ایران امریکا امن معاہدہ

ایران امریکا امن معاہدہ

ایران کا جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان

محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات، امریکا سے معاہدے کی صورتحال پر گفتگو

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقات کی جس میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کے بعد خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق محسن نقوی کی ایران آمد پر ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، بعد ازاں تہران میں دونوں وزرائے داخلہ کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں علاقائی امن و امان اور سکیورٹی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے چیف مذاکرات کار اور وزیر خارجہ عباس عراقچی آج رات سوئٹزرلینڈ روانہ ہوں گے، جہاں وہ فریقِ ثانی سے ملاقات کریں گے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ملاقات کا مقصد معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ لینا اور دوسرے فریق کی سنجیدگی کو پرکھنا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ایرانی وفد فریقِ ثانی سے اپنے وعدوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کرے گا اور معاہدے پر ایران کے مؤقف کو واضح کرے گا۔

سوئٹزرلینڈ کا یہ اہم دورہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکا ایران مذاکرات کل شروع ہونے کا امکان، صورتحال بہتر ہونے کا دعویٰ

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کل سے شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات کے لیے اس وقت سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں۔

نائب صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق کوئی ثبوت موجود نہیں ہے جبکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے سوئٹزرلینڈ جانے کا بھی امکان ہے۔

امریکی نائب صدر کے مطابق امریکا کو یقین ہے کہ جنگ بندی برقرار رکھی جا سکتی ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات کو ایک موقع دیا جا رہا ہے۔

ایران کا جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان

ایرانی فوج کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی نے ایرانی خبر ایجنسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ خاتم الانبیا مرکزی ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو امریکا اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر بند کیا ہے۔

خاتم الانبیا مرکزی ہیڈ کوارٹرز کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز امریکا کی دھوکا دہی کی وجہ سے بند کی، امریکا نے اپنے وعدے کی کھلی خلاف ورزی کی، امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی پہلی شرط کی ہی خلاف ورزی کی۔

بندش کی وجہ اسرائیل کی جانب سےلبنان جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی بھی ہے، آبنائے ہرمز بند کرنا پہلا قدم ہے، جارحیت جاری رہی تو مزید اقدامات کریں گے۔

وعدے پورے نہ ہوئے تو مجموعی مفاہمت مشکل میں پڑ سکتی ہے: ایران

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ دوسرے فریق کے کچھ وعدے پورے نہ ہوئے تو مجموعی مفاہمت مشکل میں پڑ سکتی ہے، امریکا پر لازم ہے کہ وہ اسرائیل کو لبنان پر حملے روکنے پر مجبور کرے، ہم نے اپنے وعدوں کی پابندی کی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم سوئٹزرلینڈ میں امریکا کے وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کریں گے، امریکا سے وضاحت لی جائے گی کہ وہ اپنے وعدے کیسے پورے کرے گا، دوسرے فریق کو جلد از جلد اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

اسماعیل بقائی کے مطابق اگر دوسری طرف معاہدوں پر عمل نہ کیاگیا تو ایران جوابی اقدامات کرے گا، ہم نے وعدے کے بدلے وعدے نبھانے کی پالیسی اپنائی ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم نے ایسا کوئی عہد نامہ نہیں کیا جو نافذ نہ کیا جاسکے، مذاکراتی ٹیم چند منٹوں میں سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہو جائے گی۔

جنگ بندی پر قائم، اسرائیلی پیش قدمی کا بھرپور جواب دیا جائے گا: حزب اللہ

حزب اللہ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے، تاہم اسرائیلی فوج کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں اور زمینی پیش قدمی کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔

حزب اللہ کے بیان کے مطابق گروپ جمعے کی شام سے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پابندی کر رہا ہے جبکہ اسرائیل کی جانب سے گزشتہ رات سے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ کے قریب اسرائیلی فوج کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے کارروائی کی گئی، لبنانی سرزمین پر کسی بھی قبضے کی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

حزب اللہ نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ماضی کے طرزِ عمل اور مبینہ دھوکہ دہی کو مدنظر رکھتے ہوئے تنظیم ہر قسم کی صورتحال اور ممکنہ ردعمل کے لیے تیار ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ جنگ بندی برقرار رکھنے کی ذمہ داری تمام فریقوں پر عائد ہوتی ہے اور معاہدے کی خلاف ورزیوں سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ڈیمو کریٹس کو سمجھنا چاہیے ہم نے ایران جنگ میں کتنی بڑی کامیابی حاصل کی:ٹرمپ

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سوشل میڈیا پر بیان پر جاری اپنے بیان میں کہنا تھا کہ دائیں بازو کے احمق اور ڈیمو کریٹس کو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے ایران جنگ میں کتنی بڑی کامیابی حاصل کی۔

اُنہوں نے کہا کہ ایران کو حالیہ جنگ میں مکمل طور پر شکست ہو چکی، سابق صدر اوباما نے ایران کو اربوں ڈالرز فراہم کیے، اوباما نے ایران کیخلاف امریکی فوج کا استعمال ہی نہیں کیا جو ضروری تھا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ دنیا میں دہشتگردی کے سب سے بڑے سر پرست ایران کو قابو کرنا ناگزیر تھا، ایرانی حکام اوباما اور جو بائیڈن کو انتہائی ناکام لیڈر سمجھتے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکام اوباما اور جو بائیڈن کو ناکام سمجھنے میں 100 فیصد درست تھے، میرے برسر اقتدار آنے سے پہلے ایران مسلسل 47 برس من مانی کرتا رہا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ میرےاقتدار میں آنے کے بعد سب کچھ بدل گیاامریکا پھر سے طاقتور ہو چکا ہے۔

امریکا سے تعلقات معمول پر لانے کا کوئی ارادہ نہیں: ابراہیم رضائی

ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان فی الحال صرف دشمنی ہے۔

ابراہیم رضائی نے کہا کہ ایران لبنان میں جنگ بندی کو ریڈ لائن سمجھتا ہے اور اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا، امریکا کے ساتھ حالیہ مفاہمتی یادداشت میں لبنان کی علاقائی سالمیت کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان میں جنگ کے خاتمے اور امن کی بحالی کو معاہدے میں واضح طور پر شامل کیا گیا ہے، لبنان ایران کی خارجہ پالیسی میں ایک بنیادی نکتہ ہے، امریکا اور اس کے اتحادیوں کو لبنان میں قبضہ ختم کرنا ہوگا۔

جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے، 5 افراد شہید

لبنانی میڈیا کے مطابق جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ میں اسرائیل نے فضائی اور ڈرون حملے کیے، حملے جنگ بندی نافذ ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی کیے گئے۔

لبنانی میڈیا نے بتایا کہ حملوں میں رہائشی عمارتیں اور گھروں کو شدید نقصان پہنچا، اسرائیل اور حزب اللہ میں جنگ بندی معاہدہ جمعہ کو امریکا کی ثالثی میں طے پایا تھا۔

خیال رہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں نے ٹرمپ انتظامیہ کو متنبہ کیا ہے کہ اسرائیل لبنان سمیت دوسرے محاذوں پر حملے کر کے امن معاہدہ سبوتاژ کر سکتا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ کی اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر پر شدید تنقید

برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر کا لبنان سے متعلق بیان قابل نفرت ہے، ایسے اشتعال انگیز بیانات ناقابل قبول ہیں، اتمار بن گویر پر برطانوی حکومت پہلے ہی پابندیاں عائد کر چکی ہے۔

ایویٹ کوپر نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ دونوں جنگ بندی کی پاسداری کریں، لبنان میں تمام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر نے کہا تھا کہ پورے لبنان کو جلا دینا چاہئے۔

اسرائیل ایران امن معاہدے کو سبوتاژ کر سکتا ہے، امریکی خفیہ ادارے

 امریکی انٹیلیجنس اداروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق نئی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال متوقع قومی انتخابات کے تناظر میں نیتن یاہو کی سیاسی بقا اس تاثر سے جڑی ہوئی ہے کہ وہ لبنان سے فوجوں کی واپسی کے بجائے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کریں گے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل صدر ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کی بعض شرائط سے مطمئن نہیں کیونکہ اس کے خیال میں یہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی کو متاثر کر سکتی ہیں۔

جوہری توانائی ایجنسی کو تنصیبات کے معائنے کی دعوت نہیں دی: ایران

 ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی دعوت دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شق 8 کے مطابق جوہری معاملے پر مذاکرات 60 روزہ مدت کے اندر ہوں گے، بشرطیکہ دستاویز کی شق 13 میں درج مذاکرات کے آغاز کی تمام پیشگی شرائط پوری کی جائیں۔

بقائی کے مطابق مفاہمتی یادداشت کی شق 9 یہ واضح کرتی ہے کہ 60 روزہ مدت کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسی بنیاد پر بوشہر جیسے جوہری مراکز میں جاری معائنہ کا عمل معمول کے مطابق جاری رہے گا، تاہم ان تنصیبات کے معائنے، جہاں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باعث آئی اے ای اے کی رسائی معطل کر دی گئی تھی، مذاکراتی عمل اور اس کے نتائج سے مشروط ہوں گے۔

عبوری امن معاہدے کو ایک مستقل علاقائی امن ڈیل میں بدلنے کی کوششیں تیز

امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ایک اہم سفارتی مشن پر سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہے ہیں جہاں لبنان میں ہونے والی حالیہ جنگ بندی کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان عبوری امن معاہدے کو ایک مستقل علاقائی امن ڈیل میں بدلنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق سٹیو وٹکوف سوئٹزرلینڈ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ہمراہ اس اعلیٰ سطحی بیٹھک کا حصہ بنیں گے جبکہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے بھی سنیچر کو وہاں پہنچنے کی توقع ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب محض ایک دن قبل لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان شدید لڑائی کے باعث امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کا اپنا دورہ منسوخ کر دیا تھا جس سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تیل کی سپلائی کو بحال کرنے کی نازک کوششوں پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔

ایران کا سخت مؤقف، اسرائیل اور حزب اللہ میں جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا، امریکہ نے تصدیق کر دی

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی سخت مؤقف کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ میں جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، معاہدے میں امریکہ، قطر اور ایران نے اہم کردار ادا کیا۔

سینئر امریکی اہلکار نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کر دی ہے، معاہدے کے تحت خطے میں تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایران نے حزب اللہ کو جامع جنگ بندی پر عملدرآمد کا پیغام دیا ہے۔

دوسری جانب جنگ بندی کی اطلاعات کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی بمباری جاری ہے، رات سے جاری حملوں میں 47 افراد شہید ہو چکے ہیں، جبکہ حزب اللہ کی جوابی کارروائی میں اسرائیلی فوج کے ٹینک بٹالین کمانڈر سمیت 4 فوجی مارے گئے۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ فوج جنوبی لبنان میں موجود رہے گی، شمالی اسرائیلی علاقوں کے تحفظ کیلئے سکیورٹی زون برقرار رہے گا۔

حتمی ڈیل نہ ہوئی تو ہم وہ کریں گے جس سے ایران کو خوشی نہیں ہوگی، ٹرمپ

 میری لینڈ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں ایک ہفتے کے دوران ان کی سب چیزیں ختم کیں، ایران کی فضائیہ، نیوی اور دیگر عسکری طاقت ختم کر دی، ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، ایران کے ساتھ 60 دنوں میں حتمی ڈیل کرنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے وینزویلا میں فتوحات حاصل کی ہیں، حتمی ڈیل نہ ہوئی تو ہم وہ کریں گے جس سے ایران کو خوشی نہیں ہوگی، مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کچھ کرنا پڑے گا، حتمی ڈیل ہو جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز سے اتنے جہاز گزر رہے ہیں، ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا، آبنائے ہرمز سے جہاز گزرنے پر کمپنیاں بہت خوش ہیں، آبنائے ہرمز سے تقریباً 700 بحری جہاز غیر معمولی انداز میں گزر رہے ہیں۔

اسرائیلی افواج کی جنوبی لبنان کے علاقے علی الطاہر کی پہاڑیوں پر گولہ باری

اسرائیلی افواج کی جانب سے جنوبی لبنان کے علاقے علی الطاہر کی پہاڑیوں پر گولہ باری کی گئی ہے، مقامی ذرائع کے مطابق تازہ کارروائی کے دوران تین توپ خانے کے گولے فائر کیے گئے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا جا چکا ہے، تاہم اس کے باوجود سرحدی علاقوں میں کشیدگی اور معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق اطلاعات بے بنیاد قرار دیدیں

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق اطلاعات بے بنیاد، امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد سوئٹزر لینڈ میں اجلاس کی فوری ضرورت نہیں تھی۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا آئندہ چند دنوں میں اجلاس کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، مفاہمتی یادداشت کی شق نو کے تحت ساٹھ روزہ مدت کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے معائنے کا عمل جاری رہے گا، جنگ کے باعث جن تنصیبات تک آئی اے ای اے کی رسائی معطل تھی ان کے معائنے کا انحصار مذاکراتی عمل اور اس کے نتائج پر ہوگا۔
 

جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، اسرائیل کے لبنان پر ڈرون حملے، 2 افراد شہید

اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی شدید خلاف ورزیاں جاری ہیں، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ نافذ ہونے کے باوجود اسرائیلی فوج کے لبنان پر حملے جاری ہیں، لبنان کے جنوبی علاقے میں ڈرون حملے میں 2 افراد شہید ہوگئے۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جو مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے سے نافذ العمل ہو چکی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ معاہدہ امریکا اور قطر کی ثالثی سے طے پایا جس میں امریکا نے اسرائیل سے جبکہ قطر نے ایران سے بات چیت کی۔

لبنان میں 4 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت، بن گویر کا سخت ردعمل

جنوبی لبنان میں کارروائی کے دوران چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے لبنان کے خلاف شدید بیانات جاری کیے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان کے علاقے کفار تبنیت کے قریب آپریشن کے دوران ایک ٹینک کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں چار فوجی ہلاک ہو گئے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 32 سالہ لیفٹیننٹ کرنل ڈور گیڈالیا بین سمہون بھی شامل ہیں، جو 401 ویں آرمرڈ بریگیڈ کی 52 ویں بٹالین کے کمانڈر تھے۔

واقعے کے بعد اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ہر اسرائیلی ماں کے آنسو کے بدلے ہزاروں لبنانی ماؤں کو رونا چاہیے، جبکہ انہوں نے لبنان کے خلاف مزید سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس نے رات بھر جنوبی لبنان میں حملے کیے جن میں حزب اللہ کے جنگجوؤں اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹس کے مطابق تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ علاقے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق

امریکا ایران معاہدے کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق جنگ بندی آج شام مقامی وقت کے مطابق 4 بجے شروع ہو گی، معاہدے میں امریکا، قطر اور ایران نے اہم کردار ادا کیا۔

خبر ایجنسی کے مطابق سینئر امریکی اہلکار نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کر دی، معاہدے کے تحت خطے میں تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل حزب اللہ جنگ بندی کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی کا امکان ہے، ایران نے حزب اللہ کو جامع جنگ بندی پر عملدرآمد کا پیغام دیا۔

خبر ایجنسی کے مطابق لبنان میں کشیدگی نے امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا تھا، لبنان میں رات بھر اسرائیلی حملوں میں 18 افراد جاں بحق ہوئے۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق حزب اللہ کے حملے میں 4 اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے۔

جنوبی لبنان میں حزب اللہ سے لڑائی، اسرائیل کی 4 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کے دوران اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں اور توپ خانے کی گولہ باری سے کم از کم 16 لبنانی شہری شہید ہوئے ہیں۔ 

اسرائیلی فوج کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صبح ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کے ایک ریزرو افسر شدید زخمی جبکہ تین ریزرو نان کمیشنڈ افسران اور ایک نان کمیشنڈ افسر معمولی زخمی بھی ہوئے۔

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گیور نے لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کے اعلان کے بعد کہا کہ پورے لبنان کو جلا دینا چاہئے۔

مذاکرات میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی: اسحاق ڈار

 نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ محرم الحرام کی وجہ سے ایران کے ساتھ دوسرے مرحلے کے مذاکرات تاخیر کا شکار ہوئے ہیں، مذاکرات میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی، کل صبح جب ایرانی صدر نے معاہدے پر دستخط کردئیے تو پھر سوئٹزرلینڈ جانے کا مقصد نہیں تھا۔

اسحاق ڈار نے صحافیوں کو بتایا کہ جولائی کے پہلے ہفتے میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین ہے، ساٹھ روز کے اندر اندر دوسرے مرحلے کے مذاکرات مکمل کرنے ہیں۔

انہوں نے آگاہ کیا کہ سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے لیے موجود پاکستانی سفارتی حکام کو واپس بلالیا ہے۔

لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں روکنے کے لیے امریکا دباؤ ڈالے: فرانس

 فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی جارحیت اور فوجی کارروائیوں کو روکنے کے لیے امریکا کو اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہئے۔

فرانسیسی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے کہا کہ فرانس اب بھی لبنانی فوج کی حمایت کے لیے عالمی امداد اور تعاون کو متحرک کرنے کے مقصد سے ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر کام کر رہا ہے۔

ژاں نویل بارو نے مزید کہا کہ فرانس اس وقت تک ایران پر عائد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیاں ختم کرنے کی حمایت نہیں کرے گا جب تک اسے یہ اطمینان نہ ہو جائے کہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات اس کی توقعات کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔

ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور

ایران امریکا معاہدہ کے بعد قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے قرار داد پیش کی گئی، جسے ایوان نے منظور کیا۔

پیش کردہ قرارداد کے متن کے مطابق معاہدہ پوری دنیا میں امن کا باعث بنے گا، ایوان معاہدے پر امریکا اور ایران کی قیادت سمیت دنیا بھر کو مبارکباد پیش کرتا ہے۔

قرارداد میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی کو امن کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔

ایران نے لبنان پر حملوں کی وجہ سے سوئٹزرلینڈ کا دورہ منسوخ کیا: قطری میڈیا

قطر کے نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ ایران نے لبنان پر حملوں کی وجہ سے سوئٹزرلینڈ کا دورہ منسوخ کیا، ایران کے سوئٹزرلیند نہ آنے کی وجہ سے مذاکرات ملتوی کیے گئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی لبنان پر بمباری ہی ایران امریکا مذاکرات میں رکاوٹ بنی۔

خیال رہے کہ ایران کی جانب سے واضح کیا گیا تھا کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل لبنان پر حملے روک دے اور اپنی افواج بھی لبنان سے نکال لے تاہم اسرائیل نے ایسا کرنے سے انکار کیا ہے۔

اسرائیل نے جنوبی لبنان پر تازہ فضائی حملوں کے ساتھ توپ خانے سے بھاری گولہ باری بھی کی جس سے 16 عام شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔

جنگ بندی کے نتیجے میں خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی: شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پاکستان کی بڑی کامیابی ہے، ایران اور پاکستان کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کی جائے گی، مزید کمی بھی کریں گے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان کو بے پنا عزت ملی، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شاندار کامیابی پر اللہ کے حضور سربسجود ہیں، دنیا کے ہر خطے میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ سیاسی اختلافات کے علاوہ قوم متحدہ ہے، پاکستان کی اس اہم کامیابی پر یہ ایوان ایک متفقہ قرارداد منظور کرے، متفقہ قرار داد اتحاد اور یکجہتی کا واضح پیغام ہوگی، قومی وحدت کیلئے ہم ایک ہیں اور ہمیشہ ایک رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی وفد شہید آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کرے گا، جنگ بندی کے نتیجے میں خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی، ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے۔

پینٹاگون کو ایران جنگ کے اخراجات کیلئے 80 ارب ڈالر درکار

وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کو ایران کے خلاف جنگ اور دیگر اخراجات کیلئے 80 ارب ڈالر درکار ہیں، رقم صرف جنگی اخراجات ہی نہیں بلکہ دوسرے بل پورا کرنے کیلئے بھی طلب کی جا رہی ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق آئندہ چند دنوں میں امریکی حکومت کانگریس کو ایک اضافی مالی درخواست بھی بھیج سکتی ہے، پینٹاگون حکام نے کانگریس کو بتایا کہ جنگ کے مجموعی اخراجات ابھی واضح نہیں۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ایران جنگ سے امریکی معیشت کو تقریباً 1 کھرب ڈالر تک نقصان ہو سکتا ہے۔

صدر پزشکیان کے کہنے پر معاہدہ منظور کیا: ایرانی سپریم لیڈر

 ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ قومی سلامتی کونسل کی سفارش پر امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی گئی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے ایرانی حکام نے نیک نیتی کے ساتھ بھرپور کوششیں کیں، جبکہ امریکی صدر نے بھی مختلف ذرائع استعمال کیے تاکہ معاہدہ ممکن بنایا جا سکے، معاہدے کے حوالے سے میری ذاتی رائے مختلف تھی، تاہم ایرانی صدر نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ایرانی قوم کے حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا اور امریکا کے حد سے تجاوز کرنے والے مطالبات قبول نہیں کیے جائیں گے۔

ایرانی سپریم لیڈر کے مطابق صدر نے اس حوالے سے مکمل ذمہ داری قبول کرنے کا عہد کیا، جس کے بعد انہوں نے معاہدے کی اجازت دی، اب ایران اس معاہدے میں طے شدہ شرائط کے عملی نفاذ اور ان کے نتائج کا انتظار کرے گا۔

ایران سے معاہدہ عالمی بحران روکنے کے لیے کیا: ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میری طاقت کی کوئی حد نہیں، ایران سے معاہدہ عالمی بحران روکنے کے لیے کیا، امریکا نے ایران کو مکمل طور پر شکست دی۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کا معاہدہ کرنا غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے، جنگ جاری رہنے کی صورت میں آبنائے ہرمز بند رہتی اور دنیا کو شدید تیل بحران کا سامنا کرنا پڑتا، مسلسل بمباری کی صورت میں عالمی معیشت کساد بازاری کا شکار ہو سکتی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ بحری ناکہ بندی کے دوران کوئی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب نہیں ہوا، معاہدہ عالمی اقتصادی تباہی روکنے اور توانائی کی سپلائی بحال رکھنے کے لیے ضروری تھا۔

اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی سے باز نہ آیا، 16 لبنانی شہید

 اسرائیل کے جنوبی لبنان میں فضائی حملوں اور توپ خانے کی گولہ باری سے کم از کم 16 افراد شہید ہو گئےجبکہ متعدد زخمی اور لاپتا ہیں۔

لبنان کی سرکاری خبر ایجنسی نے بتایا کہ رات بھر جاری رہنے والی یہ بمباری علاقے پر ہونے والے شدید ترین اسرائیلی حملوں میں سے ایک تھی، جس میں آدھی رات کے بعد متعدد گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی توپ خانے نے نبطیہ شہر، کفر جوز، کفر رمان اور زبدین سمیت کئی قریبی قصبوں پر گولہ باری کی، اس کے بعد فضائی حملوں کی لہر نے کفر تبنیت اور ریحان کی پہاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا امن کی توقع رکھتا ہے، لبنان، حزب اللہ اور اسرائیل سے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی توقع ہے جبکہ عراقی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی یقینی بنانا امریکا کی ذمہ داری ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ نہیں جائیں گے: وائٹ ہاؤس

 ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج رات ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے سوئٹزرلینڈ روانہ نہیں ہوں گے۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات کے منصوبے ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے تاہم امریکی وفد دستیاب ہونے والے پہلے موقع پر ہی روانگی کیلئے تیار ہے۔

وائٹ ہاؤس کے بیان میں مزید کہا گیا مذاکرات کی انتظامی اور عملی پیچیدگیاں کبھی بھی آسان یا قابلِ پیشگوئی نہیں رہی ہیں، موجودہ صورتحال کے مطابق نائب صدر آج رات روانہ نہیں ہو رہے۔

ترجمان وائٹ ہاؤس نے مزید بتایا کہ جیسے ہی مذاکرات کے اگلے مرحلے یا آئندہ اقدامات کے بارے میں کوئی واضح پیشرفت ہوگی، اس سے آگاہ کر دیا جائے گا۔

سوئٹزرلینڈ نے امریکا اور ایران میں آج طے شدہ مذاکرات منسوخ ہونے کی تصدیق کر دی

سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق نہیں ہوں گے۔

سوئس وزارت خارجہ نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں،امریکا ایران مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں طے تھے۔

اس سے پہلے سوئس وزارت خارجہ نے بتایا تھا کہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکہ ایران مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ کے شہر برجنسٹاک میں شروع ہوگا۔

سوئس وزارت خارجہ کے مطابق معاہدے پر عمل کیلئے امریکہ اور ایران کے مندوبین برجنسٹاک میں ملاقات کریں گے، اس موقع پر ثالث پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی موجود ہوں گے۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے دورے کے متعلق ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔