خلاصہ
- اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ توقع سے زیادہ تیزی پکڑتا دکھائی دے رہا ہے، ملکی سیاست میں بڑا ارتعاش پیدا ہو چکا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کھل کر سامنے آ چکی ہے جس نے سندھ میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے خیال کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
سندھ اسمبلی سے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت میں قرار داد منظور ہو چکی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی بھرپور مزاحمت کے موڈ میں نظر آرہی ہے کہ اس معاملے پر انہیں جو بھی سیاسی نقصان اٹھانا پڑے وہ اٹھانے کیلئے تیار ہیں مگر سندھ میں چھوٹے انتظامی یونٹس یا صوبے نہیں بننے دیں گے اور کراچی کو وفاق کے زیر انتظام لانے جیسی کسی تجویز کو بھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ اس کے بغیر یہ سب عملی طور پر نا ممکن ہے کیونکہ اسے شامل کئے بغیر حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت نہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ وفاقی وزرا نئے صوبوں کے حق میں بیانات اور تجاویز دے رہے ہیں مگر( ن) لیگ میں ایک اہم دھڑا نئے یونٹس کے قیام کے حق میں نہیں، وہ صرف اس لئے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے کہ اس معاملے کا سارا بوجھ فی الحال پاکستان پیپلز پارٹی برداشت کر نے کیلئے تیار نظر آتی۔
نئے صوبوں کے قیام کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کا کردار اہم اور فیصلہ کن کیوں ہے؟ آئین کے آرٹیکل 239 چار کے مطابق ایسا کوئی بل جو آئین میں ترمیم کرے اور جس کے نتیجے میں کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی واقع ہوتی ہو، صدرِ مملکت کی منظوری کیلئ اس وقت تک پیش نہیں کیا جا سکتا جب تک صوبائی اسمبلی اپنی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی اراکین کے ووٹوں سے اسے منظور نہ کر لے۔ یعنی کسی بھی صوبے کی حدود میں تبدیلی کیلئے اس صوبے کی اسمبلی سے دوتہائی اکثریت سے قرار داد منظور کرانا لازم ہے۔
پارلیمنٹ میں اگر پی ٹی آئی اور دیگر جماعتیں بھی صوبوں کے قیام کیلئے کردار ادا کریں اور دو تہائی اکثریت پوری کر لی جائے تب بھی سندھ اسمبلی میں دو تہائی اکثریت درکار ہے، دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی کھل کر اعلان کر رہے ہیں کہ نئے انتظامی یونٹس تو بن کر رہیں گے، انہیں کوئی ادارہ، فرد یا نمائندہ روک نہیں سکتا، محسن نقوی کا یہ کہنا گورننس کو بہتر بنانے کیلئے ریاستی ترجیحات کو واضح کر رہا ہے۔
ایسے میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کھل کر مخالفت کر رہی ہے تو پھر ریاستی ترجیحات کا کیا ہوگا؟ اس کا فیصلہ اب عوام کریں گے، اس بات کا قوی امکان ہے کہ جلد ہی ریفرنڈم کے ذریعے عوام سے رائے مانگی جائے، اس ریفرنڈم کا نتیجہ جو بھی آئے آئینی طور پر یہ حکومت یا پارلیمنٹ پر لازم تو نہیں کہ وہ اس پر ہر صورت عمل کرے، مگر جب عوام گورننس کے موجودہ نظام سے متعلق فیصلہ دیں گے تو سیاسی جماعتوں کیلئے اس معاملے سے صرفِ نظر ممکن نہیں ہوگا۔
آئین کے آرٹیکل 48 چھ کے مطابق اگر کسی بھی وقت وزیرِاعظم یہ سمجھیں کہ قومی اہمیت کے کسی معاملے پر ریفرنڈم کرانا ضروری ہے تو وہ اس معاملے کو مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کر سکتے ہیں، اگر مشترکہ اجلاس اس کی منظوری دے دے تو وزیرِاعظم اس معاملے کو ریفرنڈم کیلئے ایسے سوال کی صورت میں عوام کے سامنے پیش کر سکتے ہیں جس کا جواب صرف ’’ہاں‘‘یا ’’نہیں‘‘ میں دیا جا سکے، یہ ریفرنڈم کروانے کیلئے حکومت کو دو تہائی ووٹوں کی اکثریت درکار نہیں ہے۔
اگرچہ ماضی میں ہونے والے ریفرنڈمز متنازع رہے اور ان کے نتائج 95 فیصد سے زائد ہی رہے مگر اس مرتبہ اگر حقیقی عوامی رائے جاننے کی کوشش کی جائے تو صورتحال ماضی جیسی متنازع نہیں ہوگی کیونکہ اس مرتبہ معاملہ براہ راست عوام کا اپنا ہے، پاکستانی رائے دہندگان کو یہ بتانا ہوگا کہ کیا وہ گورننس کے موجودہ نظام سے مطمئن ہیں؟ کیا وہ گورننس کا موجودہ نظام ہی چلتا رہنے پر خوش ہیں؟ کیا وہ گورننس کے موجودہ نظام میں تبدیلی کے خواہاں ہیں؟ تو بنیادی طور پر اب عوام نے اپنی قسمت کا فیصلہ کرنا ہے، فیصلہ اگر نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حق میں آیا تو پاکستان پیپلز پارٹی کیلئے یہ عوامی دباؤ برداشت کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اسلام آباد میں نئے انتظامی یونٹ کے قیام کی سفارشات مرتب کر لی ہیں، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں 12 رکنی کمیٹی نے مشاورتی سیشن کے بعد سفارشات تیار کی ہیں، جو نیا انتظامی ماڈل تیار کیا گیا ہے اس میں 27 رکنی اسمبلی قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اسلام آباد کے چیف ایگزیکٹو کیلئے وزیراعلیٰ یا میئر کا عہدہ رکھنے کی تجویز ہے، شہر کے 27 انتظامی محکمے اسلام آباد حکومت کے ماتحت رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، نئے پلان میں تجویز کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کی حدود میں بنیادی سہولیات اور انتظامی ڈھانچے کو چلانے کیلئے مقامی سطح سے ریونیو اکٹھا کیا جائے گا جو اسلام آباد کی حدود میں ہی خرچ ہوگا، اسلام آباد کے ہسپتالوں، سکولز، کالجز او دیگر تعلیمی اداروں اور فلاحی کاموں پر خرچ کرنے کیلئے ٹیکس اکٹھا کیا جائے گا اور یہ ٹیکس آئندہ مالی سال کے بجٹ میں متعارف کروایا جا سکتا ہے۔
یہ تجاویز آئی ایم ایف وفد کے ساتھ بھی شیئر کی جائیں گی، وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ قومی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کیلئے انسانی وسائل اور سماجی شعبوں میں نہایت تیز رفتاری سے کمزوریوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
اس حوالے سے ملک کے پاس دو آپشن ہیں، پہلا آپشن 160 اضلاع میں با اختیار مقامی حکومتیں قائم کرنا جنہیں صوبائی فنانس کمیشن سے براہ راست وسائل فراہم ہوں، یا پھر اتفاق رائے سے 12 یا 15 نئے صوبوں کا قیام ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال سمیت شہباز شریف کابینہ کے کئی اراکین نئے یونٹس کے حق میں بیانات اور تجاویز دے رہے ہیں مگر (ن) لیگ کا ایک اہم دھڑا ابھی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے، مگر جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے، اس خاموشی کو توڑنا ہی ہوگا کیونکہ عوام سے جڑے اس اہم ترین معاملے میں عوام کی آواز شامل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔