تازہ ترین
  • بریکنگ :- لاہورہائیکورٹ نےتحریری فیصلہ جاری کردیا
  • بریکنگ :- گورنرپنجاب یکم جولائی شام 4 بجےاجلاس بلائیں گے،فیصلہ
  • بریکنگ :- اجلاس میں دوبارہ گنتی ہوگی،لاہورہائیکورٹ کافیصلہ
  • بریکنگ :- تمام ادارےعدالتی احکامات کی پاسداری کرائیں گے،فیصلہ
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ کےانتخاب کاعمل مکمل کیےبغیراجلاس ملتوی نہیں ہوگا،فیصلہ
  • بریکنگ :- گورنرآرٹیکل 130 کی شق 5 کےتحت اپنےفرائض سرانجام دیں گے،فیصلہ
  • بریکنگ :- گورنرپنجاب نومنتخب وزیراعلیٰ سےحلف لیں گے،فیصلہ
  • بریکنگ :- گورنرانتخابی عمل سےاگلےروز 11 بجےتک حلف لینےکےپابندہوں گے،فیصلہ
  • بریکنگ :- گورنرپنجاب الیکشن کنڈکٹ سےمتعلق اپنی رائےنہیں دیں گے،فیصلہ

وزیراعظم کی نیشنل ڈائیلاگ کی آفر مسترد، وقت گزر چکا ہے: بلاول بھٹو زرداری

Published On 21 December,2020 04:13 pm

لاہور: (دنیا نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے نیشنل ڈائیلاگ کی آفر کو مستردکرتے ہوئے کہا کہ اس کا وقت گزر چکا ہے۔

لاہور میں پیپلز پاریٹ کے رہنما کے وفد کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے حکومت کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں چل رہے، ہم واضح پیغام دے چکے ہیں کہ مذاکرات کا وقت چلا گیا ہے اب بات اس وقت ہوگی جب یہ وزیراعظم یہ کٹھ پتلی جائے گا۔وزیراعظم کوپارلیمنٹ میں ڈبیٹ کا چیلنج دیا تھا بزدل بھاگ گیا تھا، وزیراعظم کا اسلام آباد ہفتے تک دھرنے کے چیلنج کا مطلب شکست مان رہا ہے،


ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو اندازہ نہیں ہے کہ لانگ مارچ ضرور ہوگا اور پی ڈی ایم فیصلہ کرے گی کہ کب اور کس طرح ہوگا۔ لانگ مارچ پی ڈی ایم کا کارڈ ہے، ہم اپنا کارڈ اپنی مرضی کے مطابق کھیلیں گے اور ضرور کھیلیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم لانگ مارچ کے لیے نکلیں گے تو غریب عوام کو ساتھ لے کر جائیں گے، جس میں بے روزگار لوگ بھی شامل ہوں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ عوام ادویات نہیں خرید سکتے، 2 وقت کی روٹی خریدنے سے قاصر ہیں، گیس، بجلی کے بلز نہیں بھر سکتے وہ بھی لانگ مارچ میں ہمارے ساتھ جائیں گے اور ہم عوام کی طاقت کے ساتھ اسلام آباد پہنچ کر ان سے استعفیٰ لے کر رہیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سیکرٹ بیلٹ ممبران کا آئینی حق ہے جسے مرضی ووٹ دیں، سیکرٹ بیلٹ پرہمارا موقف کلیئرہیں، 31دسمبرتک قیادت کے پاس استعفے جمع ہوجائیں گے۔ ہم نے یہ اعلان نہیں کیا استعفوں کوکب استعمال کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا اور پارلیمان میں آزادی نہیں ہے، شہبازشریف ملاقات کے بعد میڈیا میں غلط پروپگنڈا کیا گیا۔ یہ ملاقات والدہ کی تعزیت کے لیے تھی۔