کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی شرپسندی پھیلانےکی منصوبہ بندی کا بھانڈا پھوٹ گیا

کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی شرپسندی پھیلانےکی منصوبہ بندی کا بھانڈا پھوٹ گیا

آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق ایک مبینہ آڈیو لیک منظرعام پر آنے کے بعد جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بعض ارکان کے کردار پر سوالات اٹھ گئے ہیں جبکہ آڈیو میں کیے گئے دعوؤں اور گفتگو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبینہ آڈیو میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے منسوب افراد کے درمیان گفتگو سنائی دیتی ہے، جس میں راولاکوٹ کی جانب پیش قدمی، گرفتار ساتھیوں کی رہائی اور مختلف مقامات پر افراد کو جمع کرنے سے متعلق بات چیت کی گئی ہے۔

مبینہ آڈیو میں ایک شخص خود کو سیکڑوں مسلح افراد کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی سنائی دیتا ہے، تاہم اس دعوے کی کسی سرکاری یا آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

آڈیو میں بعض متنازع جملے بھی سنائی دیتے ہیں جن پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر آڈیو مستند ثابت ہوتی ہے تو یہ پرامن احتجاج کے دعوؤں کے برعکس ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آڈیو میں کیے گئے بعض دعوے مبالغہ آمیز محسوس ہوتے ہیں، تاہم معاملے کی مکمل حقیقت سامنے لانے کے لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی تنظیم یا گروہ کے خلاف حتمی رائے قائم کرنے سے قبل آڈیو کی فرانزک جانچ اور متعلقہ اداروں کی تحقیقات کا انتظار کیا جانا چاہیے، ان کے مطابق اگر قانون شکنی یا تشدد کی منصوبہ بندی کے شواہد ملتے ہیں تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے۔

دوسری طرف حکام کی جانب سے تاحال اس مبینہ آڈیو لیک پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔