خلاصہ
- واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے سلسلے میں قبل از وقت ووٹنگ کے اعداد و شمار جاری کر دیے گئے، اب تک 5 کروڑ 20 لاکھ سے زائد امریکی شہری اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے ہیں، جبکہ ووٹنگ کا عمل مختلف ریاستوں میں جاری ہے۔
امریکا میں وسط مدتی انتخابات کل 3 نومبر کو ہو رہے ہیں، جن میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہو گا، ان انتخابات کے نتائج امریکی کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کی پارلیمانی پوزیشن کا فیصلہ کریں گے، متعدد ریاستوں میں گورنرز کے انتخاب کے لیے بھی ووٹنگ ہو گی، یہ انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی ماندہ مدتِ صدارت کے دوران حکومتی پالیسیوں اور سیاسی حکمتِ عملی پر بھی اثرانداز ہوں گے۔۔
امریکی میڈیا این بی سی کے مطابق قبل از وقت ووٹنگ میں تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ افراد نے پولنگ سٹیشنز پر جا کر ذاتی طور پر ووٹ کاسٹ کیا، جبکہ 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد شہریوں نے ڈاک کے ذریعے اپنے ووٹ بھیجے۔
اعداد و شمار کے مطابق ریاست ٹیکساس میں 70 لاکھ سے زائد ووٹ ڈالے جا چکے ہیں، اسی طرح نارتھ کیرولائنا میں بھی قبل از وقت ووٹنگ کے دوران ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد سابقہ ریکارڈ سے تجاوز کر گئی ہے، ریاست میں ڈیموکریٹک پارٹی کے 10 لاکھ سے زائد جبکہ ریپبلکن پارٹی کے تقریباً 6 لاکھ 79 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز ووٹ ڈال چکے ہیں۔
یکم نومبر تک مجموعی طور پر 5 کروڑ 31 لاکھ 40 ہزار سے زائد ووٹ ڈالے جا چکے تھے، یہ تعداد 2022 کے وسط مدتی انتخابات میں الیکشن ڈے سے قبل ڈالے گئے تقریباً 4 کروڑ 60 لاکھ ووٹوں سے کہیں زیادہ ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق قبل از وقت ووٹنگ میں اضافے کو انتخابی عمل میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔