عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ چین کرے گا: امریکی میڈیا

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ چین کرے گا: امریکی میڈیا

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھولنے اور تیل کی ترسیل بحال کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں، لیکن عالمی تیل مارکیٹ کا اگلا رخ چین کے فیصلے طے کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران میں جنگ کے باعث روزانہ 1 کروڑ 10 لاکھ بیرل سے زائد تیل کی سپلائی متاثر ہوئی، تاہم اس کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں وہ بڑا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا جس کی کئی ماہرین نے پیش گوئی کی تھی، بعض تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ تحقیقی ادارے ایمبر کے ماہر دان والٹر کا کہنا ہے کہ چین نے ایشیا اور عالمی معیشت کو بڑے جھٹکے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق چین نے تیل کی درآمدات کم کر کے، اپنے بڑے ذخائر استعمال کر کے اور صاف توانائی کے استعمال میں اضافہ کر کے اندرونِ ملک قیمتوں کے دباؤ کو کافی حد تک کم کیا، یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں بھی قیمتیں نسبتاً قابو میں رہیں۔

گزشتہ روز برینٹ خام تیل کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل سے نیچے آئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی معمول کی تجارت جلد بحال ہو جائے گی۔

جنگ سے قبل برینٹ خام تیل 70 ڈالر فی بیرل سے کم سطح پر تھا، جبکہ مئی کے آغاز میں یہ 114 ڈالر فی بیرل کی چار سالہ بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا۔

فرانسیسی بینک سوسائٹی جنرل کے تجزیہ کاروں نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ سن 1973 میں عرب ممالک کی جانب سے تیل کی پابندی کے دوران عالمی سپلائی میں صرف 7 فیصد کمی آئی تھی، لیکن اس سے قیمتوں میں 134 فیصد اضافہ ہوا تھا، اس کے برعکس ایران جنگ کے دوران عالمی سپلائی کا تقریباً 14 فیصد متاثر ہونے کے باوجود قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ نہیں دیکھا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ چین ہے، جسے انہوں نے مارکیٹ کو متوازن رکھنے والا غیر مرئی ہاتھ قرار دیا۔ چین نے اپنی تیل کی درآمدات تقریباً 30 لاکھ بیرل یومیہ کم کر دیں، جو جاپان کی مجموعی یومیہ طلب کے قریب ہے۔

ریسٹاڈ انرجی کے نائب صدر جانیو شاہ کے مطابق چین نے جنگ سے پہلے ہی روس اور ایران سے نسبتاً سستا تیل خرید کر بڑے ذخائر قائم کر لیے تھے، چین ماضی میں قیمتوں کو سہارا دیتا رہا، لیکن اس سال صورتحال مختلف رہی۔

ماہرین کے مطابق چین کے پاس اس وقت تجارتی اور اسٹریٹجک ذخائر میں ایک ارب بیرل سے زائد تیل موجود ہے، جن کا استعمال مئی سے شروع کیا جا چکا ہے، اس کے علاوہ چینی حکومت نے ڈیزل اور پیٹرول جیسی مصنوعات کی برآمدات بھی محدود کر دیں تاکہ ملکی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

دوسری جانب چین میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت نے بھی تیل کی طلب کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، چین میں فروخت ہونے والی ہر دو نئی گاڑیوں میں سے ایک نئی توانائی پر چلنے والی گاڑی ہوتی ہے، بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اندازے کے مطابق گزشتہ سال صرف الیکٹرک گاڑیوں کی وجہ سے چین میں روزانہ تقریباً 10 لاکھ بیرل تیل کی بچت ہوئی۔

لانٹاؤ گروپ کے توانائی ماہر ڈیوڈ فشمین نے کہا کہ یہ عالمی تیل مارکیٹ کے لیے ایک بہترین حفاظتی والو ثابت ہوا ہے، تاہم ماہرین نے ایک جانب خبر دار کیا ہے کہ چین ہمیشہ اپنے ذخائر پر انحصار نہیں کر سکتا، اگر ذخائر کم ہو گئے تو اسے دوبارہ عالمی منڈی سے بڑی مقدار میں تیل خریدنا پڑ سکتا ہے، جس سے قیمتوں پر دوبارہ دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ادھر بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز جلد کھل گئی تو اگلے سال تیل کی سپلائی طلب سے زیادہ ہو سکتی ہے، ادارے کے مطابق 2027 میں تیل کی سپلائی طلب کے مقابلے میں روزانہ تقریباً 47 لاکھ بیرل زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں پیداوار دوبارہ معمول پر آ جائے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ صورتحال ممالک کو اپنے ختم ہوتے ذخائر دوبارہ بھرنے اور نئی توانائی پالیسیوں پر غور کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔

بیجنگ میں قائم کنسلٹینسی ٹریویئم چائنا کے تجزیہ کار کوسیمو ریز کے مطابق بجلی پر منتقلی کی رفتار مزید تیز ہو رہی ہے اور یہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے اہم موقع ثابت ہو سکتی ہے۔

کپلر کی سینئر تجزیہ کار میویو شو کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز تیزی سے کھل گئی تو اگلے ہی ماہ تقریباً 10 کروڑ بیرل تیل دوبارہ عالمی مارکیٹ میں آ سکتا ہے، ایران بھی پابندیاں نرم ہونے کی صورت میں اپنی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کرے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی ممالک پہلے ہی موسمِ گرما کی ضروریات کے لیے تیل خرید چکے ہیں، اس لیے اضافی سپلائی کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھنے والا سب سے اہم ملک ایک بار پھر چین ہی ہو سکتا ہے۔