امریکا وسط مدتی انتخابات

امریکا وسط مدتی انتخابات

امریکا میں وسط مدنی انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز ہوگیا

نیویارک میں انتخابات کے دوران تکنیکی خرابی، 7 لاکھ ووٹرز مشکلات کا شکار

امریکی ریاست نیویارک کی ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی میں انتخابات کے دوران تکنیکی مسائل کے باعث ووٹنگ کا عمل متاثر ہوگیا، متعدد پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ مشینیں ناکارہ ہوگئیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق پیپر بیلٹس مشینوں میں اسکین نہ ہونے کے باعث ووٹرز کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی کے تمام پولنگ اسٹیشنز پر تکنیکی خرابی سامنے آئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق کاؤنٹی کے تقریباً 7 لاکھ ووٹرز اس صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں، حکام نے ووٹرز کو بیلٹ پیپرز ہاتھ سے پُر کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

انتخابی حکام کے مطابق ہاتھ سے پُر کیے گئے بیلٹ پیپرز کو محفوظ رکھنے کے لیے اورنج ایمرجنسی بیگز میں جمع کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ متبادل ووٹنگ مشینیں استعمال کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ انتخابی عمل کو معمول پر لایا جا سکے۔

امریکی ریاست کولوراڈو میں سیلابی صورتحال، انتخابی سرگرمیاں متاثر

امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈورانگو میں سیلابی صورتحال کے باعث انتخابی سرگرمیاں متاثر ہو گئیں۔

میڈیا کے مطابق شدید بارشوں کے بعد دریائے انیماس میں پانی کی سطح بلند ہو گئی، خراب موسم کے باعث تین علاقوں میں پولنگ اسٹیشنز تبدیل کر دیئے گئے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اوکلاہوما، ٹیکساس اور آرکنساس میں شدید طوفانوں کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ مختلف ریاستوں میں بگولوں کے خطرے کے پیش نظر ٹورنیڈو واچ جاری کر دی گئی ہے۔

امریکا میں وسط مدنی انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز ہوگیا

امریکی ریاست ورمونٹ میں مقامی وقت کے مطابق پولنگ کا آغاز صبح 5 بجے ہوا، جب کہ دیگر ریاستوں نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیویارک اور ورجینیا میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے شروع ہوئی۔

انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں جبکہ سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی، اس کے علاوہ 36 ریاستوں کے گورنرز کا انتخاب بھی کیا جائے گا، موجودہ انتخابی مقابلے میں ری پبلکنز کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔

ایوان نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے ڈیموکریٹس کو ہر ایوان میں کم از کم 4 نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے، انتخابات کے نتائج نہ صرف قانون سازی بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے باقی 2 سالہ دورِ صدارت کی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہوں گے۔

رائٹرز اور اپسوس کے تازہ سروے کے مطابق کانگریس کے انتخابی بیلٹ پر ڈیموکریٹس کو ری پبلکنز پر 8 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے، سروے میں 46 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ڈیموکریٹس جبکہ 38 فیصد نے ری پبلکنز کی حمایت کا اظہار کیا۔

سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح 32 فیصد پر برقرار ہے، جو ان کی سیاسی مقبولیت کی کم ترین سطح 31 فیصد کے قریب ہے، سروے میں ایک ہزار 765 امریکی شہریوں کی رائے شامل کی گئی، جبکہ اس کے نتائج میں 2 پوائنٹس کی ممکنہ غلطی کا مارجن موجود ہے۔

ماہرین کے مطابق قومی سطح کے یہ سروے عوامی رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم کانگریس کے اصل نتائج کا فیصلہ مختلف ریاستوں اور انتخابی حلقوں میں ہونے والے مقابلوں سے ہوگا، اس لیے ڈیموکریٹس کی سروے میں برتری کو انتخابی کامیابی کی ضمانت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 

ریپبلکن ووٹرز تصور کریں بیلٹ پر صرف میرا نام موجود ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ریپبلکن ووٹرز تصور کریں بیلٹ پر صرف میرا نام موجود ہے۔

فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ریپبلکنز ووٹرز ووٹ ڈالنے نکلے تو بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن مڈنائٹ ہیمر میں ایران کی فوج، بحریہ اور فضائیہ تباہ کر دی، ایرانی جوہری پروگرام سے منسلک کوہ کلنگ کو نشانہ بنانا پڑ سکتا ہے، امریکا میں 22.5 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری آ رہی ہے۔

سینیٹ امیدوار عبدالسلام السید کی انتخابی مہم کو 1 دن میں 24 لاکھ ڈالرز کے ریکارڈ عطیات

امریکی ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ کے امیدوار عبد السلام السید کی انتخابی مہم کو گزشتہ روز 24 لاکھ ڈالرز سے زائد کے ریکارڈ عطیات موصول ہوئے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق انتخابی مہم کو 65 ہزار سے زائد افراد نے عطیات دیئے جن کی اوسط رقم تقریباً 36 ڈالرز فی عطیہ رہی، ان میں 29 ہزار سے زائد افراد ایسے تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ عطیہ دیا، عطیات میں غیر معمولی اضافہ اس وقت سامنے آیا جب ڈیمو کریٹک رکنِ کانگریس ہیلی اسٹیونز نے اچانک ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

ہیلی اسٹیونز اگست میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے داخلی انتخابات میں عبدالسید سے معمولی فرق سے ہار گئی تھیں، ہیلی کے حالیہ فیصلے پر پارٹی کے کئی رہنماؤں نے سخت تنقید کی ہے۔

ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسلام السید نے انتخابی مہم تیز کر دی

امریکی ریاست مشی گن میں سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسلام السید اور ان کی جماعت نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹرز کو متحرک کرنے کیلئے انتخابی مہم تیز کر دی۔

عبدالسلام السید کی سابق حریف ہیلی اسٹیونز کی جانب سے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کے اعلان کو ریپبلکنز اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں، السید نے ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات میں اسٹیونز کو 14 ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی۔

اس مقابلے کے دوران اسرائیل اور غزہ جنگ سے متعلق پالیسیوں پر دونوں امیدواروں کے درمیان اختلافات سامنے آئے تھے، اسٹیونز کی جانب سے ریپبلکن امیدوار کی حمایت کے بعد عبدل السید کی انتخابی مہم نے 24 لاکھ ڈالر کے عطیات جمع کیے، جو مہم کے دوران ایک دن میں حاصل ہونے والی سب سے بڑی رقم ہے۔

ریاستی ڈیموکریٹک پارٹی کے مطابق اس اعلان کے بعد انتخابی مہم میں رضاکاروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اور بڑی تعداد میں لوگ گھر گھر جا کر ووٹرز سے رابطے کیلئے انتخابی دفاتر پہنچے۔

مشی گن ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ کرٹس ہرٹل نے کہا کہ ان کے خیال میں اس پیش رفت سے انتخابی نتائج تبدیل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے ڈیموکریٹ ووٹرز مزید متحرک ہوں گے۔

ڈیموکریٹس کو کامیابی کیلئے 6 بڑی رکاوٹوں کا سامنا

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ بڑی کامیابی کی راہ میں 6 اہم رکاوٹیں سامنے آگئی ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت، مہنگائی اور ایران جنگ پر عوامی ناراضی کے باوجود ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں مقابلے کیلئے محدود نشستوں، سینیٹ میں سخت انتخابی مقابلے اور نوجوان، سیاہ فام و ہسپانوی ووٹرز کی ممکنہ کم شرکت کا سامنا ہے۔

اس کے علاوہ ریپبلکنز کو انتخابی مہم کیلئے مالی وسائل میں نمایاں برتری حاصل ہے جبکہ ماضی میں انتخابی سرویز ریپبلکن ووٹرز کی حمایت کم ظاہر کرتے رہے ہیں۔

ریپبلکن امیدوار ڈیموکریٹس کو سوشلسٹ اور انتہا پسند قرار دے کر غیر جانبدار ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ان عوامل کے باعث ڈیموکریٹس کانگریس میں نشستیں حاصل کرنے کے باوجود 2018ء جیسی بڑی انتخابی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتے ہیں۔

امریکی مڈٹرم الیکشن: قبل از وقت ووٹنگ 2022ء کے مقابلے نمایاں طور پر زیادہ

وسط مدتی انتخابات کیلئے امریکا میں قبل از وقت ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد انتخابی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال ابتدائی ووٹنگ کی شرح 2022ء کے وسط مدتی انتخابات کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی۔

سی این این کی جانب سے جمع کیے گئے انتخابی ڈیٹا کے مطابق اس مرتبہ قبل از وقت ووٹ ڈالنے والے شہریوں میں ڈیموکریٹ ووٹرز کا تناسب گزشتہ وسط مدتی انتخابات کے مقابلے میں زیادہ ہے، سفید فام ووٹرز کی شرح کم رہی۔

اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے والے شہریوں میں اب بھی ڈیموکریٹس کی تعداد زیادہ ہے تاہم مجموعی ووٹرز میں ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے والوں کا حصہ کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

ڈیموکریٹ ووٹرز کی بڑی تعداد نے ڈاک کے بجائے پولنگ اسٹیشنز پر خود جا کر قبل از وقت ووٹ ڈالنے کو ترجیح دی۔

رپورٹ کے مطابق ابتدائی ووٹنگ کے رجحانات ڈیموکریٹس کیلئے سازگار انتخابی ماحول کی نشاندہی کرتے ہیں، مختلف انتخابی سروے، پارٹی پرائمری انتخابات میں ووٹرز کی شرکت اور ضمنی انتخابات کے نتائج بھی ڈیموکریٹس کیلئے بہتر رجحانات ظاہر کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کی مقبولیت وسط مدتی انتخابات سے قبل کم ترین سطح پر پہنچ گئی

امریکی ووٹرز کی بڑی تعداد کانگریس کے انتخابات میں اپنے ووٹ کو ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن جماعت کی مخالفت کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔

رائٹرز اور اپسوس کے سروے کے مطابق کانگریس میں 46 فیصد ووٹرز نے ڈیموکریٹس جبکہ 38 فیصد نے ریپبلکنز کی حمایت کی، ڈیموکریٹس کو 8 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔

نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ کے بعد امریکا میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ریپبلکن جماعت کے لیے انتخابی مشکلات پیدا کردی ہیں، صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن امریکی شہریوں کی شرح 32 فیصد رہی۔

آزاد ووٹرز میں سے 50 فیصد نے کہا کہ کانگریس کے انتخابات میں ان کا ووٹ ٹرمپ کی مخالفت میں ہوگا جبکہ 13 فیصد نے کہا وہ صدر کی حمایت میں ووٹ ڈالیں گے۔

مزید 33 فیصد آزاد ووٹرز کا کہنا تھا ٹرمپ ووٹ دینے کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوں گے، 78 فیصد ووٹرز نے کہا مہنگائی ووٹ کے فیصلے میں انتہائی اہم مسئلہ ہوگی۔

مہنگائی سے نمٹنے کیلئے ڈیموکریٹس کی پالیسیوں کو 43 فیصد جبکہ ریپبلکن کی پالیسیوں کو 32 فیصد افراد نے درست قرار دیا، 49 فیصد ڈیموکریٹ ووٹرز نے کہا وہ رواں سال انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے انتہائی پرجوش ہیں جبکہ ریپبلکن ووٹرز میں یہ شرح 33 فیصد رہی۔

سیاسی اندازوں کے مطابق ڈیموکریٹس کے لئے ایوان نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کے امکانات زیادہ ہیں، سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنا ڈیموکریٹس کے لئے مشکل ہوگا۔

ایوان نمائندگان، سینیٹ پر کنٹرول کی جنگ: امریکا میں وسط مدتی انتخابات کا میدان آج سجے گا

امریکا میں آج وسط مدتی انتخابات کا میدان سج رہا ہے، جہاں ایوان نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں جبکہ سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی، اس کے علاوہ 36 ریاستوں کے گورنرز کا انتخاب بھی کیا جائے گا، موجودہ انتخابی مقابلے میں ری پبلکنز کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔

ایوان نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے ڈیموکریٹس کو ہر ایوان میں کم از کم 4 نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے، انتخابات کے نتائج نہ صرف قانون سازی بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے باقی 2 سالہ دورِ صدارت کی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہوں گے۔

رائٹرز اور اپسوس کے تازہ سروے کے مطابق کانگریس کے انتخابی بیلٹ پر ڈیموکریٹس کو ری پبلکنز پر 8 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے، سروے میں 46 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ڈیموکریٹس جبکہ 38 فیصد نے ری پبلکنز کی حمایت کا اظہار کیا۔

سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح 32 فیصد پر برقرار ہے، جو ان کی سیاسی مقبولیت کی کم ترین سطح 31 فیصد کے قریب ہے، سروے میں ایک ہزار 765 امریکی شہریوں کی رائے شامل کی گئی، جبکہ اس کے نتائج میں 2 پوائنٹس کی ممکنہ غلطی کا مارجن موجود ہے۔

ماہرین کے مطابق قومی سطح کے یہ سروے عوامی رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم کانگریس کے اصل نتائج کا فیصلہ مختلف ریاستوں اور انتخابی حلقوں میں ہونے والے مقابلوں سے ہوگا، اس لیے ڈیموکریٹس کی سروے میں برتری کو انتخابی کامیابی کی ضمانت قرار نہیں دیا جا سکتا۔