ایف بی آر میں 323 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف

ایف بی آر میں 323 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف

آڈٹ رپورٹ کے مطابق بے ضابطگیوں کے باعث 323 ارب 34 کروڑ روپے کی ریکوری کی نشاندہی کی گئی، تاہم جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران صرف 43 ارب روپے کی وصولی ممکن ہو سکی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر کی آمدن اور اخراجات کا رسک بیسڈ آڈٹ کیا گیا، جس میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کسٹمز ڈیوٹی اور اسلام آباد میں خدمات پر سیلز ٹیکس کا جائزہ لیا گیا۔

آڈٹ کے مطابق ایف بی آر کا داخلی کنٹرول نظام کمزور اور غیر مؤثر پایا گیا، جبکہ محصولات کی کم رپورٹنگ، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانوں کی کم وصولی سمیت متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔

رپورٹ کے مطابق 18 فیلڈ دفاتر نے 601 کیسز میں 15 ارب 29 کروڑ روپے کا کم از کم ٹیکس وصول نہیں کیا، جبکہ 19 فیلڈ دفاتر نے 527 کیسز میں 117 ارب  77 کروڑ روپے کا سپر ٹیکس وصول نہیں کیا، جبکہ 16 فیلڈ دفاتر نے ناقابل قبول اخراجات کے دعوؤں کے باعث 276 کیسز میں 24 ارب روپے کا انکم ٹیکس کم وصول کیا، دیگر کیسز میں قابل ٹیکس آمدن کے غلط تعین، اخراجات اور ان پٹ ٹیکس کی غلط تقسیم کے باعث بھی اربوں روپے کی کم وصولی سامنے آئی۔

سیلز ٹیکس کے شعبے میں بلیک لسٹڈ ٹیکس دہندگان کے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کی نگرانی نہ ہونے کے باعث 159 کیسز میں 41 ارب 78 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئیں، جبکہ 20 فیلڈ دفاتر نے 870 کیسز میں 13 ارب 3 کروڑ روپے کا سیلز ٹیکس وصول نہیں کیا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق کسٹمز ڈیوٹی کے شعبے میں درآمدی اشیا کی غلط درجہ بندی اور کم قیمت ظاہر کیے جانے کے باعث 9 ہزار 831 کیسز میں 3 ارب 56 کروڑ روپے کی محصولات کم وصول ہوئیں، اسی طرح ناقابل قبول ڈیوٹی اور ٹیکس چھوٹ، گودام سے تاخیر سے سامان نکالنے پر سرچارج کی عدم وصولی اور ضبط شدہ سامان فروخت نہ ہونے کے باعث بھی قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ایف بی آر اپنے داخلی کنٹرول کے نظام کو مؤثر بنائے، بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے مستقل نگرانی کا نظام قائم کرے، ٹیکس دہندگان کے پروفائل کو ریٹرن فائلنگ سسٹم سے منسلک کیا جائے اور کم از کم ٹیکس و سپر ٹیکس کے درست تعین کے لیے رسک بیسڈ ڈیسک آڈٹ کو مزید مؤثر بنایا جائے۔