عالمی یومِ جمہوریت

عالمی یومِ جمہوریت

اقتدار قانون کا پابند ہوتا ہے، اختلافِ رائے کو برداشت کیا جاتا ہے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، جمہوریت کی بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ ریاست عوام کیلئے ہے اور اقتدار عوام کی مرضی اور رضامندی سے چلنا چاہیے، جمہوری نظام میں حکمران عوام کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں اور انہیں یہ اختیار مستقل طور پر حاصل نہیں ہوتا کہ وہ اپنی مرضی کو عوام پر مسلط کریں۔

انتخابات عوام کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنی پسند کے نمائندے منتخب کریں جبکہ آزاد عدلیہ، پارلیمنٹ، آزاد میڈیا، مضبوط بلدیاتی ادارے اور فعال سول سوسائٹی اس نظام کو توازن فراہم کرتے ہیں۔

15 ستمبر کی تاریخ کیوں اہم ہے؟

عالمی یومِ جمہوریت کی بنیاد 1997ء میں پڑی جب بین الپارلیمانی یونین (Inter-Parliamentary Union) نے جمہوریت کے عالمی اصولوں سے متعلق اعلامیہ منظور کیا، بعد ازاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 8 نومبر 2007ء کو ایک قرارداد کے ذریعے ہر سال 15 ستمبر کو عالمی یومِ جمہوریت منانے کا فیصلہ کیا۔

15 ستمبر 2008ء کو یہ دن پہلی مرتبہ عالمی سطح پر منایا گیا،اس دن کا مقصد دنیا کو یہ احساس دلانا ہے کہ جمہوریت کوئی ایسی منزل نہیں جسے ایک مرتبہ حاصل کر لینے کے بعد ہمیشہ کیلئے محفوظ سمجھ لیا جائے، جمہوری اداروں کو مسلسل مضبوط کرنا پڑتا ہے، شہری آزادیوں کا تحفظ کرنا پڑتا ہے اور اقتدار کے استعمال کو آئین اور قانون کے دائرے میں رکھنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر سال عالمی یومِ جمہوریت کسی نہ کسی اہم جمہوری قدر کی طرف عالمی توجہ مبذول کراتا ہے۔

پاکستان کیلئے اہمیت

پاکستان کیلئے جمہوریت کی اہمیت محض سیاسی نہیں بلکہ قومی استحکام سے بھی جڑی ہوئی ہے، پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور سیاسی خیالات رکھنے والے کروڑوں شہریوں کا ملک ہے، ایسے متنوع معاشرے کو مستحکم رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہر شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کی آواز سنی جا سکتی ہے، اس کے ووٹ کی قدر ہے اور اس کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں۔

پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، حکومتوں کی قبل از وقت تبدیلی، اداروں کے درمیان کشمکش، انتخابی تنازعات اور سیاسی تقسیم نے جمہوری نظام کو کئی مرتبہ مشکلات سے دوچار کیا تاہم اس کے باوجود پاکستان میں جمہوریت کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوئی، لیکن یہاں ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ صرف انتخابات کا انعقاد ہی جمہوریت کی ضمانت ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے، انتخابات جمہوریت کا ایک اہم ستون ضرور ہیں لیکن مکمل جمہوریت اس سے کہیں وسیع تصور ہے۔

اگر انتخابات تو ہوں لیکن سیاسی مخالفین کو پرامن سیاسی سرگرمی کا حق حاصل نہ ہو، اظہارِ رائے محدود ہو، ادارے کمزور ہوں، قانون سب کے لیے یکساں نہ ہو یا عوامی نمائندے اپنی ذمہ داریوں کیلئے جواب دہ نہ ہوں تو جمہوریت کا مقصد پورا نہیں ہوتا، حقیقی جمہوریت میں اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، حکومت اور اپوزیشن ریاستی نظام کے اہم حصے ہوتے ہیں، اپوزیشن کا کام صرف حکومت کی مخالفت کرنا نہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں پر نظر رکھنا اور متبادل تجاویز پیش کرنا بھی ہے۔

اسی طرح حکومت کو بھی تنقید کو ریاست دشمنی یا ذاتی دشمنی کے بجائے جمہوری عمل کا لازمی حصہ سمجھنا چاہیے، پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کیلئے سیاسی جماعتوں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے، جمہوری جماعتیں صرف انتخابات کے دوران فعال نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ان کے اندر بھی جمہوری رویے فروغ پانے چاہئیں، قیادت کا انتخاب، پالیسی سازی، کارکنوں کی تربیت اور فیصلوں میں مشاورت ایسے عوامل ہیں جو سیاسی جماعتوں کو مضبوط بناتے ہیں۔

اگر سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری کلچر کمزور ہو تو پارلیمانی جمہوریت بھی مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں ہو سکتی، اسی طرح مقامی حکومتیں جمہوریت کی نرسری کی حیثیت رکھتی ہیں، عام شہری کا ریاست سے سب سے براہِ راست تعلق اپنے محلے، یونین کونسل، شہر یا ضلع کے مسائل کے ذریعے ہوتا ہے، صاف پانی، صفائی، سڑکیں، نکاسی آب، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل مقامی سطح پر بہتر طور پر حل کیے جا سکتے ہیں۔

بااختیار اور باقاعدگی سے منتخب بلدیاتی ادارے شہریوں کو عملی طور پر جمہوریت کا تجربہ فراہم کرتے ہیں، پاکستان کیلئے اس دن کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جمہوریت کو محض ایک سیاسی نعرہ بنانے کے بجائے ایک مستقل طرزِ حکمرانی اور معاشرتی رویے کے طور پر اپنانا ہوگا۔

15ستمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت صرف اقتدار حاصل کرنے کا طریقہ نہیں یہ اقتدار کو عوام کے سامنے جوابدہ رکھنے کا نظام ہے، پاکستان کا جمہوری مستقبل اسی وقت مضبوط ہوگا جب سیاسی اختلاف کو برداشت، آئین کو بالادست، قانون کو یکساں اور عوام کو ریاستی نظام کا حقیقی مرکز تسلیم کیا جائے۔