لاپتہ کارگو طیارے کی تلاش کیلئے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری

لاپتہ کارگو طیارے کی تلاش کیلئے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری

متعلقہ ادارے لاپتہ طیارے کی تلاش کیلئے مشترکہ آپریشن میں مصروف ہیں، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں پاک بحریہ، پاک فضائیہ اور مرچنٹ ویسل شریک ہیں، ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقے میں سرچ آپریشن بلا تعطل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کے ٹو ایئرویز طیارے کی تلاش کیلئے فضائی اور بحری کارروائیاں تیز کر دی گئیں، متعدد بحری اور فضائی وسائل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاک بحریہ کے دو بحری جنگی جہاز پی این ایس ذوالفقار اور پی این ایس حنین متاثرہ علاقے میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن سر انجام دے رہے ہیں، پاک بحریہ کا ہوائی جہاز بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہے، وسیع سمندری علاقے اور جون، جولائی میں بپھری لہروں کے باعث سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن ایک بڑا چیلنج ہے۔

ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن نے کہا کہ ایدھی فاؤنڈیشن کا ائیر کرافٹ پائپر سنیکا APBFM بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئیے صبح ٹیم کے ساتھ روانہ کردیا گیا، ایدھی کا ایئر کرافٹ پائپر سنیکا APBFM سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کیلئے استعمال ہوتا ہے۔

نجی کمپنی کا بیان اور عملے کی تصاویر جاری

دوسری جانب کے ٹو ایئرویز انتظامیہ نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ کے ٹو ایئر کارگو بوئنگ طیارہ شارجہ سے کراچی آ رہا تھا، طیارے کا گزشتہ رات 9:21 بجے ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا، بوئنگ 737 طیارے کا رجسٹریشن نمبر AP-BOI ہے، طیارے میں پانچ ارکان سوار تھے، پائلٹ محمد رضوان ادریس، فرسٹ افسر فیصل محمود شامل تھے۔

اعلامیہ کے مطابق لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان، انجنیئر عارف صدیقی اور محمد حامد شامل ہیں، متعلقہ اداروں کی جانب سے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، کے ٹو ایئر ویز پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر سرکاری اداروں سے بھرپور تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

شارجہ سے پاکستان کیلئے اڑان بھرنے والے K2 ایئر کے کارگو طیارے کے انجینئر محمدعارف صدیقی پی آئی اے سے ریٹائرڈ انجینئر تھے، محمد عارف صدیقی نے اپنے کیریئر کا آغاز پی آئی اے کے شعبہ انجینئرنگ سے کیا تھا۔

ذرائع نے کہا کہ پی آئی اے سے ریٹائرمنٹ کے بعد محمد عارف صدیقی کی خدمات کےK2 ایئر نے حاصل کیں تھیں۔

متعلقہ اداروں کی جانب سے لاپتہ طیارے کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے،کے ٹو ائیرویز پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہی ہے۔

ایئرلائن انتظامیہ کی جانب سے اپنے ساتھیوں کی سلامتی کے لیے دعا اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی کارگو طیارے کے لاپتہ ہونے کی تصدیق

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے کارگو طیارے کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شارجہ سے کراچی آنے والی کے ٹو ایئرویز کی کارگو پرواز سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

پی اے اے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کارگو طیارے نے رات 9 بج کر 18 منٹ پر نیویگیشنل سسٹم میں خرابی رپورٹ کی اور کراچی ایریا کنٹرول سینٹر نے فوری طور پر طیارے کی رہنمائی کی۔

پی اے اے نے بتایا کہ رات 9 بج کر 21 منٹ پر طیارہ ریڈار پر تیزی سے نیچے آتا دیکھا گیا اور طیارے نے اچانک اپنی سمت تبدیل کی، جس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہوگیا۔

بیان میں کہا گیا کہ لاپتا طیارے کی تلاش کیلئے ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر فوری فعال کر دیا گیا اور مختلف اداروں کے تعاون سے لاپتا طیارے کے لیے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کارگو طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شارجہ سے کراچی آنے والے نجی کارگو طیارے (K2 Airways) کے بحیرہ عرب میں گر کر لاپتہ ہونے کے افسوسناک حادثے پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے

وزیراعظم نے طیارے میں سوار عملے کے 5 ارکان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

شہباز شریف نے پاکستان سول ایوی ایشن، پاک بحریہ اور پاکستان ائیر فورس کو بحیرہ عرب میں سرچ اینڈ ریسکیو کی کارروائیاں تیز کرنے اور تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔