قتل کے مقدمے میں عمر قید پانے والا ملزم بری، پراسیکیوٹرز کے خلاف کارروائی کا حکم

قتل کے مقدمے میں عمر قید پانے والا ملزم بری، پراسیکیوٹرز کے خلاف کارروائی کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد رفیق نے ملزم سلمان احمد سلیمان کی فوجداری اپیل پر 30 اکتوبر 2026 کو فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں اہم گواہوں کے بیانات، طبی شواہد اور تفتیشی کارروائی میں متعدد تضادات موجود تھے، جبکہ پولیس ملزم کے خلاف قابل اعتماد شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق 18 فروری 2023 کو لاہور کے علاقے مصری شاہ میں ایک کریانہ سٹور کے باہر جھگڑے کے دوران شہری نبیل اصغر کو خنجر کا وار کرکے قتل کرنے کا الزام تھا، مقدمے کے مدعی اور مقتول کے بھائی روحیل اصغر نے الزام عائد کیا تھا کہ ملزم نے نبیل اصغر پر حملہ کیا، جبکہ بیچ بچاؤ کرانے والے حیدر علی اور علی بٹ سمیت کانسٹیبل شکیل احمد بھی زخمی ہوئے تھے۔

ٹرائل کورٹ نے 29 اگست 2024 کو سلمان احمد سلیمان کو قتل کے جرم میں عمر قید اور پانچ لاکھ روپے معاوضے کی سزا سنائی تھی، جبکہ اقدام قتل اور دیگر دفعات کے تحت بھی سزائیں دی گئی تھیں، ملزم نے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ وقوعہ صبح ساڑھے گیارہ بجے پیش آیا، تاہم ایف آئی آر تقریباً تین گھنٹے کی تاخیر سے دوپہر 2 بج کر 25 منٹ پر درج کی گئی، جبکہ مقتول کا پوسٹ مارٹم بھی تقریباً 14 گھنٹے بعد کیا گیا، عدالت نے ان تاخیروں کو تفتیش کی خامیوں میں شامل قرار دیا۔

فیصلے کے مطابق مدعی روحیل اصغر نے ابتدائی طور پر خود کو عینی شاہد ظاہر کیا، تاہم جرح کے دوران اس نے تسلیم کیا کہ وہ کریانہ سٹور کے اندر موجود تھا اور شور سن کر باہر پہنچا تو اس کا بھائی پہلے ہی زمین پر گرا ہوا تھا، مدعی نے ملزم کو خنجر سے وار کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، جس کے باعث عدالت نے اس کی گواہی کو ملزم کے کردار اور شناخت کے تعین کے لیے ناکافی قرار دیا۔

عدالت نے مزید نشاندہی کی کہ کانسٹیبل شکیل احمد کا مبینہ زخمی ہونے کے واقعے کے 12 روز بعد طبی معائنہ کروایا گیا، پولیس نے موقع پر موجود دیگر مبینہ عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ نہیں کیے اور نہ ہی قریبی کریانہ اسٹور سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مدعی اور دیگر گواہ ملزم کو پہلے سے نہیں جانتے تھے، اس لیے اس کی شناخت کے لیے مجسٹریٹ کے روبرو شناخت پریڈ کروانا ضروری تھا، تاہم تفتیشی اداروں نے یہ قانونی تقاضا بھی پورا نہیں کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کی نشاندہی پر مبینہ طور پر خنجر برآمد کیا گیا، جس پر انسانی خون بھی پایا گیا، تاہم خون کی گروپنگ یا ڈی این اے ٹیسٹ نہیں کروایا گیا تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ خون مقتول کا تھا یا کسی دوسرے شخص کا، محض خنجر کی برآمدگی کو جرم ثابت کرنے کے لیے کافی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے استغاثہ کی جانب سے اہم زخمی گواہ حیدر علی کو غیر ضروری قرار دے کر ترک کرنے پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا، عدالت نے واضح کیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265-A کے تحت سرکاری پراسیکیوٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیشن کورٹ میں پولیس رپورٹ پر قائم مقدمے کی پیروی کرے، جبکہ دفعہ 493 کے تحت نجی وکیل صرف سرکاری پراسیکیوٹر کی معاونت کر سکتا ہے اور استغاثہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری پراسیکیوٹر کی جانب سے نجی وکیل کی ہدایات پر اہم گواہ کو ترک کرنا قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو ہدایت کی کہ صوبے بھر کے سرکاری پراسیکیوٹرز کی خودمختاری یقینی بنانے کے لیے جامع رہنما اصول جاری کیے جائیں، عدالت نے متعلقہ پراسیکیوٹر اور ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کے خلاف غفلت اور فرائض میں کوتاہی پر سخت محکمانہ کارروائی شروع کرنے کا بھی حکم دیا اور فیصلے کی نقل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو بھجوانے کی ہدایت کی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی بھی ملزم کو سزا دینے کے لیے قابل اعتماد اور شک و شبہ سے بالاتر شواہد ضروری ہیں، جرم ثابت کرنے کی ذمہ داری مکمل طور پر استغاثہ پر عائد ہوتی ہے اور مقدمے میں معقول شک موجود ہونے کی صورت میں اس کا فائدہ ملزم کو دینا قانونی حق ہے، کوئی رعایت نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے سلمان احمد سلیمان کی فوجداری اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی تمام سزائیں کالعدم قرار دے دیں اور ملزم کو مقدمے سے بری کرنے کا حکم جاری کر دیا، عدالت نے ہدایت کی کہ اگر ملزم کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔