباؤ کی پالیسی کے بجائے تہران کے ساتھ سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہئے۔
امریکی فوج کے سابق افسر سیڈریک لائٹن نے کہا ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کو غذا اور طبی سامان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا جنگی جرم ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام سے عالمی سطح پر بہت چیخ و پکار مچے گی، اقدام سے دیگر ممالک کا امریکا سے متعلق رویہ بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔
امریکا کی معاشی جنگ میں مدد کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنائیں گے: محسن رضائی
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ دوسرے ممالک ایران کے خلاف اقتصادی اقدامات میں امریکا کا ساتھ دینے سے گریز کریں بصورت دیگر ایران ان کے مفادات کو نشانہ بنائے گا۔
اپنے بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ ایران پر حملوں کے ساتھ ٹرمپ کی حماقتوں نے دنیا بھر کے ممالک میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش کو بڑھا دیا، اس خواہش میں تب اضافہ ہوا جب دیکھا گیا آئی اے ای اے اور جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کی رکنیت امریکی حملوں کو روکنے میں غیر مؤثر رہی۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے جوہری سلامتی کے بجائے جوہری عدم تحفظ پیدا کیا، ایران نے تمام بین الاقوامی حفاظتی اقدامات کو قبول کیا، ایران واحد ملک ہے جو ایٹمی ضوابط کی پاسداری میں تمام ممالک سے آگے ہے، ایران کو امریکا کے ساتھ تنازع اور اپنے سفارتی طرز عمل میں تبدیلی لانی چاہیے۔
محسن رضائی نے کہا کہ آج کا ایران جنگ سے پہلے والا ایران نہیں، فوجی تقرریاں نشاندہی کرتی ہیں کہ ایران جنگ کیلئے ہر دم تیار رہنے کا ارادہ رکھتا ہے، ایرانی نوجوانوں میں امریکا کا امن پسند ملک کا تصور یکسر بدل چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا سمجھ چکی ہے ٹرمپ بے وقوف انسان ہیں، دنیا ایران کو نئے انداز سے دیکھ رہی ہے، جنگ کے طریقے میں تبدیلی لائی جائے گی، امریکا سے جنگ کے تجربات اگلی جنگ میں استعمال کریں گے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکی سمجھتے تھے جنگ ختم کر کے تیل اور گیس پر قبضہ کر لیں گے، جنگ میں 1200 آئل ٹینکر استعمال کے قابل نہیں رہے، 15 فیصد عالمی فلیٹ ناکارہ ہوگیا، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے تیل کا ایک قطرہ بھی باہر نہیں جائے گا، ہم تیل کی برآمد کے دیگر راستوں کو بھی نشانہ بنائیں گے۔
محسن رضائی نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کو اسرائیلی وزیراعظم نے ایران پر اقتصادی جنگ مسلط کرنے کیلئے قائل کیا، ٹرمپ شکوک و شبہات کا شکار تھے لیکن نیتن یاہو نے قائل کیا کہ وہ اس اقدام کو محض 2 سے 3 ماہ تک آزما کر دیکھیں اور پھر جائزہ لیں کہ آیا اسے مزید 6 ماہ تک جاری رکھنا ہے یا نہیں۔