خلاصہ
- آئینی بل کا تنازع، تحقیقاتی رپورٹ مکمل، آج نواز شریف کو پیش کی جائے گی، سفارشات پر عمل کیا جائے تو موجودہ بحران ختم ہو سکتا ہے، راجا ظفر الحق کا دعویٰ۔
لاہور/راولپنڈی: (دنیا نیوز) گزشتہ روز ہونے والے فیض آباد آپریشن کے بعد ملک بھر میں ہنگاموں اور مظاہرین اور سکیورٹی فورسز میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
دنیا نیوز براہ راست دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں:
11:10 PM
وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ حکومت نے عدالتی حکم پر عملدرآمد کیا، وفاقی وزراء زاہد حامد اور انوشہ رحمان نے استعفیٰ نہیں دیا، عدالت نے حکم دیا کہ دھرنا ختم کرانے کیلئے غیرمسلح آپریشن کیا جائے، دھرنے والے مسلح تھے، اس لئے آپریشن روکنا پڑا، حکومت اپنے نقطۂ نظر سے عدالت کو کل آگاہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتی ہے، معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے، اس کے ساتھ دیگر ناموں کو مسلک کرنا غیرذمہ درانہ ہے، سب کو اجتناب کرنا چاہئے، حکومت پُرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے دھرنا ختم کر کے اسلام آباد اور راولپنڈی کے لوگوں کی مشکلات ختم کرنا چاہتی ہے۔
10:55 PM
شاہراہوں کی بندش سے آئل ٹینکرز کے ذریعے تیل کی سپلائی متاثر ہونے لگی۔ پنجاب، خیبر پختونخوا اور شمالی علاقوں میں پٹرول بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ درجنوں آئل ٹینکرز شیخوپورہ، وزیر آباد، گوجر خان سے آگے جانے سے قاصر ہیں۔ ترجمان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے مطابق، ان آئل ٹینکرز میں 50 لاکھ لٹر سے زائد فیول موجود ہے، کوئی بڑا سانحہ بھی ہو سکتا ہے۔
10:40 PM
وفاقی وزیر داخلہ کے بیان پر اپنے ردعمل میں چودھری نثار نے کہا ہے کہ میرے گھر میں کوئی ہلاکت تو درکنار کوئی شخص زخمی تک نہیں ہوا، احسن اقبال اپنی ناہلی چھپانے کے لئے بے سروپا بیانات سے گریز کریں۔ چودھری نثار نے استفسار کیا کہ کیا یہ وہی شخص نہیں جس نے کہا تھا کہ میں تین گھنٹوں میں دھرنا کلیئر کرا دوں گا؟ اب آپریشن کا سارا بوجھ عدالت پر ڈال رہے ہیں، یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ ملک کا وزیر داخلہ اتنا بے خبر اور غیرذمہ دار ہے، عہدے کا تقاضا تھا کہ احسن اقبال آپریشن پر بہانے بنانے کی بجائے اپنی انتظامیہ کے ساتھ کھڑے ہوتے۔
10:25PM
ن لیگ میں اختلافات مزید بڑھنے لگے، وہاڑی سے ایم این اے طاہر اقبال کی بھی راہیں جدا، آئندہ الیکشن آزاد حیثیت سے لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ مزید ارکان اسمبلی کے بارے میں بھی افواہیں گردش کرنے لگیں۔
10:10 PM
وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ میڈیا چینلز کے لائیو دکھانے کی وجہ سے آپریشن مکمل نہ ہو سکا، انتظامیہ نے کشیدگی کم کرنے کیلئے آپریشن خود روکا، شہباز شریف نے کہا تھا کہ اگر اس معاملے پر کسی کا گناہ ہے تو اسے نکال دیا جائے۔
10:00 PM
انکوائری کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ وہ آئنی بل میں متنازعہ شقوں کے حوالے سے کل تحقیقاتی رپورٹ پیش کریں گے، کہتے ہیں اخلاقی طور پر رپورٹ کے مندرجات تو نہیں بتا سکتا لیکن اگر اس پر عمل کیا جائے تو بحران کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔
9:50 PM
جھنگ میں دربار سیال شریف پر سجادہ نشین حمید الدین سیالوی کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں 4 لیگی ایم این ایز اور 6 ایم پی ایز نے شرکت کی۔ تمام اراکین اسمبلی مستعفی ہونے کو تیار ہیں۔
9:40 PM
راولپنڈی میں چودھری نثار، حنیف عباسی اور راجہ ظفر الحق کے گھروں کے باہر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ رحمان آباد اور سکستھ روڈ کے علاقوں میں رینجرز تعینات ہے۔
9:30 PM
سیالکوٹ میں بھی مرکزی انجمن تاجران کی جانب سے کل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔ کل تمام مارکیٹیں، بازار اور کاروبار بند رہیں گے۔ انجمن تاجران نے تحریک لبیک سے اظہار یکجہتی کا اعلان کر دیا۔
9:20 PM
انجمن تاجران نے اعلان کیا ہے کہ کل لاہور کے تمام کاروباری ادارے اور مارکیٹیں بند رہیں گی۔
9:10 PM
وزیر داخلہ نے خورشید شاہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔ وزیر داخلہ نے ٹیلیفونک رابطے میں اپوزیشن لیڈر سے کہا کہ ملکی حالات کے پیش نظر ہمیں ایک مؤقف اپنانا چاہئے۔ وزیر داخلہ نے فیض آباد آپریشن کے حوالے سے خورشید شاہ کو اعتماد میں لیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کل چار افراد فیض آباد آپریشن کے دوران نہیں، چودھری نثار کے گھر کے سامنے زخمی ہوئے تھے۔ سید خورشید شاہ کہتے ہیں حکومت نے ملکی حالات مشورہ مانگا ہے، میں نے معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا کہا ہے، احسن اقبال نے معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں مدد مانگی ہے۔
8:50 PM
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزیر زاہد حامد نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ زاہد حامد نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو فیصلے سے آگاہ کر دیا۔ مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کو بھی اعتماد میں لے لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم نے استعفیٰ منظور کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
8:30 PM
کسی کے گھر پر حملہ کرنا ہمارے نبی ﷺ کی تعلیمات نہیں ہیں، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کی ٹویٹ، کہتے ہیں ہمیں پاکستان کو نفرتوں سے بچانا ہو گا، بدقسمتی سے پی ٹی آئی ہنگامہ آرائی اور احتجاج کی حمایت کر رہی ہے۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ اسلام آباد انتظامیہ نے آپریشن ہائیکورٹ کے حکم پر کیا، عدالت نے آپریشن روکنے پر مجھے شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔
8:20 PM
سندھ بھر کے تمام تعلیمی ادارے کل بند رہیں گے، وزیر اطلاعات سندھ کا اعلان۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے فیصلے کی منظوری دے دی۔ تمام تعلیمی ادارے فیصلے پر عمل کرنے کے پابند ہونگے۔ وفاقی جامعہ اردو، جامعہ لیاری، سندھ مدرستہ الاسلام نے چھٹی کا اعلان کر دیا۔ ڈاؤ یونیورسٹی نے تمام پرچے ملتوی کر دیئے۔ داؤد انجینئرنگ اور این ای ڈی یونیورسٹی نے تاحال فیصلہ نہیں کیا۔
8:10 PM
شہباز شریف وفاقی حکومت کو مشکل سے نکالنے کیلئے ایکٹو ہو گئے۔ وفاقی وزیر قانون نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کی ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ زاہد حامد کے استعفے کا امکان ہے۔
7:55 PM
فیصل آباد میں صوبائی وزیر قانون کے گھر کے باہر پولیس اور مظاہرین میں تصادم جاری ہے۔ پولیس نے مظاہرین سے کوڑیاں والا پل خالی کروا لیا ہے۔ مظاہرین گلیوں میں داخل ہو گئے ہیں اور وقفے وقفے سے پولیس پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔ شیلنگ سے قریبی آبادی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ہر طرف دھوئیں کے بادل چھائے ہیں جن کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
7:50 PM
گھر پر حملے کے واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بلال یاسین نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوتا دیکھ ریا ہوں، واقعہ سمجھ سے بالاتر ہے، کیا ایسے نظام چلتا ہے؟ پتھراؤ کے وقت میں گھر پر موجود نہیں تھا، مجھے پتھراؤ کے بارے میں محلے داروں نے بتایا۔
7:45 PM
انتظامیہ کے مطابق، سندھ یونیورسٹی جامشورو کل معمول کے مطابق کھلی رہے گی، طلباء افواہوں پر کان نہ دھریں۔
7:40 PM
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق، احتجاج کی وجہ سے قومی شاہرات پر ٹریفک کے بہاؤ میں تعطل ہے۔ موٹروے ایم ون اسلام آباد تا پشاور مکمل طور پر کھلی ہے۔ ایم ٹو اسلام آباد سے چکری، پنڈی بھٹیاں بند ہے۔ لاہور سے فیض پور، شیخوپورہ، پنڈی بھٹیاں اور فیصل آباد تک موٹر وے ٹریفک کے لئے بند ہے۔ جی ٹی روڈ کامرہ، گوجر خان، مندرہ، سرائے عالمگیر، ٹیکسلا، مرید کے، کامونکی اور راوی ریان سے بند ہے۔ نیشنل ہائی وے ملتان روڈ پر موہلنوال، مانگا منڈی، پکا میل، چیچہ وطنی، لوہاراں والا کھوہ اور ہڑپہ سے بند ہے۔ موٹروے پولیس ٹریفک کو متبادل راستوں سے گزار رہی ہے۔ ترجمان موٹروے پولیس نے اپیل کی ہے کہ شہری غیرضروری سفر سے گریز کریں۔
7:30 PM
اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں 2 روزہ چھٹی کا نوٹفیکیشن جاری کر دیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، تعلیمی ادارے پیر اور منگل کو بند رہیں گے۔
7:20 PM
صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین کی رہائشگاہ واقع موہنی روڈ پر مشتعل افراد کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا۔ صوبائی وزیر بلال یاسین اور اہل خانہ گھر پر موجود نہ تھے۔ تاہم، واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ گھر کے شیشے، کھڑکیاں اور دروازے ٹوٹ گئے۔ موہنی روڈ کے اطراف میں دکانیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔ لاہور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے۔
7:10 PM
حکومت کا بڑا فیصلہ، ڈی جی رینجرز کو فیض آباد میں دھرنا مظاہرین سے مذاکرات اور آپریشن کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ وفاق نے ڈی جی رینجرز پنجاب کو 3 دسمبر تک فیض آباد کلیئر کرانے کا ٹاسک دیدیا۔ ڈی جی رینجرز پنجاب کو دھرنے کے شرکاء سے نمٹنے کے تمام اختیارات دے دیئے گئے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے میجر جنرل اظہر نوید کو آپریشن انچارج بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
7:00 PM
کراچی میں نمائش چورنگی سمیت 10 مقامات پر دھرنا جاری ہے۔ اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی آمدورفت معطل ہے۔ شاہراہ پاکستان اور سپر ہائی وے پر گاڑیوں کی قطاریں لگی ہیں۔
Historic moments only a few hours away for Izzat Maab Khadim Hussain Rizvi state of Pakistan will bow before his brand of language and politics the federal minister will be marched out and the beginning of Khadim Rizvi era long live Pakistan
— Kamran Khan (@AajKamranKhan) November 26, 2017
6:55 PM
اسلام آباد آپریشن کا ملک بھر میں ری ایکشن جاری ہے۔ فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، ملتان اور خانیوال میں احتجاج اور دھرنے جاری ہیں۔ سکھر، ٹنڈو آدم، عمر کوٹ، پشاور، آزاد کشمیر اور بلوچستان کے کئی شہروں میں بھی دھرنے جاری ہیں۔
6:50 PM
لاہور میں مال روڈ پر دھرنا جاری ہے۔ شاہدرہ موڑ، بابو صابو، امامیہ کالونی، پھاٹک، ٹھوکر نیاز بیگ، فیصل چوک اور اچھرہ سمیت اہم شاہراہیں بلاک کر دی گئیں۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیئے گئے۔
6:40 PM
دھرنے کے شرکاء کی طرف سے ڈی چوک جانے کے اعلان کے بعد اس روٹ پر بھی فورسز کو تعین کیا جا رہا ہے۔
6:30 PM
وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر تمام نیوز چینلز کی نشریات بحال کر دی گئی ہیں، وزیر اعظم نے رپورٹنگ کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر اتفاق کے بعد ہدایات جاری کیں، چینلز پر پابندی تفصیلی غور اور بدامنی روکنے کیلئے لگائی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینلز کی بندش کا فیصلہ بہت تکلیف دہ اور مشکل تھا، حکومت آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے، بندش کا فیصلہ چند چینلز کی ہیجان انگیزی کی وجہ سے کیا، اقدام کا واحد مقصد ملکی سلامتی اور افراتفری سے بچاؤ تھا۔
6:20 PM
فیصل آباد میں مظاہرین رانا ثناء اللہ کے گھر کے باہر پہنچ گئے۔ پولیس نے مظاہرین پر شیلنگ شروع کر دی۔
6:15 PM
بہاولپور میں تعلیمی بورڈ کے زیراہتمام جاری انٹرمیڈیٹ سپلیمنٹری امتحانات ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔ ترجمان تعلیمی بورڈ کے مطابق، ملک کی موجودہ سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر امتحانات ملتوی کئے گئے ہیں۔ عملی امتحانات کے لئے دوبارہ ڈیٹ شیٹ جاری کی جائے گی۔
6:10 PM
ڈیرہ اسماعیل خان میں کشیدہ صورتحال کے باعث انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ گومل یونیورسٹی 27 نومبر کو بند رہے گی۔
6:00 PM
لاہور میں کشیدہ صورتحال کے باعث پنجاب اسمبلی کا جاری اجلاس 4 دسمبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی منظوری کے بعد سپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ جمعہ کے روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس پیر تک ملتوی کیا گیا تھا۔ پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنے اور کشیدہ صورتحال کے باعث اجلاس اب چار دسمبر کو ہو گا۔
5:50 PM
فیصل آباد میں مظاہرین نے رانا ثناء اللہ کے گھر کی جانب جانے والی سڑک پر لگائی گئی رکاوٹیں توڑ دیں۔ مظاہرین سمن آباد چوک کے پاس پہنچ گئے جہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
5:40PM
پیمرا کی جانب سے نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد ملک بھر میں تمام نیوز چینلز کی نشریات بحال ہو گئیں۔ اب عوام دنیا نیوز کے ذریعے دنیا بھر سے باخبر رہ سکتے ہیں۔

5:20 PM
مظفر گڑھ میں عوامی راج پارٹی کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سے حکومت کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ جمشید دستی نے مزید کہا کہ آرمی چیف پر ملک کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری ہے، حکومت نے ملک میں آگ لگانے کے لئے جان بوجھ کر ترمیم کی، ترمیم میں پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیا۔
5:00 PM
پشاور میں مذہبی جماعتوں کا رنگ روڈ پر جمیل چوک میں مظاہرہ دوسرے روز بھی جاری ہے۔
4:50 PM
آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے وزیر اعظم شاہد خاقان سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں فیض آباد دھرنے کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آرمی چیف نے وزیر اعظم کو اسلام آباد میں فوج تعینات نہ کرنے کی تجویز دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، آرمی چیف نے وزیر اعظم سے کہا کہ ہم اپنے لوگوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کر سکتے۔
4:42PM
مسلم لیگ قائد اعظم نے قومی حکومت کے قیام کا مطالبہ کر دیا۔ چودھری شجاعت حسین کہتے ہیں قومی حکومت ہی موجودہ بحران کا واحد حل ہے۔ پرویز الہٰی کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ کا ختم نبوت دھرنے کو بھارت سے جوڑنا انتہائی شرمناک ہے۔
4:35PM
پیمرا نے تمام نیوز چینلز کی نشریات بحال کرنے کا حکم دے دیا۔ پیمرا نے تمام نیوز چینلز کو گائیڈ لائن جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015ء کے تحت براہ راست کوریج نہ کرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پوزیشنز براہ راست نہ دکھائی جائیں۔ پیمرا کی جانب سے میڈیا ہاؤسز کو سٹاف کی سکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
3:50PM
عمران خان نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے استعفے کا مطالبہ کر دیا، کہتے ہیں حکومت شریف خاندان کو بچانے کیلئے سب کچھ تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے، فوری طور پر نئے انتخابات کا اعلان کیا جائے۔
2:43 PM
اسلام آباد میں 21 ویں روز بھی دھرنا جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق، ٹرپل ون بریگیڈ ابھی تک تعینات نہیں ہوئی۔
2:42 PM
جامعہ کراچی میں پیر کو ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔ فیصلہ شہر کی خراب صورتحال کے باعث کیا گیا ہے۔
2:30 PM
وزیر اعظم کی زیرصدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، وزیر داخلہ، پولیس حکام اور وزیر اعلیٰ پنجاب بھی شریک ہوئے۔ وزیر اعظم کی زیرصدارت عسکری و سول قیادت کی بیٹھک ہوئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کی ذمہ داری پولیس اور سول سکیورٹی اداروں کی ہے۔ حکومت نے دھرنا ختم کرانے کیلئے علماء سے رابطوں کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ فوج اپنا آئینی کردار مثبت طریقے سے جاری رکھے گی۔
1:36 PM
فیض آباد دھرنے کے سکیورٹی انتظامات رینجرز کے سپرد کر دیئے گئے ہیں۔ رینجرز نے صف اول میں پوزیشن سنبھال لی ہے۔ ایف سی اور پولیس کو پچھلی پوزیشنوں پر بھیج دیا گیا ہے۔
12:52 PM
دالبندین کے علاقے خالق آباد میں بھی مذہبی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے۔ گوجرانوالہ اور ظاہر پیر میں بھی مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔
12:39 PM
وزیر اعظم کی زیرصدارت مشاورتی اجلاس میں دھرنے کے خاتمے کیلئے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔
11:20 AM
پنجاب میں تعلیمی ادارے دو روز تک بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود کے مطابق، فیصلہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔
10:53 AM
کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں مظاہرین نے ٹریفک روک لی ہے۔ سڑک پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
10:31 AM
دھرنے کے شرکاء کی نماز جنازہ ادا کرنے کی تیاری شروع ہو گئی۔ موٹر وے ایم ٹو اسلام آباد سے پنڈی بھٹیاں تک بند ہے۔ اٹک کامرہ روڈ 22 گھنٹے سے بلاک ہے۔
8:57 AM
مظاہرین کے فیض آباد کے مقام پر احتجاج کے سبب سیکٹر آئی ایٹ مکمل طور پر سیل ہے۔
8:00 AM
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کی رہائش گاہ کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ گھر کے اطراف میں خاردار تار لگا دی گئی ہے جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات ہے۔
7:45 AM
لاہور میں مظاہرین نے ٹھوکر نیاز بیگ کو ایک بار پھر بند کر دیا ہے۔ ٹھوکر ٹرمینل کے مقام پر مذہبی جماعت کے کارکنوں نے کنٹینرز لگا دیئے ہیں۔
6:15 AM
لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے تحریک لبیک کے کارکنوں کا دھرنا رات سے جاری ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مطالبات سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے اور جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد آپریشن کا ملک بھر میں ری ایکشن، کئی شہروں میں دھرنے
یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ کی زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس بلانتیجہ ختم
.jpg)