تازہ ترین
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 7586 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 13لاکھ 67 ہزار 605 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 70 ہزار 263 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 20 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 29 ہزار 97 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 647 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 12 لاکھ 68 ہزار 245 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 58 ہزار 334 کوروناٹیسٹ کیےگئے
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 2 کروڑ 45 لاکھ 32 ہزار 952 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 1083 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 62 ہزار 323،سندھ میں 5 لاکھ 23 ہزار 774 کیسز
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 84 ہزار 455،بلوچستان میں 33 ہزار 910 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آبادایک لاکھ 17 ہزار 436،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 489 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 35 ہزار 218 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 13 فیصدرہی،این سی اوسی

پیپلزپارٹی کی بے اصولی قابل معافی نہیں، اس پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا: رانا ثناء اللہ

Published On 03 April,2021 10:38 am

لاہور: (دنیا نیوز) رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی سینیٹ کے معاملے پر اپنی غلطی تسلیم کرے، پیپلزپارٹی کی بے اصولی قابل معافی نہیں، اس پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔

 پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما راناثنا اللہ نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا کل کا فیصلہ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا، حکومت ووٹ چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی، ووٹ کی عزت کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، ملک میں آئین و قانون کی عملداری نہیں ہے، دھاندلی کا شور مچا کر آگے آنیوالے خود دھاندلی کی پیداوار ہیں۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ 20 پریذائیڈنگ آفیسرز کو نوکری سے برخاست کیا جائے، ڈسکہ الیکشن چرانے میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خود ملوث ہیں، ان کو نااہل قرار دیکر سزا دی جائے، ووٹ چوروں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم ووٹ چور، چینی چور، آٹا چور، ادویات چور کیخلاف جدوجہد جاری رکھے گی، پیپلزپارٹی نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کیلئے جو حمایت حاصل کی وہ غلط ہے، اگر اپوزیشن لیڈر لانا چاہتی ہے تو مطالبہ پی ڈی ایم اجلاس میں رکھے، پی پی اگر بے اصولی پر قائم رہی تو ساتھ چلنا مشکل ہوگا۔