ملک کا تجارتی خسارہ 39.5 ارب ڈالر کی تشویشناک سطح پر پہنچ گیا ہے: ایس ایم تنویر

ملک کا تجارتی خسارہ 39.5 ارب ڈالر کی تشویشناک سطح پر پہنچ گیا ہے: ایس ایم تنویر

ایس ایم تنویر کے مطابق ملکی درآمدات میں 8 فیصد اضافہ جبکہ برآمدات میں 6 فیصد کمی نہایت تشویشناک ہے، قرض لے کر آنے والی سرمایہ کاری یا ترسیلاتِ زر کے ذریعے معاشی خودمختاری حاصل نہیں کی جا سکتی، بلکہ ملکی معیشت کی پائیدار بحالی صرف برآمدات میں اضافے سے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی بلند لاگت پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں غیر مسابقتی بنا رہی ہے، اس لیے حکومت علاقائی ممالک کے برابر مسابقتی بجلی ٹیرف نافذ کرے تاکہ برآمدی شعبہ عالمی منڈی میں مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔

ایس ایم تنویر نے مزید کہا کہ حد سے زیادہ شرحِ سود نے صنعتی و معاشی ترقی کا عمل تقریباً روک دیا ہے اور صنعت کار قرض لینے کے متحمل نہیں رہے، اسٹیٹ بینک سے پالیسی ریٹ میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور وزیر خزانہ طویل المدتی معاشی اصلاحات پر توجہ دیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر لائحہ عمل مرتب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔