مشرق وسطیٰ جنگ

مشرق وسطیٰ جنگ

صنعا میں ممکنہ کارروائی کی تیاری، شہریوں کو مخصوص علاقے خالی کرنے کی ہدایت

مصر کی سعودی عرب کو حوثی حملوں کے تناظر میں ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی

مصر نے سعودی عرب کو حوثی حملوں کے تناظر میں ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کرا دی۔

مصری وزیر خارجہ بدر العاطی کا عباس عراقچی سے رابطہ ہوا، سعودی عرب پر حوثی حملے فوری روکنے پر زور دیا اور مصر نے امریکا اور ایران پر مذاکرات کی بحالی کے لئے بھی زور دیا۔

مصری وزیر خارجہ بدر العاطی نے کہا کہ سعودی عرب کی کسی بھی معاونت کی درخواست پر مثبت ردعمل دیں گے، سعودی سرزمین پر حوثی حملے ناقابل قبول ہیں۔

بدر العاطی نے کہا کہ سعودی عرب کی قومی سلامتی مصر اور پوری عرب دنیا کی سلامتی کا حصہ ہے۔ 

حزب اللہ کا جنگ میں تباہ گھروں کے مالکان کیلئے 14 ہزار ڈالر امداد کا اعلان

لبنانی تنظیم حزب اللہ نے جنگ کے دوران تباہ یا ناقابلِ رہائش ہونے والے گھروں کے مالکان کو مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ علی دعموش کے مطابق بیروت اور اس کے جنوبی مضافات میں متاثرہ خاندانوں کو 14 ہزار ڈالر فی خاندان تک امداد دی جائے گی۔

علی دعموش نے بتایا کہ لبنان کے دیگر علاقوں میں گھر کھونے والے متاثرین کو 12 ہزار ڈالر فراہم کیے جائیں گے، امدادی پیکیج میں سے 8 ہزار ڈالر فرنیچر کی خریداری کیلئے مختص ہوں گے، جبکہ باقی رقم متاثرہ خاندانوں کو مکانات کے کرائے کی مد میں دی جائے گی۔

حزب اللہ کے رہنما نے بے گھر افراد کی بحالی اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے معاملے پر لبنانی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، اور مزید کہا کہ جنگ سے متاثرہ شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے مزید اقدامات کیے جانے چاہییں۔

ایرانی کمانڈر کا اردن میں حملے کے دوران 200 امریکیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں ایک حملے کے دوران 200 امریکی ہلاک ہوئے۔

بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی کے مطابق ہلاکتوں کی اطلاع اردن کے ہلالِ احمر نے دی، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

محمد رضا نقدی نے مزید دعویٰ کیا کہ کویت اور بحرین میں ایسے ہوٹلوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی فوجی قیام پذیر تھے۔

ایرانی کمانڈر کے مطابق ان حملوں کے بعد ہوٹلوں کے باہر کافی دیر تک ایمبولینسوں کی آمدورفت جاری رہی، تاہم انہوں نے مبینہ حملوں میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد یا واقعات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، جبکہ اردن، کویت اور بحرین کے حکام کی جانب سے بھی ان واقعات اور امریکی ہلاکتوں سے متعلق باضابطہ تصدیق سامنے آنا ضروری ہے۔

ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے عارضی معاہدے کے قریب پہنچ گئے

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق عارضی معاہدے پر عمل درآمد کے قریب پہنچ گئے ہیں، جبکہ تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے۔

اسماعیل بقائی کے مطابق مجوزہ عارضی مفاہمت کو آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے، اس اہم بحری گزرگاہ میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کیلئے ایران اور عمان باہمی مشاورت کے ذریعے قابلِ عمل انتظامات وضع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی طویل المدتی سکیورٹی اور انتظام کیلئے ایک پائیدار طریقہ کار تشکیل دینا ضروری ہے، تاکہ بحری آمدورفت کے معاملات کو مستقل بنیادوں پر منظم کیا جا سکے۔

دوسری جانب اسماعیل بقائی نے خبردار بھی کیا کہ ایران امریکا کی جانب سے کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔

ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی سے متعلق سفارتی کوششوں کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بھی برقرار ہے۔

انڈونیشی پائلٹ کی شہریت پر اسرائیل نے ایتھوپین ایئرلائنز کا کارگو طیارہ واپس بھیج دیا

انڈونیشی پائلٹ کی شہریت کے باعث اسرائیل نے ایتھوپین ایئرلائنز کی کارگو پرواز کو لینڈنگ کی اجازت دینے سے روک دیا، جس کے بعد طیارہ ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا واپس لوٹ گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے 31 ممالک کے شہری پائلٹس کے زیرِ کمان طیاروں کو لینڈنگ سے روکنے کے اقدامات کیے ہیں، تاہم اس پابندی کی تفصیلات اور متاثرہ ممالک کی فہرست سے متعلق مزید معلومات سامنے نہیں آئیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایتھوپین ایئرلائنز نے انڈونیشی پائلٹ کی جگہ دوسرے ملک کے پائلٹ کو تعینات کیا، جس کے بعد کارگو طیارے نے دوبارہ تل ابیب کیلئے پرواز کی، ایتھوپین ایئرلائنز کی کارگو پرواز بعدازاں تل ابیب میں بحفاظت اتر گئی۔

سعودی اتحادی فورسز کی صنعا کے مضافات میں بمباری، تیل کا ڈپو بھی نشانہ

سعودی اتحادی فورسز نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے مضافات میں تیل کے ڈپو سمیت مختلف مقامات پر بمباری کی ہے۔

سعودی اتحادی فورسز نے یمن پٹرولیم کمپنی کے ایندھن ذخیرہ کرنے والے مرکز پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کارروائی کا مقصد حوثی فورسز کی میزائل اور ڈرون حملے کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

اتحادی فورسز کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملوں میں نشانہ بنائے گئے دیگر مقامات اور ممکنہ جانی و مالی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر جوابی حملوں کی دھمکی دی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

یمن میں جاری تنازع کے دوران تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اربوں ڈالر کے دفاعی اخراجات کے باوجود سعودی عرب کو حوثی حملے روکنے میں مشکلات

سعودی عرب کی جانب سے دفاعی شعبے پر بھاری اخراجات اور جدید فضائی دفاعی نظاموں کی موجودگی کے باوجود حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنا ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بنا ہوا ہے، بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے بیک وقت استعمال سے سعودی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق سعودی عرب نے گزشتہ سال دفاعی شعبے پر 83 ارب ڈالر خرچ کیے، ملک کے دفاعی نظام میں پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے جدید امریکی ساختہ نظام شامل ہیں، تاہم ان کی موجودگی کے باوجود ہوائی اڈوں، توانائی کے مراکز اور دیگر اہم تنصیبات کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنا ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔

سعودی عرب کو ایران، ایران نواز مسلح گروہوں اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے مختلف نوعیت کے سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے، میزائلوں اور ڈرونز کے مختلف سمتوں سے یا بیک وقت حملوں کی صورت میں دفاعی نظام کو اہداف کی نشاندہی، ترجیحات کے تعین اور فوری ردعمل جیسے چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔

ملک کا وسیع جغرافیائی رقبہ اور مختلف علاقوں میں پھیلی اہم تنصیبات کا تحفظ بھی دفاعی منصوبہ بندی کو مشکل بناتا ہے، اس کے علاوہ، علاقائی کشیدگی کے دوران امریکی دفاعی ذخائر اور اسلحے کی رسد پر بڑھتا دباؤ سعودی عرب کی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

شام نے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق ایک لاکھ سے زائد سرکاری دستاویزات عالمی ادارے کے حوالے کر دیں

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ شام نے کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے عالمی ادارے (او پی سی ڈبلیو) کو ایک لاکھ سے زائد سرکاری دستاویزات جمع کروا دی ہیں، جن میں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے دور میں چھپائی گئی تنصیبات، ذخیرہ گاہوں اور اسلحے سے متعلق تفصیلات بھی شامل ہیں۔

اسعد الشیبانی کے مطابق شام نے ورثے میں ملنے والے کیمیائی ہتھیاروں کے اعلامیے میں اصلاحات کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ او پی سی ڈبلیو کی نگرانی میں 42 کیمیائی فضائی بم بھی تباہ کیے جا چکے ہیں۔

شامی وزیر خارجہ نے بتایا کہ شام نے 9 جولائی کو او پی سی ڈبلیو میں اپنے حقوق اور مراعات دوبارہ حاصل کر لیے تھے، کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق باقی ماندہ معاملات حل کرنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل بھی تیار کر لیا گیا ہے۔

اسعد الشیبانی کا مزید کہنا تھا کہ بارودی سرنگیں اور تباہ شدہ تنصیبات کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق تحقیقات میں رکاوٹ بن رہی ہیں، دستاویزات کی فراہمی اور اعلامیے میں اصلاحات کا مقصد ماضی کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق معلومات کو مکمل کرنا اور باقی معاملات کو حل کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

یمنی فورسز کا حوثیوں کے خلاف 24 گھنٹوں میں 2200 کارروائیوں کا دعویٰ

 یمن کی مسلح افواج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے دعویٰ کیا ہے کہ یمنی فورسز نے حوثی جنگجوؤں کے خلاف 24 گھنٹوں کے دوران 2200 ٹارگٹڈ آپریشنز کیے۔

ترجمان کے مطابق مختلف محاذوں پر کی جانے والی کارروائیوں میں حوثی فورسز کے 1200 جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ 440 سے زائد فوجی گاڑیوں کو تباہ یا ناکارہ بنا دیا گیا۔

کرنل ماجد النزیلی نے بتایا کہ یہ کارروائیاں حوثی فورسز کے خلاف مختلف محاذوں پر کی گئیں، تاہم ان دعوؤں سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

سعودی عرب پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ ناکام، میزائل کا ملبہ ظہران میں گرا

اتحادی افواج نے سعودی عرب کے شہر ظہران پر حوثیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملے کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

سعودی اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا، میزائل تباہ ہونے کے بعد اس کا ملبہ سعودی شہر ظہران کے ایک رہائشی علاقے میں گرا۔

عرب مشترکہ فورسز کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے میزائل کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔

تاحال واقعے میں کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

سعودی کابینہ کی یمن میں حوثیوں کیخلاف اتحادی فورسز کی کارروائیوں کی حمایت

سعودی کابینہ نے یمن میں حوثیوں کے خلاف اتحادی فورسز کی فوجی کارروائیوں کی حمایت کر دی۔

سعودی کابینہ نے سعودی عرب پر مسلسل حملوں کی صورت میں حوثیوں کو سنگین نتائج کی وارننگ دیدی، سعودی کابینہ نے ریاض سمیت ہوائی اڈوں، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثی حملوں کی مذمت کی۔

کابینہ اجلاس میں سعودی عرب کے دفاع، شہریوں اور قومی تنصیبات کے تحفظ کے لئے مسلح افواج کی کوششوں کو سراہا گیا، سعودی کابینہ نے کہا کہ یمن میں اتحادی کارروائیوں کا مقصد حوثی خطرات کا خاتمہ اور یمنی عوام کا تحفظ ہے۔

بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں محفوظ بحری آمدورفت برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، سعودی عرب کی مشرقی سے مغربی ساحل تک تیل کی ترسیل بحال ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

سعودی عرب نے یمن جنگ میں اسرائیلی شمولیت کی درخواست مسترد کردی

اسرائیلی اخبار کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کی نیتن یاہو کی درخواست مسترد کردی۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق نیتن یاہو نے امریکا کے ذریعے سعودی عرب کو یمن میں حوثیوں کے خلاف مدد کی پیشکش کی، اسرائیل کی پیشکش کا مقصد سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانا تھا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے یمن جنگ میں اسرائیلی شمولیت کی درخواست مسترد کی، غزہ جنگ کے بعد سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کا منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔

سعودی عرب نے مؤقف اختیار کیا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ٹھوس پیش رفت کے بغیر اسرائیل سے تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔

خامنہ ای کے بعد ایران بکھرنے کی امریکی توقع سنگین غلطی تھی، پاسدارانِ انقلاب

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی نے کہا ہے کہ امریکا نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی نظام کے خاتمے کی توقع لگا کر سنگین غلطی کی۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ سیاسی امور کے نائب سربراہ یداللہ جوانی کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران کے استحکام اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا درست اندازہ نہیں لگایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکمتِ عملی ایرانی معاشرے کی زمینی حقیقتوں کو مدنظر رکھ کر نہیں بنائی گئی تھی۔ واشنگٹن نے یہ سمجھنے میں غلطی کی کہ سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ایران کا نظام کمزور ہوکر بکھر جائے گا۔

یداللہ جوانی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت سے پہلے بھی امریکا ایران پر مسلسل دباؤ ڈالتا رہا ہے، تاہم ایرانی قیادت کی ثابت قدمی اور مضبوط ردعمل کے باعث یہ کوششیں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکیں۔

واضح رہے کہ فروری کے آخری روز امریکا اور اسرائیل کے حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، عسکری قیادت اور قومی سلامتی کے مشیر سمیت متعدد اہم شخصیات شہید ہوگئی تھیں۔ اس کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا۔

صنعا میں ممکنہ کارروائی کی تیاری، شہریوں کو مخصوص علاقے خالی کرنے کی ہدایت

سعودی فوجی اتحاد نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی ملیشیا کے خلاف ممکنہ آپریشن سے قبل شہریوں کو یمنی آئل کمپنی اور سینٹرل سباحہ اسٹیشن کے اطراف سے انخلا کی ہدایت جاری کردی ہے۔

سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ صنعا میں ممکنہ حملے سے قبل نشان زدہ علاقے کو فوری طور پر خالی کردیں۔

ترکی المالکی کے مطابق شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر ممکنہ ہدف کی نشاندہی کرنے والا نقشہ بھی جاری کردیا گیا ہے، جس میں مخصوص علاقے کو خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب حوثی ملیشیا کے ترجمان نے دھمکی دی ہے کہ اگر صنعا پر حملہ کیا گیا تو ریاض کو سخت اور تکلیف دہ جواب دیا جائے گا۔ 

ایران کے خلاف معاشی جنگ سب سے بڑا محاذ ہے: باقر قالیباف

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جنگ اور پابندیوں کے منفی اثرات سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر فیصلے کرنا ہوں گے۔

محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی پالیسیاں ایسی ہونی چاہئیں کہ جنگ اور پابندیوں کے باعث عوام کے روزگار اور معاش پر سب سے آخر میں اثر پڑے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی پالیسیوں میں عوام کے معاش کا تحفظ اور مسلح افواج کی ضروریات پوری کرنا اولین ترجیحات ہونی چاہئیں۔

اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے کہا کہ ایران کے خلاف معاشی جنگ سب سے بڑا محاذ ہے، جو فوجی، سائبر اور نفسیاتی جنگ سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ 

ایران سفارتکاری کیلئے تیار، امریکی جواب کا جائزہ آخری مرحلے میں ہے، کاظم غریب آبادی

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران سفارتکاری کے ہر عمل کا خیرمقدم کرتا ہے اور وہ کسی بھی فریق سے بات چیت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔

عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایرانی فارمولے پر امریکا کے جواب کا جائزہ آخری مرحلے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تہران سفارتکاری کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ بات چیت حقیقت پسندانہ بنیادوں پر کی جائے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ جب تک امریکا اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کرتا، ایران سے اس معاملے میں کسی قسم کی لچک کی توقع نہ رکھے۔ 

جرمن چانسلر کا سعوی ولی عہد سے رابطہ، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تبادلہ خیال

جرمن چانسلر فریڈرک مرز اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

گفتگو کے دوران حوثیوں کے حملوں، بشمول ریاض ایئرپورٹ پر حملے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیاں بند کرے اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔

فریڈرک مرز نے کہا کہ ایران اور حوثیوں کی جانب سے بحری ناکہ بندیاں فوری طور پر ختم ہونی چاہئیں۔

جرمن چانسلر اور سعودی ولی عہد کے درمیان گفتگو میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے جرمنی میں توانائی کی قیمتوں پر مرتب ہونے والے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں امریکا شاید کچھ زیادہ آگے بڑھ گیا: ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں امریکا شاید کچھ زیادہ آگے بڑھ گیا تھا، اب ہمیں معلوم ہی نہیں ہو پارہا کہ آخر ہم کس سے بات کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب کوئی بھی ایران کا صدر نہیں بننا چاہتا،کوئی ممکنہ امیدوار بھی صدر کا عہدہ نہیں لینا چاہتا۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کی تمام فضائیہ اور تمام بحری جہاز تباہ ہونے کا دعوی بھی دُہرایا اورکہا کہ ایران اپنی پوری فضائیہ اور اپنے تمام 159 بحری جہازوں کو کھو چکا ہے۔

یمنی فورسز کا آپریشن فجرِ یمن: 950 حوثی ہلاک، 380 گاڑیاں تباہ

یمنی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن فجرِ یمن کے تحت حوثی ملیشیا کے خلاف 1879 کارروائیاں کی گئیں، جن میں تقریباً 950 جنگجو ہلاک اور 380 عسکری گاڑیاں اور دیگر سازوسامان تباہ یا ناکارہ بنا دیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق یمنی مسلح افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے ایک بیان میں بتایا کہ آپریشن فجرِ یمن کے دوران جنگی طیاروں، ڈرونز، توپ خانے، راکٹ لانچرز اور سنائپر یونٹس کی مدد سے حوثی ملیشیا کے عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی تخمینوں میں حوثی ملیشیا کے تقریباً 950 عناصر کی ہلاکت اور 380 عسکری گاڑیوں، ترسیلی وسائل اور دیگر آلات کی تباہی یا ناکارہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، ان کارروائیوں کے نتیجے میں حوثیوں کے فائرنگ کے ذرائع خاموش ہوئے جبکہ ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول اور رسد کے نظام میں بھی افراتفری پیدا ہوئی۔

ماجد النزیلی نے کہا کہ کارروائیوں میں حوثی ملیشیا کی قلعہ بندیوں، دفاعی تنصیبات، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، توپ خانے اور راکٹ لانچرز کے ٹھکانوں، نگرانی اور خفیہ اطلاعات کے مراکز، کمک پہنچانے والے علاقوں، اسلحے اور بارود کے گوداموں اور عسکری گاڑیوں سمیت نقل و حمل اور رسد کے ذرائع کو نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان کے مطابق تعز میں فضائی حملوں کے دوران محاذوں کی جانب بھیجی جانے والی حوثی ملیشیا کی کمک اور جنگجوؤں کے دستوں کو نشانہ بنایا گیا، حملوں سے حوثیوں کے اجتماعات منتشر ہوگئے اور اپنے ٹھکانوں کو مدد فراہم کرنے اور افواج کو دوبارہ منظم کرنے کی ان کی کوششیں متاثر ہوئیں۔

ماجد النزیلی نے کہا کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق کی گئیں۔ ان کے بقول، حملوں کے دوران اہداف میں تمیز، طاقت کے متناسب استعمال اور شہریوں و شہری املاک کے تحفظ کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر کے اصولوں کو مدنظر رکھا گیا۔

یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے مزید بتایا کہ فوج کے عسکری انجینئرنگ یونٹس بحال کیے گئے مقامات اور علاقوں کو بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد سے پاک کرنے میں مصروف ہیں تاکہ ان علاقوں کو فوجی اہلکاروں اور شہریوں کی واپسی کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔

او آئی سی کی حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی حکومت کی بھرپور حمایت کا اعلان

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کو نشانہ بنانا مملکت کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ حوثیوں کی جانب سے ایسے اقدامات کا تسلسل خطرناک اور ناقابل قبول اشتعال انگیزی ہے۔

سیکرٹری جنرل کے مطابق یہ کارروائیاں یمن میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور امن و استحکام کے لیے جاری علاقائی و بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حملے ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔

حسین ابراہیم طہٰ نے مزید کہا کہ ایسی کارروائیاں یمن کے بحران کے جامع اور مستقل سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں جس کے لیے عالمی برادری کوششیں کررہی ہے۔ سیاسیتجزیہ

او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم مملکت کی جانب سے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ، شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت اور علاقائی استحکام یقینی بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔

انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ خطے کو مزید کشیدگی اور بدامنی سے بچانے کے لیے مذاکرات کو ترجیح دیں اور امن عمل سے سنجیدہ وابستگی کا مظاہرہ کریں۔

ٹرمپ نے چین اور روس کی جانب سے ایران کی مدد کی خبریں مسترد کر دیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انتہا پسند بائیں بازو کے احمق کہہ رہے ہیں کہ چین اور روس ایران کی مدد کر رہے ہیں، مجھے بالکل یقین نہیں کہ وہ ایسا کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ روس اور چین ایران کو بڑے پیمانے پر مدد فراہم کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ناقدین اور مخالفین کے دعوؤں کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک ایسا کر بھی رہے ہیں تو یہ مدد نہایت محدود سطح پر ہو سکتی ہے، لیکن مجھے یقین نہیں کہ وہ ایسا بالکل بھی کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے یقین نہیں کہ ماسکو یا بیجنگ تہران کی مدد کر رہے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران کو کسی قسم کی مدد فراہم کی جا رہی ہوتی تو واشنگٹن کو اس کا علم ہو جاتا بلکہ بہت جلد علم ہو جاتا، اگر ماسکو اور بیجنگ تہران کی مدد کرتے ہیں تو انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے جولائی میں بھی کہا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ چین اور روس ایران کے ساتھ جاری جنگ میں تہران کی مدد نہیں کریں گے، تاہم انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر دونوں ممالک اس تنازع میں مداخلت کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے بہت برا ہو گا۔

حوثیوں کے حملے، ریاض ائیرپورٹ پر یومیہ 750 پروازیں متاثر

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی (گاکا) نے تازہ نوٹم A3604/26 میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بندش میں مزید 5 دن کی توسیع کردی ہے جس کے تحت ریاض ایئرپورٹ 17 اکتوبر کی رات 12 بجے تک بند رہے گا جبکہ یومیہ 750 پروازیں متاثر ہوں گی۔

حکام کے مطابق 3 روز میں ریاض کی 2000 پروازیں منسوخ ہوگئی ہے جبکہ سعودیہ کے 3 بڑے ائیرپورٹ پر دباؤ میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

حوثیوں کے حملوں کے بعد ریاض ایئرپورٹ کو 10 اکتوبر کی دوپہر 2 بجے بند کیا گیا تھا جس میں 2 بار توسیع کی گئی۔

سکیورٹی خدشات اور تنصیبات کے حفاظتی جائزے کی تکمیل کیلئے پیر کی شام نیا نوٹم جاری کرکے ریاض ایئرپورٹ کی بندش کو 17 اکتوبر کی رات 12 بجے تک بڑھا دیا گیا ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، گزشتہ کاروباری سیشن میں تقریباً 2 ڈالر اضافے کے بعد قیمتیں نیچے آگئیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 61 سینٹ، یعنی 0.57 فیصد کمی کے بعد 106.04 ڈالر فی بیرل رہی۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 47 سینٹ، یعنی 0.5 فیصد گر کر 93.27 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

یہ کمی پیر کے کاروباری سیشن کے بعد سامنے آئی، جب برینٹ خام تیل کی قیمت 106.65 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی تھی، جو 15 ستمبر کے بعد اس کی بلند ترین اختتامی سطح تھی۔

ٹرمپ کی سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد حوثیوں پر تنقید

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے حملوں پر یمن کے حوثیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

حوثیوں کے خلاف ممکنہ اقدامات سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حوثی بہت بری حرکتیں کر رہے ہیں، یہ اچھی بات نہیں۔

ٹرمپ کا یہ بیان سعودی عرب کے ایئرپورٹس پر حملوں کے سلسلے کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں ریاض کا شاہ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ اور دمام کا شاہ فہد انٹرنیشنل ائیرپورٹ بھی شامل ہیں۔

امریکی صدر اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ امریکا حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کے امکان پر غور کرے گا، تاہم انہوں نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

حوثیوں کا سعودی دارالحکومت کے ایئرپورٹ اور ایئربیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

 یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور خمیس مشیط میں فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم سعودی حکام نے حوثیوں کے تازہ دعووں کی تاحال تصدیق نہیں کی۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق گروپ نے شام کے وقت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل داغا، جبکہ یمن کی سرحد کے قریب واقع خمیس مشیط ایئر بیس کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان نے دونوں کارروائیوں کو کامیاب قرار دیا۔

دوسری جانب سعودی اتحاد کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب داغے گئے میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے راستے میں ہی تباہ کردیا گیا۔

اتحادی فوج کے مطابق خمیس مشیط کی سمت داغے گئے دو بیلسٹک میزائل فضا میں ہی روک لیے گئے جبکہ ریاض کی جانب آنے والے ایک میزائل کو بھی تباہ کرنے کا اعلان کیا گیا۔

حکام نے اس سے قبل خمیس مشیط میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کیا تھا تاہم کچھ دیر بعد وارننگ واپس لے لی گئی۔