سعودی امریکا جوہری معاہدے میں اسرائیل سے تعلقات کی شرط کی تردید

سعودی امریکا جوہری معاہدے میں اسرائیل سے تعلقات کی شرط کی تردید

سعودی عرب اور امریکا نے جمعرات کو پُرامن جوہری تعاون کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے 123 معاہدہ کہا جاتا ہے، اس کے ساتھ دوطرفہ حفاظتی اقدامات سے متعلق ایک معاہدہ بھی طے پایا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ذرائع نے الشرق بلومبرگ کو بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے حوالے سے سعودی عرب کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور ریاض اب بھی اس واضح سیاسی راستے پر کاربند ہے، جس کا اختتام فلسطینی ریاست کے قیام پر ہو۔

یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر کی گئی اس پوسٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جوہری معاہدے کی منظوری مکمل طور پر اس بات سے منسلک ہے کہ سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو۔

ابراہم معاہدے کے تحت مسلم اکثریتی ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرتے ہیں، یہ معاہدہ 2020 میں صدر ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں سامنے آیا تھا، جب متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کیا، بعد میں مراکش اور سوڈان نے بھی تعلقات معمول پر لانے کی جانب پیش رفت کی، تب سے واشنگٹن مزید ممالک کو اس معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔

الشرق بلومبرگ کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے جوڑنے کا اعلان سعودی عرب کے ساتھ پیشگی مشاورت کے بغیر کیا گیا اور ریاض کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ اس طرح کا تعلق قائم کرنے کی تجویز پیش کریں گے۔