خلاصہ
- واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئے امریکی حملوں سے کانگریس کو آگاہ کرتے ہوئے کارروائی کو محدود اور ضروری قرار دے دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ طور پر کانگریس کو مطلع کر دیا ہے کہ امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے ایران کے خلاف فضائی حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔
کانگریس کو بھیجے گئے خط میں ٹرمپ نے بتایا کہ یہ حملے 7 جولائی سے شروع ہوئے، یہ فوجی کارروائی امریکی شہریوں اور امریکا کے مفادات کے تحفظ کی اپنی آئینی ذمہ داری کے مطابق کی جا رہی ہے، چاہے وہ ملک کے اندر ہوں یا بیرونِ ملک۔
خط میں کہا گیا کہ حالیہ حملے محدود، متوازن، پیشگی منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے، اور اس انداز میں انجام دیے گئے کہ شہری ہلاکتوں کو کم سے کم رکھا جا سکے۔
1973 کے وار پاورز ریزولوشن کے تحت امریکی صدر پر لازم ہے کہ وہ کسی بھی فوجی کارروائی کے آغاز کے 48 گھنٹوں کے اندر کانگریس کو آگاہ کریں، اس قانون کے مطابق اگر کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی کارروائی شروع کی جائے تو اسے 60 روز کے اندر ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکا نے 28 فروری کو ایران کے خلاف حملے شروع کیے تھے اور اپریل میں دونوں ممالک جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے، تاہم اس کے بعد بھی دونوں جانب سے جوابی کارروائیاں جاری رہیں، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی برقرار رکھی۔
فوجی کارروائی کے پہلے 60 روز یکم مئی کو مکمل ہوئے، لیکن صدر ٹرمپ نے کانگریس سے منظوری حاصل نہیں کی، ان کا مؤقف تھا کہ جنگ بندی کی وجہ سے اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔
بعد ازاں کانگریس کے دونوں ایوانوں نے وار پاورز ریزولوشن منظور کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو ہدایت کی کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلایا جائے۔