خلاصہ
- لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم شاہ محمد کی اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور ملزم کو بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزام شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا، جبکہ مدعی کی جانب سے سزا میں اضافے کے لیے دائر نظرثانی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے، فیصلے میں کہا گیا کہ ایف آئی آر، گواہوں کے بیانات اور استغاثہ کی مجموعی کہانی میں متعدد سنگین تضادات موجود ہیں، جن کی وجہ سے مقدمہ مشکوک ہو گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ شناخت پریڈ قانونی تقاضوں کے مطابق اور قابل اعتماد ثابت نہیں ہوئی، فیصلے کے مطابق گواہوں نے ایف آئی آر میں ملزمان کی شناخت یا ان کا حلیہ بیان ہی نہیں کیا تھا، جس کے باعث بعد میں کی جانے والی شناخت پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مقدمے میں غیر معمولی تاخیر، شواہد میں موجود خامیوں اور تفتیشی نقائص نے استغاثہ کے مقدمے پر سنجیدہ شکوک پیدا کیے، عدالت نے فرانزک شواہد اور ملزم سے منسوب اسلحہ کی برآمدگی کو بھی ناقابل اعتماد قرار دیتے ہوئے انہیں سزا کی بنیاد بنانے سے انکار کر دیا۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اپنے فیصلے میں آبزرویشن دی کہشک کا فائدہ ملزم کا قانونی حق ہے، کوئی رعایت نہیں، عدالت نے قرار دیا کہ فوجداری مقدمات میں سزا اسی صورت برقرار رکھی جا سکتی ہے جب استغاثہ الزام کو ہر قسم کے معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرے، جو اس مقدمے میں نہیں ہو سکا۔
عدالت نے ملزم شاہ محمد کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں تو اسے بلا تاخیر جیل سے آزاد کر دیا جائے۔
لاہور ہائیکورٹ نے اسی مقدمے میں مدعی کی جانب سے سزا میں اضافے کے لیے دائر نظرثانی درخواست بھی مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب استغاثہ بنیادی الزام ہی ثابت کرنے میں ناکام رہا تو سزا میں اضافے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔