گروپ کیپٹن عاصم قتل کیس کا ملزم 14 روزہ شناخت پریڈ کیلئے جیل منتقل

گروپ کیپٹن عاصم قتل کیس کا ملزم 14 روزہ شناخت پریڈ کیلئے جیل منتقل

مقدمے کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی، اس موقع پر پراسیکیوٹر راجا نوید، تفتیشی افسر اور دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ پولیس نے ملزم سعد عباسی کو سخت سیکیورٹی حصار میں عدالت کے روبرو پیش کیا۔

عدالت نے ملزم کو شناخت پریڈ کے لیے جیل منتقل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو شناخت پریڈ مکمل ہونے کے بعد رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی ملزم کو 20 جولائی کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی شناخت پریڈ کرانا ضروری ہے، جبکہ پراسیکیوٹر راجا نوید نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں 2 چشم دید گواہ بھی موجود ہیں۔

اس موقع پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ملزم سے استفسار کیاکہ اس نے یہ اقدام کیوں کیا؟ جس پر سعد عباسی نے جواب دیا کہ وہ ایک لڑکی کے ساتھ موجود تھا اور مقتول انہیں پریشان کر رہے تھے، اس پر جج نے ریمارکس دیے، ’ڈسٹرب کیا، کیا اچھا کام کر رہے تھے، جو ڈسٹرب کیا؟‘

دوسری اجنب پولیس کا کہنا تھا کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کا مقدمہ کمانڈنٹ ایئر ہیڈکوارٹر کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں درج کیا گیا ہے، جس میں قتل اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کی سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔