پولیس رات گئے گھر میں داخل ہوئی، ملازمین پر تشدد کر کے زبردستی بیان ریکارڈ کروایا ، شیخ رشید

پولیس رات گئے گھر میں داخل ہوئی، ملازمین پر تشدد کر کے زبردستی بیان ریکارڈ کروایا ، شیخ رشید

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ 31 مئی کو فورس کے تشدد سے زخمی ہونے والے ملازمین کو مار پیٹ کر ان سے زبردستی بیان ریکارڈ کروایا گیا ہے کہ ہم پے کوئی تشدد نہیں ہوا اور ہمارا بازو گرنے کی وجہ سے ٹوٹا ہے۔

سربراہ عوامی مسلم لیگ کا کہنا تھا کہ پولیس یہ سب کچھ ہماری شکایت پر جج جناب طاہر عباس سپرا کی طرف سے 9 جون کو پولیس کو دیے گئے نوٹس کی وجہ سے کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہماری سیاست کٹی پتنگ کی مانند، سمجھ نہیں آ رہی گڈی کون لوٹے گا، شیخ رشید

شیخ رشید نے کہا کہ صبح 4 بجے سفید کپڑوں میں ملبوس فورس نے میری والدہ کے گھر سوئے ہوئے لال حویلی کے ملازمین پر بے جا تشدد کیا اور محلے والوں نے سادہ کپڑوں کی فورس سے انہیں چھڑوایا، ملک میں جنگل کا قانون ہے، انسان کو حقیر فقیر اور ذلیل بنا دیا گیا۔

سابق وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پولیس ذہنی مریض ہوچکی ہے، قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتا ہوں، ، وقت سدا ایک جیسا نہیں رہتا، سدا بادشاہی صرف خدا کی ہے۔