خلاصہ
- لاہور: (ویب ڈیسک) پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے مال روڈ پر نصب پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور سنسکرت کے ممتاز عالم پروفیسر الفریڈ کوپر وولنر کا کانسی کا مجسمہ برطانوی مجسمہ ساز گلبرٹ لیڈورڈ کا تخلیق کردہ ایک اہم فن پارہ ہے۔
برطانوی مجسمہ ساز گلبرٹ لیڈورڈ برطانیہ کے موقر پری ڈی روم وظیفے کے پہلے انعام یافتہ مجسمہ ساز تھے اور انہیں بیسویں صدی کے نمایاں برطانوی فنکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
الفریڈ کوپر وولنر 1903 میں محض 25 برس کی عمر میں لاہور پہنچے، جہاں انہوں نے اورینٹل کالج کے پرنسپل اور پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار کی ذمہ داریاں سنبھالیں، وہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے، ان کی لاہور آمد میں معروف مستشرق پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے اہم کردار ادا کیا، جو وولنر کی علمی صلاحیتوں کے معترف تھے۔
وولنر نے اپنی پوری عملی زندگی برصغیر میں گزاری اور جنوری 1936 میں ان کا انتقال ہوا، انہیں لاہور کے جیل روڈ پر واقع گورا قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا، ان کی وفات کے بعد پنجاب یونیورسٹی نے ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد عمارتوں اور مقامات کو ان کے نام سے منسوب کیا، جن میں وولنر ہال، وولنر ہاسٹل اور دیگر عمارتیں شامل ہیں۔

وائس چانسلر کی یاد میں مجسمہ نصب کرنے کی تجویز بھی اسی دوران سامنے آئی، ابتدا میں یونیورسٹی نے اس مقصد کے لیے محدود فنڈ مختص کرنے کا ارادہ کیا، تاہم وولنر کی اہلیہ میری ایمیلی بلینڈ نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے ذاتی خرچ پر ایک معیاری مجسمہ تیار کرانے کا فیصلہ کیا۔
میری ایمیلی نے رائل کالج آف آرٹ کے پروفیسر اور معروف مجسمہ ساز گلبرٹ لیڈورڈ سے رابطہ کیا، میری بلینڈ نے براہ راست ملاقاتوں اور لاہور کے نیڈوز ہوٹل سے خط و کتابت کے ذریعے مجسمے کی تیاری کے مراحل کی نگرانی کی، ان خطوط میں سے چند پنجاب یونیورسٹی کے آرکائیوز میں محفوظ ہیں، جبکہ باقی وقت گزرنے کے ساتھ ضائع ہو چکے ہیں۔
1888 میں پیدا ہونے والے گلبرٹ لیڈورڈ نے گولڈ اسمتھس کالج اور بعد ازاں رائل کالج آف آرٹ میں تعلیم حاصل کی، 1913 میں انہیں مجسمہ سازی کے شعبے میں برطانیہ کا پہلا پری ڈی روم سکالرشپ ملا، جس کے تحت انہوں نے اٹلی میں فنونِ لطیفہ کا مطالعہ کیا۔
پہلی عالمی جنگ کے بعد گلبرٹ نے برطانیہ میں متعدد جنگی یادگاریں تخلیق کیں، جن میں لندن، بلیک پول اور دیگر شہروں کی یادگاریں نمایاں ہیں، ان کی فنی خدمات پر انہیں رائل سوسائٹی آف برٹش سکلپٹرز کا اعلیٰ اعزاز بھی ملا، جبکہ بعد ازاں وہ اسی ادارے کے صدر بھی منتخب ہوئے، 1956 میں انہیں آرڈر آف دی برٹش ایمپائر سے بھی نوازا گیا۔

لیڈورڈ نے 1937 میں وولنر کے دو مجسمے تیار کیے، جن میں سے ایک برطانیہ میں محفوظ ہے، جبکہ دوسرا لاہور میں نصب کیا گیا، لاہور میں مجسمے کی نقاب کشائی یکم مارچ 1937 کو اس وقت کے گورنر پنجاب سر ہربرٹ ایمرسن نے کی، جبکہ اسے باضابطہ طور پر 28 مئی 1938 کو نصب کیا گیا۔
کانسی سے تیار کیا گیا یہ مجسمہ تقریباً آٹھ فٹ نو انچ بلند ہے اور اس میں وولنر کو ایک باوقار اور متین انداز میں دکھایا گیا ہے، جو ان کی علمی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے، یہ مجسمہ آج بھی لاہور کے تاریخی ورثے اور برطانوی دور کی فن تعمیر و مجسمہ سازی کی ایک اہم یادگار سمجھا جاتا ہے۔
پروفیسر وولنر کی اہلیہ میری ایمیلی بلینڈ کا انتقال 1944 میں برطانیہ میں ہوا، جبکہ گلبرٹ لیڈورڈ 1960 میں لندن میں وفات پا گئے، میری نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں ایک خط میں وولنر کے مجسمے کو اپنی نمایاں ترین کامیابیوں میں شمار کیا تھا۔