خلاصہ
- لاہور: (دنیا نیوز) پنجاب کے 13 اضلاع میں نومبر کی انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو گیا ہے، جس کے دوران 93 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
مہم کے لیے 77 ہزار سے زائد اہلکار خدمات انجام دیں گے۔
سربراہ انسداد پولیو پروگرام خالد پرویز کے مطابق لاہور میں انسداد پولیو مہم سات روز تک جاری رہے گی، جبکہ پنجاب کے دیگر 12 اضلاع میں مہم چار روز جاری رہے گی۔ انسداد پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔
خالد پرویز نے بتایا کہ لاہور میں 22 لاکھ 85 ہزار سے زائد، راولپنڈی میں 9 لاکھ 90 ہزار، ملتان میں 10 لاکھ سے زائد جبکہ رحیم یار خان میں 11 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر انسداد پولیو مہم کے دوران بچوں کو قطرے پلانا ضروری ہے، خواہ انہیں گزشتہ مہمات میں بھی ویکسین دی جا چکی ہو۔ پولیو ایک لاعلاج مرض ہے اور بروقت ویکسینیشن کے ذریعے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
خالد پرویز نے والدین سے اپیل کی کہ پولیو ورکرز کی آمد پر اپنے بچوں کو ویکسین پلانے کے لیے دستیاب رکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی دورے کے دوران رہ جانے والے بچوں تک رسائی کے لیے فالو اَپ سرگرمیاں بھی مہم کا حصہ ہوں گی۔
انہوں نے مقامی رہنماؤں اور علماء کرام پر زور دیا کہ وہ والدین کو پولیو ویکسین کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے تمام ہدف شدہ اضلاع میں کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔
سربراہ انسداد پولیو پروگرام کے مطابق پولیو کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ ہر بچے کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے والدین کا تعاون اور بچوں کی پولیو ٹیموں تک رسائی انتہائی اہم ہے۔