مشرقِ وسطیٰ کشیدگی

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی

پاسداران انقلاب کا خلیج فارس میں 7 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

پینٹاگون مشرق وسطی میں فوجیوں کی تعداد کم کر رہا ہے: امریکی ٹی وی

امریکی ٹی وی سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون مشرق وسطی میں فوجیوں کی تعداد کم کر رہا ہے، فیصلہ حوثی ملیشیا اور ایران کی دھمکیوں کے پیش نظر کیا گیا۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکی سفارت خانوں نے بھی عملے کی تعداد میں ردو بدل کیا ہے۔

دوسری طرف امریکی سینٹرل کمانڈ نے رپورٹ کی تردید کر دی اور کہا کہ فوجی تیاری بہتر بنانے کے لیے اہلکاروں اور وسائل کی نقل و حرکت معمول کا حصہ ہے، آپریشنل سیکیورٹی کے باعث فوجی نقل و حرکت کی تفصیلات جاری نہیں کی جا سکتیں۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے بھی سعودی عرب میں سفارت خانے کے غیر ضروری عملے کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

پاسداران انقلاب کا 7 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ شمالی خلیج فارس میں تیل کی غیر قانونی منتقلی میں ملوث 4 جہازوں کو ہدف بنایا گیا، حملوں کے بعد چاروں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

بیان میں بتایا گیا کہ آبنائے ہرمز کے مغرب میں 3 دیگر جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، اشتعال انگیز اقدامات جاری رہے تو وسیع پیمانے پر ردعمل دیا جائے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایران کے ساتھ جنگ کا جلد کوئی نہ کوئی نتیجہ سامنے آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کا جلد کوئی نہ کوئی نتیجہ سامنے آئے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی نیوز نیشن کو انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے ساتھ بات چیت محدود پیمانے پر ہو رہی ہے، ایران کے ساتھ مذاکرات ختم کریں یا جاری رکھیں،جلد فیصلہ ہو جائے گا۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ لوگوں کا خیال ہے ایران سے متعلق پیش رفت مڈٹرم انتخابات کے بعد سامنے آئے گی، آنے والے دن اہم ہیں،صورتحال واضح ہو جائے گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف فوجی محاذ پر امریکا بہت اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے، ایران کے خلاف امریکا کو فوجی اور مالی دونوں محاذوں پر برتری حاصل ہے۔

امریکا اوراسرائیل کا وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر شدید حملے کا منصوبہ

نیویارک ٹائمز کےمطابق امریکا اور اسرائیل ایران پر ایک بار پھر حملوں کی تیاری کر رہے ہیں،امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کے منصوبے پر کام جاری ہے۔

رپورٹ کےمطابق ایران کی توانائی تنصیبات، جوہری مراکز، میزائل اور ڈرون کے ذخائر ممکنہ اہداف میں شامل ہوسکتےہیں، امریکی فوج کے مشرقِ وسطیٰ میں تمام فوجی اثاثے نومبر کے آغاز تک تیار ہونے کا امکان ہے۔

امریکی وزیرِجنگ پیٹ ہیگستھ نےاسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سےملاقات میں نئےحملوں پر بھی بات چیت کی ہے،امریکا اور اسرائیل عراق کی فضائی حدود میں فوجی مشقیں بھی کر رہےہیں تاکہ ممکنہ حملوں کی تیاری کی جا سکے۔

امریکی حکام کےمطابق نئےحملےایران کی معیشت کومزیدنقصان پہنچاسکتے ہیں،تاہم ان حملوں سےمطلوبہ نتائج حاصل ہونے کےبارے میں شکوک بھی موجود ہیں،ایران پر اس سےپہلےہونے والے حملوں کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا تھا۔

حکام کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال نئے حملوں کی حتمی منظوری نہیں دی، اس لیے فوجی کارروائی کا امکان موجود ہونے کے باوجود فیصلہ یقینی نہیں۔

یمن میں فوجی مداخلت صورتحال پیچیدہ بنا دے گی: عراقچی

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی، مصر پہلے ہی تہران کو آگاہ کر چکا ہے کہ وہ اس تنازع میں براہِ راست مداخلت نہیں کرے گا۔

عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش پر ابھی تک سعودی عرب یا حوثی جماعت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا او ر برینٹ خام تیل 110 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.29 ڈالر، یعنی 1.2 فیصد اضافے کے بعد 110.11 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 97 سینٹ، یعنی ایک فیصد بڑھ کر 98.12 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

گزشتہ کاروباری سیشن کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی تھی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 67 سینٹ کم ہوگئی تھی۔

امریکا نے سعودیہ میں تعینات امریکی غیرہنگامی عملے اور اہلِخانہ کو سعوی عرب چھوڑنے کا حکم دے دیا

امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں تعینات امریکی حکومت کے غیرہنگامی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کوسعودیہ چھوڑنے کا حکم دے دیا۔

برطانوی خبر ایجنسی نے نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ اقدام خطے میں دوبارہ کشیدگی اور لڑائی شروع ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر کیا جا رہا ہے۔

امریکی سفارت خانے نے ریاض میں سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے سعودی عرب پر حوثیوں کے مزید حملوں کے امکان سے خبردار کیا تھا۔

اس سے قبل ہونے والے حملوں میں ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی شامل ہیں، جن میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

سعودی آرامکو آئل اور دمام ایئرپورٹ پر حملے، 3 افراد ہلاک، 8 زخمی

 سعودی عرب کے جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے کہا ہے کہ مشرقی شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 8 افراد زخمی ہوگئے۔

ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ حملے میں زخمی ہونے والوں کی چوٹیں معمولی سے شدید نوعیت کی ہیں، تاہم حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون یا اس کے ماخذ کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

سعودی وزارت توانائی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی شیبہ آئل فیلڈ پر حملے کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہوئے ہیں، آرامکو کی شیبہ آئل فیلڈ میں تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے ڈرون کو روک لیا گیا، ڈرون حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔

سعودی وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے کے باوجود آرامکو کی شیبہ آئل فیلڈ میں آپریشنز متاثر نہیں ہوئے اور معمول کے مطابق جاری ہیں۔