خلاصہ
- لاہور: (ویب ڈیسک) سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ ہے، یہ 19 ستمبر 1960 کو کراچی میں طے پایا، اس معاہدے پر پاکستان کے صدر محمد ایوب خان، بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو اور ورلڈ بینک کے نمائندے نے دستخط کیے، ورلڈ بینک نے اس معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔
1947 میں تقسیمِ ہند کے بعد دریاؤں کے پانی کے استعمال پر پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے، چونکہ کئی دریا بھارت سے نکل کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، اس لیے پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے ایک مستقل معاہدے کی ضرورت محسوس ہوئی، تقریباً نو سال کے مذاکرات کے بعد سندھ طاس معاہدہ وجود میں آیا۔
معاہدے کے تحت دریاؤں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، مشرقی دریا بھارت کے لیے مختص کیے گئے جو دریائے راوی، بیاس اور ستلج ہیں۔
مغربی دریاؤں پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا جو دریائے سندھ، جہلم اور چناب ہیں۔
اس معاہدے کے مطابق پاکستان کو مغربی دریاؤں کے پانی پر بنیادی حق دیا گیا، جبکہ بھارت کو مشرقی دریاؤں کا استعمال دیا گیا، البتہ بھارت کو مغربی دریاؤں پر محدود نوعیت کے استعمال، جیسے پن بجلی کی پیداوار اور کچھ زرعی مقاصد، کی اجازت مخصوص شرائط کے تحت دی گئی۔
پاکستان کی تقریباً 80 فیصد زرعی آبپاشی کا انحصار اسی دریائی نظام پر ہے، یہ معاہدہ دنیا کے کامیاب بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگوں اور سیاسی کشیدگی کے باوجود کئی دہائیوں تک یہ معاہدہ برقرار رہا، لیکن پچھلے سال بھارت نے اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا۔
پاکستان نے وقتاً فوقتاً بھارت کے بعض ڈیموں اور پن بجلی منصوبوں پر اعتراضات کیے، جبکہ بھارت کا مؤقف رہا کہ یہ منصوبے معاہدے کے دائرے میں ہیں، ایسے اختلافات کے حل کے لیے معاہدے میں مستقل انڈس کمیشن اور دیگر تنازعات کے حل کا طریقہ کار بھی موجود ہے۔
اپریل 2025 میں کشمیر کے ایک حملے کے بعد بھارت نے اپنی معاہدے میں شرکت کو معطل کرنے کا اعلان کیا، پاکستان نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا، اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اختلافات جاری ہیں۔
بھارت کے دو وزراء بھی اعلان کر چکے ہیں کہ پانی کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہیں جانے دیا جائے گا اور اس سلسلہ میں کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا مسئلہ بین الاقوامی فورمز پر بھی اٹھایا ہے جہاں پاکستان کے اصولی مؤقف کی تائید کی گئی مگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف مشرقی دریاؤں کا پانی مکمل روک رہا ہے بلکہ وہ پاکستان کے حصے میں آئے مغربی دریاؤں کا پانی بھی روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان سندھ طاس معاہدے پر بھارت کی جانب سے خلاف ورزی کیے جانے پر دو بار ثالثی عدالت میں جا چکا ہے، عالمی ثالثی عدالت سندھ طاس معاہدے کی مکمل وضاحت بھی کر چکی ہے مگر بھارت تسلیم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ پانی کا بطور ہتھیار استعمال ایک جنگی اقدام سمجھا جائے گا کیوں کہ پانی پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے، کروڑوں زندگیوں کا انحصار دریائی پانی پر ہے، بین الاقوامی قانون کے تحت بھی کسی دریا کا پانی راستے میں روکا نہیں جا سکتا، پانی پر دریا کے زیریں علاقوں کا حق بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے۔