قائمہ کمیٹی کی سانحہ پمز کے ذمہ داروں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش

قائمہ کمیٹی کی سانحہ پمز کے ذمہ داروں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش

کمیٹی نے 24 گھنٹے کے اندر ایف آئی آر کے اندراج کی ہدایت بھی کردی، ارکان نے تحقیقات کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی صدارت میں ہوا، ثمینہ ممتاز زہری بولیں وزیراعظم نے 8 افسران کیخلاف ایف آئی آرز کے اندراج کا کہا تھا، ابھی تک مقدمات کا اندراج کیوں نہیں ہوا؟

ایڈیشنل سیکرٹری صحت نے کہا وزارت داخلہ کو کہا ہوا ہے مگر ابھی جواب نہیں آیا، سینیٹر آغا شاہ زیب درانی کا کہنا تھا وزارت صحت مدعی ہے، وزارت داخلہ کو کیوں کہہ رہے ہیں، خود مدعی بنیں اور جاکر ایف آئی آر درج کروائیں۔

سینیٹر احسن مسرور نے جاں بحق بچوں کی میتوں کی حوالگی اور ڈی این اے ٹیسٹ کے متعلق سوالات کئے، کہاں اس حوالے سے چیزیں چھپائی جارہی ہیں۔

اجلاس میں افغان طلبہ کو پی ایم ڈی سی کے نوٹس کا معاملہ بھی زیربحث آیا، وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا جن لوگوں کے پاس دستاویزات نہیں، انہیں بھیجا جا رہا ہے۔

سینیٹر ثمینہ ممتاز نے کہا بچے تین سال سے پڑھ رہے تھے، اس وقت دستاویزات کا پتہ نہیں چلا، سینیٹر احسن مسرور نے کہا طلبہ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنی پڑھائی مکمل کرکے واپس بھیج دیا جائے۔