یورپ پہنچنے کی خواہش: آذربائیجان انسانی سمگلروں کا نیا روٹ بن گیا

یورپ پہنچنے کی خواہش: آذربائیجان انسانی سمگلروں کا نیا روٹ بن گیا

دستاویزات کے مطابق انسانی سمگلر شہریوں کو یہ لالچ دیتے ہیں کہ پہلے آذربائیجان کی سیر کریں، پھر وہاں سے ڈنکی کے ذریعے یورپ پہنچ کر مستقل سکونت اختیار کی جا سکتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں ایک لاکھ 66 ہزار 634 پاکستانی آذربائیجان گئے۔

دستاویزات کے مطابق 2024 میں 44 ہزار 943 پاکستانی آذربائیجان گئے، جن میں سے 2 ہزار 676 افراد واپس نہیں آئے۔

2025 کے دوران 47 ہزار 491 افراد نے آذربائیجان کا سفر کیا جبکہ 2 ہزار 495 افراد وطن واپس نہیں لوٹے۔

اسی طرح 2026 کے پہلے پانچ ماہ میں 14 ہزار 200 پاکستانی آذربائیجان گئے، تاہم ان میں سے 2 ہزار 550 افراد کی واپسی ریکارڈ پر نہیں آئی، جس سے انسانی سمگلنگ کے نئے روٹ کے استعمال کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔