خلاصہ
- تہران: (دنیا نیوز) ایران کے پارلیمانی سپیکر و چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی، اور امریکی دھمکیاں اس اہم آبی گزرگاہ کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے کہا کہ امریکہ نے اب تک یہ سبق نہیں سیکھا کہ دھونس اور وعدہ خلافی اب بغیر قیمت چکائے ممکن نہیں، میں واضح الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر آپ حملہ کریں گے تو جواب بھی ملے گا۔
انہوں نے امریکہ پر مسلسل دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مزید کہا کہ فضول ہاتھ پاؤں نہ ماریں، ورنہ آپ مزید دلدل میں دھنس جائیں گے، آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی، امریکی دھمکیوں کے تحت نہیں۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے رابطہ کیا ہے، وہ معاہدہ کرنے کا بہت زیادہ خواہش مند ہے، ایران نے حملہ کیا تو 20 گنا زیادہ طاقت سے جواب دیں گے۔
ایران کے پارلیمانی قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی کا کہنا تھا کہ ایک بھی امریکی فوجی زندہ واپس نہیں جائے گا، ایران کے خلاف ساتھ دینے والے خلیجی ممالک خبردار رہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خلیجی ممالک اپنے تیل اور گیس کے کنوؤں کی حفاظت کریں، ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کیلئے ہر حد تک جائے گا، ایران نے آبنائے ہرمز میں نئے ایرانی انتظام کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی شرائط کو پامال کردیا، امریکی حملوں نے معاہدے کو نقصان پہنچایا، معاہدے کی پانچویں شق کو امریکا نے نظرانداز کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران قومی مفادات اور خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا، آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کی ذمہ داری ایران کی ہے۔