خلاصہ
- لاہور: (محمد علی) ہر سال 8 ستمبر کو عالمی یومِ خواندگی (International Literacy Day) منایا جاتا ہے، اس دن کا مقصد دنیا کو یہ یاد دلانا ہے کہ پڑھنے لکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت محض ایک تعلیمی ہنر نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔
یونیسکو کے مطابق خواندگی انسان کو اپنے حقوق سمجھنے، بہتر فیصلے کرنے، معاشی مواقع حاصل کرنے اور معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے، عالمی یومِ خواندگی کا آغاز 1967ء میں ہوا اور رواں سال اس دن کی 60 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔
اس سال دنیا بھر میں خواندگی کو بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے، آج صرف حروف پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ انسان کیلئے معلومات کو سمجھنا، درست اور غلط خبر میں فرق کرنا، ڈیجیٹل ذرائع کا ذمہ دارانہ استعمال اور بنیادی حساب کتاب جاننا بھی ضروری ہو چکا ہے۔
پاکستان میں خواندگی کی صورتحال
پاکستان کیلئے عالمی یومِ خواندگی محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ ایک اہم قومی یاد دہانی ہے، ملک نے گزشتہ برسوں میں خواندگی کے میدان میں کچھ پیشرفت ضرور کی ہے تاہم مجموعی صورتحال اب بھی حالات تشویش کا باعث ہیں۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق 10 سال یا اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں پاکستان کی شرحِ خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی ہے، مردوں میں شرحِ خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین میں 54 فیصد ہے، اس کا مطلب ہے کہ تعلیمی مواقع میں صنفی فرق اب بھی واضح ہے، شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان بھی نمایاں فرق موجود ہے، شہری علاقوں میں شرحِ خواندگی 74 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 55 فیصد ہے۔ خواتین کے معاملے میں یہ فرق مزید نمایاں ہو جاتا ہے، شہری خواتین میں خواندگی 68 فیصد ہے جبکہ دیہی خواتین میں یہ شرح تقریباً 44 فیصد ہے۔صوبائی سطح پر بھی صورتحال یکساں نہیں۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب تقریباً 68 فیصد شرحِ خواندگی کے ساتھ سب سے آگے ہے، سندھ اور خیبر پختونخوا تقریباً 58 فیصد کے قریب ہیں جبکہ بلوچستان تقریباً 49 فیصد کے ساتھ سب سے پیچھے ہے۔
لڑکیوں کی تعلیم اور دیہی علاقوں کے چیلنجز
پاکستان میں خواندگی کے فروغ کی سب سے بڑی ضرورت دیہی علاقوں اور خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے محسوس ہوتی ہے، غربت، سکولوں کا دور ہونا، محفوظ سفری سہولیات کی کمی، اساتذہ کی کمی، کمزور تعلیمی انفراسٹرکچر اور بعض علاقوں میں سماجی رکاوٹیں بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی اہم وجوہات ہیں۔
لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینا صرف صنفی مساوات کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کا مسئلہ ہے، ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی صحت، صفائی، تعلیم اور مستقبل کے بارے میں زیادہ بہتر فیصلے کر سکتی ہے اس لیے خواتین کی خواندگی میں اضافہ اگلی نسل کی تعلیم پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے،پاکستان میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
اکنامک سروے 26-2025 کے مطابق پانچ سے 16 سال کی عمر کے سکول سے باہر بچوں کا تناسب 2023 ء کے 38 فیصد سے کم ہو کر 2025ء میں 28 فیصد رہ گیا، تاہم یہ صورتحال اب بھی تشویش کا باعث ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر ڈھائی کروڑ بچے اب بھی سکولوں سے باہر ہیں اور اس حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان دوسرے نمبر پر ہے، اس لیے صرف نئے سکول بنانے، بچوں کو سکول تک لانے، انہیں سکول میں برقرار رکھنے اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کا کڑا چیلنج درپیش ہے۔
خواندگی کی نئی توجیہات
موجودہ دور میں خواندگی کا تصور روایتی پڑھنے لکھنے سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے، ایک شخص اگر اپنا نام لکھ سکتا ہے لیکن کسی بینک فارم، دوا کی ہدایت، سرکاری دستاویز یا آن لائن معلومات کو سمجھنے سے قاصر ہے تو اس کی عملی خواندگی محدود ہے، پاکستان جیسے ملک میں صحت، مالیات اور ڈیجیٹل خواندگی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے، موبائل فون اور انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال نے معلومات تک رسائی آسان تو کی ہے لیکن غلط معلومات، جعلی خبروں اور آن لائن فراڈ کے خطرات بھی بڑھا دیئے ہیں لہٰذا نئی نسل کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ وہ معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت اور درستگی کو جانچ سکے۔
کیا کرنا ہوگا؟
پاکستان میں خواندگی بڑھانے کیلئے سب سے پہلے تعلیم کو قومی ترجیح بنانا ہوگا، حکومت کو سرکاری سکولوں کے معیار، اساتذہ کی تربیت، نصاب، بنیادی سہولیات اور سکولوں تک رسائی پر مسلسل سرمایہ کاری کرنا ہوگی، دیہی علاقوں میں بالخصوص لڑکیوں کیلئے قریبی سکول، محفوظ ٹرانسپورٹ، وظائف اور والدین کی حوصلہ افزائی مؤثر اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں، جو بچے کسی وجہ سے رسمی سکول کا حصہ نہیں بن سکے ان کے لیے بالغ خواندگی مراکز، غیر رسمی تعلیم اور کمیونٹی لرننگ پروگراموں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔
عالمی یومِ خواندگی ہمیں یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے میدان میں پیش رفت کو تیز کیسے کیا جائے، ایک ایسا پاکستان جہاں ہر بچہ سکول جائے، ہر نوجوان کو معیاری تعلیم اور ہنر حاصل کرنے کا موقع ملے، ہر عورت پڑھ لکھ سکے اور ہر شہری جدید معلومات کو سمجھ کر اپنے فیصلے کر سکے، صرف ایک تعلیمی خواب نہیں بلکہ مضبوط، خوشحال اور بااختیار معاشرے کی بنیاد ہے۔