امریکا ایران جنگ

امریکا ایران جنگ

ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمے کے قریب ہیں: ٹرمپ

جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کی ہے، حوثیوں نے امریکا کو 2025 کی جنگ بندی برقرار رہنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اس موقع پر حوثیوں نے امریکا کو کہا کہ بحیرۂ احمر میں امریکی بحری جہاز ان کا ہدف نہیں، سعودی عرب سے منسلک جہازوں کو ہدف سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب امریکا نے یمن میں حوثی پیش قدمی پر تشویش ظاہر کی اور سعودی عرب کی فوجی مدد نہیں کی، برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں پر حملوں کے لیے بات کی تھی جو ٹرمپ نے رد کر دی۔

یاد رہے کہ امریکا نے مارچ 2025 میں حوثیوں کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

قبل ازیں امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس اور برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی سفارتکاروں نے عمان میں یمن کے حوثی نمائندوں سے ملاقات کی ہے، یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب حوثیوں نے حالیہ دنوں میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں بڑی پیش قدمی کرتے ہوئے سعودی حمایت یافتہ فورسز کو پسپا کر دیا ہے۔

ایگزیوس کے مطابق یہ ملاقات عمانی حکومت کی مدد سے مسقط میں ہوئی، اور اس میں امریکا اور حوثیوں کے درمیان جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور آبنائے باب المندب کے تحفظ کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

ایک یمنی ذریعے کے مطابق حوثیوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اسرائیلی یا دیگر تجارتی جہازوں پر حملے نہیں کریں گے، تاہم سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے بحری جہاز اس استثنا سے باہر ہوں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اس مخصوص ملاقات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا تھا، تاہم ترجمان کا کہنا تھا کہ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کا تحفظ اور مشرق وسطیٰ سے دہشت گردی کی سرگرمیوں کی روک تھام امریکا کے بنیادی مفادات میں شامل ہیں۔

سعودی فوجی اتحاد کے یمن میں کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے

یمن کے صوبہ تعز میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے جنگی طیاروں نے تین ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز کو نشانہ بنایا ہے۔

حوثیوں کے زیرِ انتظام ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق فضائی حملے تعز ضلع کے علاقوں الذکرہ اور الحوبان جبکہ ضلع خدیر کے علاقے الراھدہ میں واقع مواصلاتی ٹاورز پر کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر جانی نقصان یا زخمیوں کی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے ان حملوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان جاری تنازع کے دوران مواصلاتی اور دیگر اہم تنصیبات متعدد مرتبہ حملوں کی زد میں آ چکی ہیں۔

حوثی باغیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کا ایک ایف-15 جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔

حوثی عسکری میڈیا کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی، جس میں مسلح حوثی جنگجو ایک تباہ شدہ طیارے کے ملبے کے قریب کھڑے دکھائی دیتے ہیں، ویڈیو کے ساتھ جاری بیان میں حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ حوثی فورسز نے سعودی فضائیہ کا ایک ایف-15 طیارہ نشانہ بنا کر تباہ کیا۔

آزاد ذرائع سے نہ تو اس ویڈیو کے مقام کی تصدیق ہو سکی ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ ویڈیو کب فلمائی گئی، دستیاب معلومات کے مطابق 16 ستمبر سے قبل اس ویڈیو کا کوئی پرانا ورژن آن لائن نہیں ملا۔

ویڈیو میں دکھائی دینے والے طیارے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے فوری طور پر اس کے ماڈل کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی، البتہ طیارے کے دم والے حصے پر سعودی عرب کا قومی پرچم واضح طور پر نظر آتا ہے، جس سے اس کے سعودی فضائیہ سے تعلق رکھنے کا تاثر ملتا ہے۔

ویڈیو کے مختلف مناظر میں ملبے کی شکل، ساخت اور جلنے کے آثار ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تمام تصاویر اور مناظر ایک ہی طیارے کے ملبے کی عکاسی کر رہے ہیں۔

سعودی حکام کی جانب سے تاحال حوثیوں کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ طیارے کی تباہی اور اس کی نوعیت کے بارے میں آزادانہ تصدیق بھی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال پر غور

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رابطہ کیا اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دورہ بیجنگ کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر سے رابطہ کیا، ٹیلی فون پر بات چیت میں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

 ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کے باہمی دلچسپی کے امور کا جائزہ لیا گیا۔

قبل ازیں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران نے خطے میں امن و امان کی بحالی کے لئے پڑوسی ممالک کے ساتھ مذاکرات شروع کئے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا کہنا تھا کہ وہ ایرانی عوام کے ناقابل تسنیخ حقوق کے تحفظ کے لئے خطے میں امن کی بحالی اور پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ و پرامن تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں۔

اس موقع پر چین نے امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کی طرف واپس آئیں۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا تھا کہ چین نہیں چاہتا کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھے اور یمن و بحیرہ احمر تک پھیل جائے۔

وانگ ای نے امریکا اور ایران سے زیرِ التوا معاملات پر بامعنی مذاکرات کرنے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والے اتفاق رائے کی بنیاد پر مذاکراتی فریم ورک بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری تنازع کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔

ایران معاہدہ چاہتا ہے، جنگ کا خاتمہ قریب ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کیرولینا میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔

ریپبلکن سینیٹ امیدوار مائیکل وہٹلی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں گیسٹونیا میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہم جنگ کے خاتمے کے قریب ہیں۔ وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، اب دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔

ٹرمپ کئی ماہ سے یہ مؤقف دہراتے آ رہے ہیں کہ ایران مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کا خواہاں ہے۔ تاہم اس دوران امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے متعدد رابطے اور مذاکرات کسی مستقل سمجھوتے پر منتج نہیں ہو سکے، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیاں بھی کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل، ایندھن اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے پر امریکی ووٹروں کی تشویش بڑھ رہی ہے۔ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ صورتحال کئی ریپبلکن امیدواروں کے لیے سیاسی چیلنج بن چکی ہے۔

مبصرین کے مطابق بڑھتے معاشی دباؤ اور عوامی خدشات نے ٹرمپ انتظامیہ کو کم از کم عوامی سطح پر ایران کے ساتھ مذاکرات کی حمایت اور جنگ کے خاتمے کی بات کرنے پر آمادہ کیا ہے۔

سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ

ایران کا کہنا ہے کہ ہم سفارتی حل کا خیر مقدم کرتے ہیں تاہم اپنی قومی خود مختاری کا دفاع جاری رکھیں گے۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران نے خطے میں امن و امان کی بحالی کے لئے پڑوسی ممالک کے ساتھ مذاکرات شروع کئے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا کہنا تھا وہ ایرانی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کے تحفظ کے لئے خطے میں امن کی بحالی اور پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ و پرامن تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں۔

واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات کیلئے چین پہنچ تھے جہاں ان کی اپنے چینی ہم منصب وانگ ای سے ملاقات ہوئی تھی، ملاقات کے موقع پر چین نے امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کی طرف واپس آئیں۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا تھا کہ چین نہیں چاہتا کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھے اور یمن و بحیرہ احمر تک پھیل جائے۔

وانگ ای نے امریکا اور ایران سے زیرِ التوا معاملات پر بامعنی مذاکرات کرنے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والے اتفاق رائے کی بنیاد پر مذاکراتی فریم ورک بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری تنازع کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔

امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع

  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق یہ ملاقاتیں آئندہ منگل کو ہونے کا امکان ہے اور ان میں ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور اس کے بعد خطے کے لئے امریکی حکمت عملی پر بات چیت کی جائے گی، متوقع ملاقاتوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے نمائندے شریک ہوں گے۔

امریکی صدر اور ان کی ٹیم ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بعد کی علاقائی حکمت عملی تیار کر رہی ہے جسے آئندہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد حتمی شکل دی جاسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کے باعث ایرانی حملوں اور تیل و گیس کی برآمدات میں رکاوٹوں سے معاشی نقصان کا سامنا کیا ہے۔

اسی پس منظر میں واشنگٹن اور خلیجی دارالحکومتوں کے درمیان آئندہ کے علاقائی سکیورٹی انتظامات پر مشاورت اہم سمجھی جارہی ہے، ایگزیوس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے ان ملاقاتوں کے لئے ابتدائی دعوت نامے بھی ارسال کئے ہیں۔