امریکا ایران جنگ

امریکا ایران جنگ

اقوام متحدہ کا ایران میں شادی کی تقریب پر حملے پر تشویش کا اظہار

ایران سے کشیدگی، امریکا نے مشرق وسطیٰ میں فوجی تعیناتی بڑھا دی

امریکا نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی تعیناتی کی مدت 2027 تک بڑھا دی ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کےمطابق امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے خطے میں تعینات بعض امریکی فوجیوں کی موجودگی میں توسیع کی منظوری دی ہے۔

امریکی بحری،فضائی اور دیگر دفاعی یونٹس خطےمیں بدستور موجود رہیں گے،مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

رپورٹ کےمطابق امریکی فوجی خطےمیں ایرانی میزائلوں کو روکنے،تجارتی جہازوں کی حفاظت اور آبنائے ہرمز میں کارروائیوں سمیت مختلف مشنز انجام دے رہے ہیں، طویل تعیناتی کے باعث امریکی فوجی وسائل اور تیاری پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب برطانوی خبر ایجنسی نےاپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہےکہ امریکا چاہتا ہےکہ مڈٹرم الیکشنز تک ہلکی پھلکی ایران جنگ لگی رہے تاہم نومبر انتخابات کے بعد ایران پر حملوں میں شدت آسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق صدرٹرمپ کےمعاون چاہتےہیں کہ نومبر تک ایران جنگ نہ بڑھے تاکہ ری پبلکنز انتخابات نہ ہاریں، الیکشنز تک ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ ایران پر اقتصادی دباو بڑھایا جائے۔

ایران پر ایک اور حملے کیلئے تیار، نئی مہم زیادہ دیر تک جاری نہیں رہے گی: صدر ٹرمپ

امریکی صدر کا ایران پر مزید حملوں کا اشارہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کردیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر ایک اور حملے کیلئے تیار ہیں، ایران کے خلاف نئی مہم زیادہ دیر تک جاری نہیں رہے گی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی رجیم وقت کے ساتھ کمزور ہوتی جارہی ہے، ہم ایران میں حیرت انگیز نتائج حاصل کررہے ہیں، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، ایران ریڈار اور میزائل سسٹم دوبارہ بنانے کی کوشش کررہا تھا۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کی ہر سرگرمی پر ہماری گہری نظر ہے، ایرانی عوام جلد اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے، ایرانی عوام اپنی حکومت کا مزید جبر برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں 65 ہزار مظاہرین ہلاک ہو چکے، ایران مظاہرین کو آنکھوں کے درمیان گولی مارتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کوہستک میں شادی کی تقریب پر حملے پر تشویش کا اظہار

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک کا کہنا ہے کہ سیکرٹری جنرل نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب امریکا اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل کو ’خاص طور پر شہری ہلاکتوں کی اطلاعات پر تشویش ہے، جن میں شادی کی ایک تقریب پر حملہ بھی شامل ہے، شہریوں پر حملے کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔

پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے دوجارک کا کہنا تھا  کہ سیکریٹری جنرل تمام فریقوں سے انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے، بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنے اور کسی بھی ایسے اقدام یا بیان سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہیں جو کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہو۔

فضائی دفاعی نظام دشمن کے میزائلوں اور ڈرونز کے خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے: کویتی فوج

کویتی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے تصدیق کی ہے کہ اس وقت جو ملک میں دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں، وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کے نتیجے میں آ رہی ہیں۔

کویتی فوج کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی اور سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔

یاد رہے کہ بدھ کی صبح پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج نے اعلان کیا تھا کہ امریکا کے فضائی حملوں کے جواب میں بحرین، اردن اور کویت میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

 اس خبر کی اشاعت تک ایرانی فوجی ذرائع کی جانب سے کویت کے خلاف کسی نئے میزائل یا ڈرون حملے کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

ایرانی حملے کی صورت میں بڑی طاقت سے جواب دیں گے: اسرائیل

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کے حملے کی صورت میں وہ بڑی طاقت سے جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے حملہ کیا تو ان کا ملک بڑی طاقت کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار ہے، یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی فورسز نے خطے بھر میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ان کی افواج یہودیوں کے ایک اہم مذہبی تہوار کے موسم کے دوران ممکنہ ایرانی حملے کے لیے تیار ہیں، جو ستمبر کے وسط میں شروع ہوگا، فی الحال وہ پورے خطے میں حملے کر رہے ہیں، سوائے ہمارے۔ لیکن اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ ہم پر بھی حملہ کریں۔ ہم دفاعی طور پر اس کے لیے تیار ہیں۔

کاٹز کے مطابق اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل بڑی طاقت کے ساتھ، کسی اور کی مدد یا اجازت کے بغیر جواب دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے طیارے اڑان بھرنے کے لیے تیار ہیں۔

ایران پر ایک اور حملے کیلئے تیار، نئی مہم زیادہ دیر تک جاری نہیں رہے گی: صدر ٹرمپ

امریکی صدر کا ایران پر مزید حملوں کا اشارہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کردیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر ایک اور حملے کیلئے تیار ہیں، ایران کے خلاف نئی مہم زیادہ دیر تک جاری نہیں رہے گی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی رجیم وقت کے ساتھ کمزور ہوتی جارہی ہے، ہم ایران میں حیرت انگیز نتائج حاصل کررہے ہیں، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، ایران ریڈار اور میزائل سسٹم دوبارہ بنانے کی کوشش کررہا تھا۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کی ہر سرگرمی پر ہماری گہری نظر ہے، ایرانی عوام جلد اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے، ایرانی عوام اپنی حکومت کا مزید جبر برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں 65 ہزار مظاہرین ہلاک ہو چکے، ایران مظاہرین کو آنکھوں کے درمیان گولی مارتا ہے۔

روس خفیہ طور پر ایران کو جدید سپر سونک کروز میزائل تیار کرنے میں مدد دے رہا: برطانوی میڈیا

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس خفیہ طور پر ایران کو جدید سپر سونک کروز میزائل تیار کرنے میں مدد دے رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس مبینہ طور پر کئی سال سے ایران کو جدید سپر سونک کروز میزائل تیار کرنے کے لئے ریم جیٹ ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے، یہ روس کی جانب سے ایران کو حساس اسٹریٹجک عسکری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے سب سے اہم معلوم واقعات میں سے ایک ہے۔

فنانشل ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ اس پروگرام کا کوڈ نام C430L ہے اور یہ 2023 میں شروع ہوا تھا، اس میں روس کے انتہائی تجربہ کار میزائل ماہرین شامل ہیں، اس پروگرام کا مقصد ایران کو ایسا میزائل نظام تیار کرنے میں مدد دینا ہے جس کی مدد سے کروز میزائل آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ رفتار سے پرواز کرسکیں۔

امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران بھی یہ پروگرام جاری رہا، ریم جیٹ ٹیکنالوجی کو بحری جہازوں کے خلاف اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائلوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سپر سونک کروز میزائل انتہائی تیز رفتار کے ساتھ کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے فضائی اور میزائل دفاعی نظاموں کو انہیں شناخت کرنے اور روکنے کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔

خلیج میں یہ ٹیکنالوجی ایران کے لیے خاص طور پر اہم ثابت ہو سکتی ہے جہاں امریکا اور اس کے اتحادی جدید زمینی اور بحری دفاعی نظام تعینات کئے ہوئے ہیں۔