پوتن کی مصری وزیر خارجہ سے ملاقات، دوطرفہ تعاون، مشرق وسطیٰ صورتحال پر گفتگو

پوتن کی مصری وزیر خارجہ سے ملاقات، دوطرفہ تعاون، مشرق وسطیٰ صورتحال پر گفتگو

ملاقات میں روس کی جانب سے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور صدارتی معاون یوری اوشاکوف بھی شریک تھے جبکہ مصری سفیر حمدی شعبان نے بھی شرکت کی۔

صدر پوتن نے کہا کہ روس اور مصر کے درمیان قریبی روابط دونوں ممالک کے لیے نہایت اہم ہیں اور حال ہی میں انہوں نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی، صنعت اور دیگر شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مصر میں جوہری پاور پلانٹ "الضبعة" اور روسی صنعتی زون جیسے بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ کئی روسی کمپنیاں اس صنعتی زون میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہی، اس کے علاوہ مصر میں اناج اور توانائی کے حب کے قیام کی تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

صدر پوتن نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال باعث تشویش ہے اور روس چاہتا ہے کہ جاری تنازع جلد از جلد ختم ہو، انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ماسکو خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے اس موقع پر صدر السیسی کا پیغام پہنچایا اور روس کے ساتھ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مصر روس کے ساتھ تعاون کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے "الضبعة" جوہری منصوبے اور صنعتی زون کو دونوں ممالک کے تعلقات میں سنگ میل قرار دیا اور ان منصوبوں میں روسی تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مصر توانائی اور اناج کے عالمی مرکز کے طور پر ابھرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس سلسلے میں روسی تجاویز کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

ملاقات کے دوران اکتوبر میں ہونے والے روس-افریقہ سربراہی اجلاس پر بھی بات چیت ہوئی، جس میں مصر کی اعلیٰ سطحی شرکت کی توقع ظاہر کی گئی۔

صدر پوتن نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ روس مصر کو خوراک، خصوصاً گندم کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔