فرانس کا سعودی اہم بندرگاہ ینبع کے تحفظ کیلئے فوجی وسائل فراہم کرنے کا اعلان
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا سعودی عرب کی اہم بندرگاہ ینبع کے تحفظ کے لئے فوجی وسائل فراہم کرنے کا اعلان کر دیا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے حملوں کے بعد سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں، فرانس اس مشن کے لے فوجی اہلکار، ریڈار اور دفاعی نظام سعودی عرب بھیجے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوجی وسائل فراہم کرنے کا مقصد ہے کہ ینبع کے اہم تیل برآمدی مرکز کی حفاظت میں مدد دی جا سکے۔
امریکا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر اسرائیل مخالف مظاہرہ
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع پر نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرے میں فلسطینیوں سمیت مختلف پس منظر رکھنے والے افراد نے شرکت کی، مظاہرین نے ہاتھوں میں فلسطین کے حق اور اسرائیل کی مخالفت میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جبکہ اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں نعرے بھی لگائے گئے۔
رائٹرز کے مطابق مظاہرین کی بڑی تعداد نے اقوام متحدہ کے قریب سڑکوں پر احتجاج کیا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی، بعض مظاہرین نے سڑک پر بیٹھ کر احتجاج کیا جبکہ پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات رہی۔
رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران متعدد افراد کو پولیس نے حراست میں بھی لیا، مظاہرین میں فلسطینی، یہودی اور دیگر کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔
نیتن یاہو کی تقریر، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے 77 ممالک کے وفود کا واک آؤٹ
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے آغاز پر درجنوں ممالک کے وفود احتجاجاً اجلاس ہال سے باہر نکل گئے۔
خبر ایجنسی کے مطابق نیتن یاہو کی تقریر کے دوران 77 ممالک کے وفود یا تو ہال سے واک آؤٹ کر گئے یا پہلے ہی اجلاس میں موجود نہیں تھے، تاہم بعض ممالک کی عدم موجودگی کو احتجاجی واک آؤٹ قرار نہیں دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق واک آؤٹ میں عرب ممالک سمیت ایشیا، افریقہ، یورپ اور لاطینی امریکا کے متعدد ممالک کے نمائندے شامل تھے، ترکیہ، ایران، پاکستان، ملائیشیا، بنگلہ دیش، شام، اردن، عراق، ازبکستان اور کرغزستان سمیت کئی ممالک کے وفود نے نیتن یاہو کے خطاب کے آغاز پر ہال چھوڑ دیا۔
رپورٹس کے مطابق فلسطینی مشن نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے نمائندوں سے نیتن یاہو کے خطاب کے آغاز پر اجتماعی طور پر ہال سے باہر نکلنے کی اپیل کی تھی۔
واک آؤٹ کا یہ واقعہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر جنرل اسمبلی میں موجود شدید سفارتی اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔
دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ بحرِ ہند سے آگے تک پھیل سکتا ہے: ایران
ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ بحرِ ہند اور ممکنہ طور پر اس سے آگے تک پھیل سکتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کو جاری کی گئی ویڈیو میں صفوی نے کہا کہ موجودہ تنازع خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے بحیرۂ احمر تک پھیل چکا ہے، اس لیے مزید جنگ کی صورت میں محاذ بحرِ ہند تک پھیلنے کا امکان ہے۔
میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی کے مطابق ایرانی فوج نے امریکا اور اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں بدترین حالات سے نمٹنے کے لیے منصوبے تیار کر رکھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا نے نئی جنگ شروع کی تو بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب کے مرکز میں ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے۔
صفوی نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں پر یمن کے حوثیوں کی تعریف بھی کی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر گفتگو
وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی، جس میں پاک ایران تعلقات اور خطے کی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شریک تھے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ترکمانستان نے ایرانی طیارے کو فضائی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا
ترکمانستان نے ایرانی طیارے کو اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا، اجازت نہ ملنے پر ایرانی پرواز کو واپس تہران لوٹنا پڑا۔
ایرانی سول ایوی ایشن کے مطابق ایرانی طیارے کو ہنگامی طور پر تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتارا گیا، ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ترجمان مجید اخوان نے واقعے کی تصدیق کردی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات جانے والی تمام ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پروازوں کی معطلی سے متعلق ایران کو تاحال باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا۔
ترجمان ایرانی سول ایوی ایشن کے مطابق اماراتی ہوائی اڈوں کے ڈپارچر بورڈز سے ایرانی پروازوں کا شیڈول ہٹا دیا گیا ہے۔
غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ٹرمپ امن کمیشن کا 2.45 ارب ڈالر کا منصوبہ پیش
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن مشن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کا عمل شروع کرنے کے لیے 2.45 بلین ڈالر کے منصوبے کی نقاب کشائی کی۔
اس منصوبے کے مطابق یہ بجٹ 66 پروگراموں پر عمل درآمد کے لیے چھ ماہ کے دوران خرچ کیا جائے گا، رہائش کی فراہمی، ڈیزل جنریٹرز کے ساتھ بجلی کی پیداوار، اور کچرا اور ملبہ جمع کرنا اس پروگرام کے اہم حصوں میں شامل ہیں۔
امن ٹیم نے کہا ہے کہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مزید فنڈنگ کی ضرورت ہے، اب تک مختلف ممالک اور عطیہ دہندگان کی جانب سے 18 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا ہے لیکن اس منصوبے کے لیے صرف 280 ملین ڈالر ہی دستیاب ہوئے ہیں۔
ٹیم کا اندازہ ہے کہ غزہ کی مکمل تعمیر نو اور بحالی کے لیے اگلی دہائی میں تقریباً 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور امن کمیشن کے غزہ ایگزیکٹو بورڈ کے رکن جیرڈ کشنر نے تسلیم کیا کہ اس منصوبے کو مختلف علاقوں میں مختلف طرح کے التوا کا سامنا کرنا پڑا ہے، آج کے اجلاس کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔
امریکی ایلچی سٹیو وٹکو، جنہوں نے نیویارک میں ہونے والی میٹنگ میں بھی شرکت کی، کہا کہ گروپ نے گزشتہ سال کے دوران حقیقی پیش رفت کی ہے۔
سٹیو وٹکوف نے کہا کہ تمام یرغمالی اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں اور جنگ بندی نامکمل ہونے کے باوجود اپنی جگہ برقرار ہے، انسانی ہمدردی کی کوششوں کے ’تاریخی‘ نتائج برآمد ہوئے ہیں، اربوں ڈالر فوری طور پر ضروریات کو پورا کرنے اور تعمیر نو کے طویل مدتی عمل کی حمایت کے لیے عطیہ کیے گئے یا عہد کیے گئے۔
اس منصوبے کو نافذ کرنے میں فنڈنگ کا حصول صرف ایک چیلنج ہے، غزہ میں کام کرنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنانا، داخلی انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات، اور اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے درمیان معاہدہ طے پانا اس منصوبے کو درپیش دیگر اہم مسائل ہیں۔
حماس کے زیر کنٹرول غزہ کی وزارت صحت کے مطابق امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 300 بچوں سمیت کم از کم 1,381 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ غزہ کی وزارت صحت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کو قابل اعتماد سمجھتا ہے۔
ایران مذاکرات کی صورت میں معاہدے کی مکمل پابندی کرے: امریکی وزیر خزانہ
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کا دباؤ تین ممکنہ نتائج حاصل کرنے کے لیے ڈالا جا رہا ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں سکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ ایران سے آنے اور جانے والی 80 سے 90 فیصد بین الاقوامی پروازیں متاثر ہو چکی ہیں، انہوں نے ایرانی نمائندوں کی اقوام متحدہ میں موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ ایرانی وفد واپس کیسے جائے گا۔
انہوں نے ایران سے منسلک مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایرانی مالیاتی نیٹ ورک کو مسلسل نشانہ بناتا رہے گا۔
سکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکی حکمت عملی کے تین ممکنہ اہداف ہیں۔ ایرانی حکومت کے اندر اختلافات شدت اختیار کر جائیں اور نظام اندرونی طور پر کمزور ہو جائے، ایرانی عوام کی جانب سے حکومت کے خلاف عوامی بغاوت یا احتجاجی تحریک جنم لے اور ایران مذاکرات کی صورت میں کسی بھی معاہدے کی مکمل پابندی کرے اور اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے۔
ایرانی حکام کی پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں: امریکی سفیر
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ امریکی حکام ایرانی حکام کی پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ایران کو مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ پیش رفت کرنا ہوگی۔
مائیک والٹز نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو مذاکرات میں دباؤ کے طور پر استعمال نہیں کر سکتا، کردوں کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت مضبوط ہیں، کردستان ریجن کو ایران کے حملوں سے تحفظ کی یقین دہانی کراتے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کا کینیڈین وزیراعظم مارک کارنے کے بیان پر سخت ردعمل
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ کینیڈین وزیراعظم نے امریکا کی مبینہ جارحیت اور جنگی اقدامات کی مذمت نہیں کی، مارک کارنے نے ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی کو صرف جنگی زبان قرار دیا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ کینیڈین وزیراعظم نے امریکی صدر کے الفاظ کو نرم کرنے کی کوشش کی، کینیڈین وزیراعظم واشنگٹن کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وقت ہمیشہ کے لیے خوش فہمی اور منافقت کا پردہ قائم نہیں رہنے دیتا۔
انہوں نے کہا کہ طاقتور ملک کی زبان اپنانا کسی ملک کو طاقت کے دباؤ سے تحفظ فراہم نہیں کرسکتا، حقیقت سے نظریں چرانا اور خودمختاری پر سمجھوتہ کرنا کسی ملک کو تحفظ نہیں دیتا، دباؤ کے سامنے ایران کا مزاحمت پر قائم رہنا ایک واضح اصول ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ طاقت کے زور کو قبول کرنے کا انجام کمزور ممالک کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے، عالمی معاملات میں طاقت کے بجائے دلیل، وقار اور اصولوں کو ترجیح دی جانی چاہئے۔
نیتن یاہو نے خطے میں اجتماعی قتل کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے: ہسپانوی وزیراعظم
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے غزہ میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو خطے میں اجتماعی قتل کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ سپین غزہ کی صورتحال کے ردعمل میں پہلے ہی اسرائیل کے خلاف پابندیوں سمیت متعدد اقدامات کر چکا ہے اور مزید اقدامات پر بھی غور کر رہا ہے۔
ہسپانوی وزیراعظم حالیہ مہینوں کے دوران غزہ جنگ سے متعلق اسرائیلی پالیسیوں کے نمایاں ناقد رہے ہیں، اس سے قبل ہسپانوی حکومت اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات محدود کرنے اور بعض فوجی تعاون کو روکنے جیسے اقدامات کا اعلان بھی کر چکی ہے۔
پیڈرو سانچیز نے اس سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے ملاقات کے دوران غزہ اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا، ہسپانوی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جاری تنازعات کے تناظر میں بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس بھی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں غزہ کی سنگین انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
انتونیو گوتریس نے جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں خونریزی اور تباہی کی شدت ان کے دورِ سیکریٹری جنرل کے دوران دیکھی جانے والی بدترین مثالوں میں سے ایک ہے۔
امریکی بحریہ کے طویل مشن کے دوران آٹھ اہلکاروں کی خودکشی کی کوشش
امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہَنگ کاؤ نے انکشاف کیا ہے کہ طویل تعیناتی کے دوران طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن سے وابستہ آٹھ اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش کی۔
یہ انکشاف نیویارک سے تعلق رکھنے والی سینیٹر کرسٹن گلیبرانڈ کو لکھے گئے ایک خط میں کیا گیا، جس میں انہوں نے جہاز پر تعینات اہلکاروں کی فلاح و بہبود سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔
اہلکاروں کے اہل خانہ نے پہلے ہی طویل مشن، خراب حالات اور ذہنی دباؤ کے باعث عملے کی ذہنی صحت بگڑنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا، ابراہم لنکن طیارہ بردار جہاز گذشتہ نومبر سے تعینات تھا اور ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود رہا۔ اب یہ جہاز واپس امریکا لوٹ رہا ہے۔
ہنگ کاؤ نے اپنے خط میں کہا کہ جہاز پر عملے کی روحانی اور نفسیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے پانچ فوجی مذہبی پیشوا (چیپلنز) اور متعدد ذہنی صحت کے ماہرین موجود تھے، خودکشی کی کوشش کرنے والے آٹھ افراد میں صرف ابراہم لنکن کا عملہ ہی نہیں بلکہ فضائی ونگ، سٹرائیک گروپ، تباہ کن جنگی جہازوں (ڈسٹرائرز) اور دیگر معاون یونٹوں کے اہلکار بھی شامل تھے۔
اگرچہ امریکی بحریہ نے ماضی میں رسد سے متعلق بعض مسائل تسلیم کیے تھے، تاہم اس نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جہاز پر ذہنی صحت کا کوئی بڑا بحران پیدا ہو گیا تھا، جہاز پر تقریباً پانچ ہزار اہلکار تعینات تھے۔
کاؤ نے یہ بھی کہا کہ ٹوٹے ہوئے پلمبنگ نظام اور تازہ خوراک کی شدید قلت سے متعلق اطلاعات بڑھا چڑھا کر پیش کی گئیں، البتہ انہوں نے بعض مقامات پر پائپ لائن خرابیوں، سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے پلانٹس میں مسائل اور کچھ عرصے کے لیے خوراک کے محدود انتخاب کا اعتراف کیا۔
دوسری جانب سینیٹر گلیبرانڈ نے ٹرمپ انتظامیہ کے سابقہ ردعمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فوجی اہلکاروں کے ساتھ ایسا سلوک ’قطعی ناقابل قبول ہے، جن مسائل کو ’جعلی خبر‘ قرار دیا جا رہا تھا، وہ درحقیقت خدمت انجام دینے والے اہلکاروں کے لیے سنگین اور مسلسل بگڑتے ہوئے حالات تھے۔
ابراہم لنکن نومبر میں کیلیفورنیا سے روانہ ہوا تھا۔ اس کی تعیناتی مئی میں ختم ہونا تھی، لیکن مشن میں بار بار توسیع کی گئی، اگست میں یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو نو ماہ کی طویل تعیناتی مکمل کرنے والے ابراہم لنکن کی جگہ مشرقِ وسطیٰ بھیجا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکی بحریہ اور میرین کور میں خودکشی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ جنوری 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں 956 بحری اہلکاروں کا جائزہ لیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ بحری جہازوں پر تعینات اہلکار امریکی فوج کی دیگر شاخوں کے مقابلے میں شدید نفسیاتی دباؤ کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ناقص رہائشی حالات، مسلسل شور، سخت ڈیوٹی شیڈول اور مناسب آرام و نیند کی کمی ایسے عوامل ہیں جو ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں ایک اور مال بردار بحری جہاز پر حملہ
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ اسے اطلاع ملی ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار بحری جہاز کو نامعلوم سمت سے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
برطانوی بحریہ کے میری ٹائم سیفٹی واچ ڈاگ کے مطابق واقعے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور وہ آبنائے ہرمز میں پھنس گیا ہے، رپورٹ کے مطابق جہاز کے تمام عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ واقعے میں دو افراد زخمی ہوئے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، ادارے کے مطابق اب تک ماحولیاتی نقصان کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
امریکی فوج کی دوحہ میں حاضرسروس فوجی افسر کی ہلاکت کی تصدیق
امریکی فوج نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حاضر سروس فوجی افسر کی غیر جنگی واقعے میں ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
پینٹاگون کے مطابق ورجینیا کے شہر نور فولک سے تعلق رکھنے والی 37 سالہ کیپٹن بیانکا سی ولکرسن پانچ روز قبل ہلاک ہوئی تھیں، بیان کے مطابق کیپٹن ولکرسن کی ہلاکت کا سبب بننے والے واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
پینٹاگون کے مطابق انہیں ہلاکت کے بعد میجر کے عہدے پر ترقی دی گئی، وہ جنوبی کیرولائنا میں شا ایئر فورس بیس پر قائم امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ اور تھرڈ آرمی کے ہیڈکوارٹرز میں تعینات تھیں۔
پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد ہلاک امریکی فوجی اہلکاروں کی تعداد 19 ہو گئی ہے، ان میں جنگی اور غیر جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق زخمی امریکی فوجیوں کی تعداد بھی 800 سے زیادہ بتائی گئی ہے، چند روز قبل واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوجیوں کی اصل ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کم از کم چار زیادہ ہے۔
امریکا سے بالواسطہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کھولنے پر بات ہوئی، ایرانی عہدیدار
سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق ایران کی اولین ترجیح جنگ کا مستقل خاتمہ ہے، ایران خطے میں امریکی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ہٹانا چاہتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے مؤقف میں اب بھی سنگین اختلافات موجود ہیں، جبکہ تنازع کے حل کیلئے ایران اور امریکا کے درمیان سفارت کاری بھی جاری ہے۔