ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا
ایران نے امریکا کی جانب سے 27 ایرانی ایئرلائنز پر عائد نئی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ امریکا نے 8 ستمبر کو ایرانی فضائی شعبے پر نئی پابندیاں عائد کی تھیں، جن کے تحت ایران کی باقی ماندہ ایئرلائنز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی مندوب نے امریکی پابندیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خط ارسال کیا، جس میں پابندیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
ایرانی سفیر غلام حسین درزی نے کہا کہ ایرانی ایئرلائنز پر امریکی پابندیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ امریکا اجتماعی سزا اور انسانیت کے خلاف جرم کا مرتکب ہو رہا ہے۔
ایران حوثیوں کے ذریعے بحیرہ احمر پر کنٹرول چاہتا ہے: یمنی سفیر
یمن کے قطر میں سفیر راجح بادی نے الزام عائد کیا ہے کہ یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے اور وہ حوثی باغیوں کو استعمال کرکے بحیرۂ احمر کی بحری گزرگاہوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
یمنی سفیر نے لڑائی شروع کرنے کا ذمہ دار حوثیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ بحیرۂ احمر کے ساتھ اہم اور تزویراتی علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
بادی نے کہا کہ ایران اور حوثیوں کے درمیان تعلق اب کوئی راز نہیں رہا، تہران حوثیوں کو اپنے باقی ماندہ دباؤ کے ذریعے کے طور پر مزید مضبوط بنانے پر زور دے رہا ہے۔
بادی نے مزید کہا کہ اگر ایران کے بارے میں یہ دعویٰ درست ہے کہ وہ آبنائے ہرمز اور باب المندب پر گرفت رکھتا ہے، تو یہ صورتحال کسی بھی جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے سے زیادہ طاقتور ثابت ہوسکتی ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے آج 40 فضائی حملے کیے گئے: حوثی باغی
یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فورسز نے حالیہ حملوں کے ایک نئے سلسلے میں تقریباً 40 فضائی حملے کیے ہیں، یہ حملے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر کیے گئے حملوں کے بعد کیے گئے۔
حوثیوں کی خبر رساں ایجنسی صبا نے کہا کہ سعودی دشمن کی فضائیہ نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تعز، حدیدہ، الجوف اور مآرب کے صوبوں میں تقریباً 40 حملے کیے۔
حوثی باغیوں کا سعودیہ کے 3 شہروں پر حملہ، یمنی وزیر دفاع کو یرغمال بنا لیا
یمن میں حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، یمنی وزیر دفاع کو بھی یرغمال بنا لیا۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں نے خمیس مشیط، ابہا اور جازان کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے۔
ترجمان نے حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی، تاہم کہا کہ اتحادی افواج سعودی عرب کی خودمختاری، قومی تنصیبات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ان حملوں کا مناسب جواب دیں گی۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں تیزی آگئی ہے۔
اس کے علاوہ یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل طاہر علی کے قافلے پر صوبہ الضالع میں حملے اور گھیراؤ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد وزیر دفاع کے تمام محافظوں کو قابو کرکے حراست میں لے لیا گیا جبکہ وزیر دفاع کو بھی محصور کردیا گیا ہے اور ان کے ممکنہ اغوا یا یرغمال بنائے جانے سے متعلق متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں تاہم واقعے کی حتمی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
حوثی باغیوں کے متوازی وزیر دفاع محمد ناصر کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ گزشتہ روز صوبہ تعز کے مغربی علاقے البرح میں یمنی فوج نے ان کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا جہاں متعدد حوثی کمانڈر ہلاک ہوئے۔
حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں توانائی اور فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ سعودی حمایت یافتہ فورسز یمن میں حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی کر رہی ہیں۔
تازہ کشیدگی کے باعث بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہم بحری گزرگاہوں کی سکیورٹی پر بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یمن میں گزشتہ ہفتے سے جاری نئی لڑائی میں 500 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم مختلف فریقوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
سعودی عرب پر حوثیوں کا بڑا حملہ، 3 شہروں پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغ دیئے
یمن میں حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں نے خمیس مشیط، ابہا اور جازان کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے۔
ترجمان نے حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی، تاہم کہا کہ اتحادی افواج سعودی عرب کی خودمختاری، قومی تنصیبات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ان حملوں کا مناسب جواب دیں گی۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں تیزی آگئی ہے۔
اس کے علاوہ یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل طاہر علی کے قافلے پر صوبہ الضالع میں حملے اور گھیراؤ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد وزیر دفاع کے تمام محافظوں کو قابو کرکے حراست میں لے لیا گیا جبکہ وزیر دفاع کو بھی محصور کردیا گیا ہے اور ان کے ممکنہ اغوا یا یرغمال بنائے جانے سے متعلق متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں تاہم واقعے کی حتمی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
حوثی باغیوں کے متوازی وزیر دفاع محمد ناصر کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ گزشتہ روز صوبہ تعز کے مغربی علاقے البرح میں یمنی فوج نے ان کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا جہاں متعدد حوثی کمانڈر ہلاک ہوئے۔
حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں توانائی اور فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ سعودی حمایت یافتہ فورسز یمن میں حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی کر رہی ہیں۔
تازہ کشیدگی کے باعث بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہم بحری گزرگاہوں کی سکیورٹی پر بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یمن میں گزشتہ ہفتے سے جاری نئی لڑائی میں 500 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم مختلف فریقوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایرانی میزائل حملوں سے اردن میں امریکی فضائی اڈے پر کئی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا
امریکی ٹی وی سی بی ایس نیوز نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی میزائل حملوں سے اردن میں امریکی فضائی اڈے پر متعدد طیاروں کو نقصان پہنچا، ایرانی حملے میں 8 ایف 15 طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا، مرمت کے بعد طیاروں کو دوبارہ فضائی بیڑے میں شامل کر دیا گیا۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق اے 10 تھنڈربولٹ طیاروں کا ایک ونگ مکمل تباہ ہو گیا، حملوں میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا، فوجی اڈے پر ایرانی حملوں سے بچاؤ کے لیے 30 سے زیادہ پیٹریاٹ میزائل داغے گئے۔
امریکا، ایران کشیدگی سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے ساتھ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں بھی اضافہ جاری ہے۔
عالمی منڈی میں مربن خام تیل ساڑھے 7 فیصد اضافے کے بعد 118 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہورہا ہے۔
اس کے علاوہ برینٹ خام تیل کی قمیت 3 ڈالر اضافے کے بعد 101 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی 1 ڈالر اضافے سے ستانوے ڈالر فی بیرل ہوگیا۔
ایران کے جزیرے قشم اور سیریک میں متعدد دھماکوں کی آوازیں، ایرانی میڈیا

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے جزیرے قشم اور سیریک میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق آبنائے ہرمز میں واقع قشم جزیرے پر کچھ دیر قبل ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ دھماکے کی آواز سمندر سے آئی یا دھماکا قشم جزیرے کے اندر ہوا، تاہم سیریک کے کئی علاقوں کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکا میں مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران میں جنگ ختم ہوجائے گی: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ایران میں جنگ ختم ہوجائے گی اور تیل کی قیمتیں تیزی سے گر جائیں گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیلاس روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے خواہاں نہیں تاہم مذاکرات کا امکان موجود ہے، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول امریکا کے پاس ہے، ایرانی بحریہ کے 9 جہاز تباہ کردیئے، ایران کے محاصرے کے نتائج اچھے آرہے ہیں۔
امریکی صدر کا مزید کہنا ہے کہ پیوٹن یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے معاہدہ چاہتے ہیں، مغربی کنارے پر عائد پابندیوں کے معاملے پر اسرائیل سے بات کروں گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے پیوٹن معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، روسی صدر پیوٹن کے ساتھ اچھی گفتگو ہوئی، امریکی صدر نے پیوٹن کے ساتھ ملاقات کا امکان بھی ظاہر کردیا۔
اردن میں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز متبادل مقامات پر منتقل
اردن میں امریکی فوج نے موافق السلطی ایئربیس سے بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز کو متبادل مقامات پر منتقل کرنا شروع کردیا۔
غیر ملکی میڈیا اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق غیر معمولی طور پر ہیلی کاپٹرز کو پرواز کے بجائے مکمل حالت میں فلیٹ بیڈ ٹرکوں کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں صورتحال انتہائی حساس ہے اور امریکی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا خطرہ درپیش ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ہیلی کاپٹرز کی منتقلی کا مقصد انہیں ممکنہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنا اور امریکی عسکری اثاثوں کو مختلف مقامات پر پھیلانا ہوسکتا ہے۔
یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بعض ہیلی کاپٹرز حالیہ حملوں میں ملبے یا دیگر نقصانات کے باعث اپنی مدد سے پرواز کے قابل نہ ہوں۔
امریکا خطے میں عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرے: ایران
ایران نے یمن کی انصار اللہ سے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے الزامات مسترد کردیے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کہتے ہیں انصار اللہ یمن کی خودمختار تنظیم ہے جو اپنے فیصلے خود کرتی ہے، انصار اللہ نہ کسی سے احکامات لیتی ہے نہ کسی کی پراکسی ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ خطے میں عدم استحکام کی جڑ امریکی فوجی مداخلت اور حاکمانہ پالیسیاں ہیں، واشنگٹن حقیقی معنوں میں امن چاہتا ہے تو خطے میں عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ بموں اور بیرونی دباؤ سے یمن میں امن قائم نہیں کیا جاسکتا، تمام فریقوں کے متفقہ روڈ میپ کی بنیاد پر حقیقی مذاکرات سے امن قائم ہوگا۔