خلاصہ
- برگن اسٹاک: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تازہ دھمکیاں سامنے آنے پر ایرانی وفد نے سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت سے احتجاج انکار کردیا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے مرحلے میں پاکستان کی ثالثی کے تحت امریکا اور ایران کی اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے درمیان 45 منٹ تک تفصیلی بات چیت ہوئی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پہلے راؤنڈ میں لبنان کی صورتحال، آبنائے ہرمز، ایرانی جوہری ذخائر اور آئندہ 60 روزہ مذاکراتی عمل کے خدوخال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان واضح اور کھل کر گفتگو ہوئی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں طے پانے والے نکات پر پیش رفت کا جائزہ لینا، اعتماد سازی کے اقدامات آگے بڑھانا اور مستقبل کے سفارتی لائحہ عمل کے لیے فریم ورک کو حتمی شکل دینا ہے۔
سفارتی ذرائع نے بتایا کہ برگن اسٹاک میں ہونے والے یہ مذاکرات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک اہم مرحلہ ہیں، اگر فریقین تکنیکی معاملات پر پیش رفت میں کامیاب رہے تو اس سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل کو مزید تقویت مل سکتی ہے اور خطے میں کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان بھی فریقین کے ہمراہ موجود ہیں، امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور نمائندہ خصوصی اسٹیو ویٹکوف شامل ہیں جبکہ ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں۔