استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے

استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے

13 اکتوبر 1948ء کو فیصل آباد میں پیدا ہونے والے استاد نصرت فتح علی خان نے قوالی میں جدت اور جوش کا ایسا امتزاج پیدا کیا کہ روایتی فن عالمی موسیقی میں تبدیل ہوگیا، صوفیانہ کلام میں استاد نصرت فتح علی خان نے ایسے سُر بکھیرے کہ سننے والے ان کے سحر میں کھو گئے۔

استاد نصرت فتح علی خان کا فن صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا، بلکہ پورے برصغیر، لندن، پیرس، نیویارک اور ٹوکیو کے سٹیجز پر بھی ان کی قوالیوں نے سما باندھ دیا۔

گریمی ایوارڈ کی نامزدگی سے لے کر ورلڈ میوزک ایوارڈ تک ہر جگہ استاد نصرت فتح علی خان کی آواز نے سننے والوں پر اپنا جادو کر دکھایا۔

ایک ہزار سے زائد قوالیاں، فلمی گانے اور کلام ریکارڈ کرنے والے اس فنکار نے موسیقی کی ایسی وراثت چھوڑی جو آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ ہے۔